زید اپنے والدین کی نمازوں کا فدیہ دینا چاہتا ہے اور اماؤنٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے حیلہ شرعی کرے گا تو کیا وہ اپنے بھائی سے اس کا حیلہ کروا سکتا ہے؟

زید اپنے والدین کی نمازوں کا فدیہ دینا چاہتا ہے اور اماؤنٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے حیلہ شرعی کرے گا تو کیا وہ اپنے بھائی سے اس کا حیلہ کروا سکتا ہے؟

زید اپنے والدین کی نمازوں کا فدیہ نہ اپنے بھائی کو ادا کر سکتا ہے نہ ہی اس کا حیلہ کروا سکتا ہے کیونکہ فدیہ کا مصرف بھی صدقات واجبہ ہی کی طرح ہے،تو جیسے اور صدقات واجبہ اولاد کو نہیں دے سکتے اسی طرح فدیہ بھی صاحب فدیہ کی اولاد کو نہیں دے سکتے۔فتاوی رضویہ میں ہے:” مصرف اس کا مثل مصرفِ صدقہ فطر و کفارہ یمین وسائر کفارات و صدقات واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلاً شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کونہیں دے سکتے کافر کونہیں دے سکتے، جو صاحبِ فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی، نواسا نواسی، یا صاحبِ فدیہ جس کی اولاد میں جیسے ماں باپ ، دادا دادی، نانانانی ، انہیں نہیں دے سکتے ، اور اقربا مثلاً بہن بھائی ، چچا ، ماموں خالہ ، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا ، بھانجی، ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں۔۔الخ“

(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ535)

اپنا تبصرہ بھیجیں