اگر ایک شخص رقم لگائے اور دوسرا کام کرے تو کیا نفع آدھا آدھا تقسیم کر سکتے ہیں؟

اگر ایک شخص رقم لگائے اور دوسرا کام کرے تو کیا نفع آدھا آدھا تقسیم کر سکتے ہیں؟

ایک شخص کا مال ہو اور دوسرا اس سے کام کرے تو اس کو مضاربت کہتے ہیں اور مضاربت میں بھی دوسرے کاموں کی طرح نفع باہمی رضامندی سے طے کیا جا سکتا ہے،اگر آدھا آدھا طے کیا تو بھی جائز ہے۔مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مضاربت کی پانچویں شرط بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں:” نفع دونوں کے مابین شائع ہو یعنی مثلاًنصف نصف یا دوتہائی ایک تہائی یا تین چو تھائی ایک چوتھائی، نفع میں اِس طرح حصہ معیّن نہ کیا جائے جس میں شرکت قطع ہوجانے کا احتمال ہو مثلاً یہ کہہ دیا کہ میں سو۱۰۰روپیہ نفع لوں گااِ س میں ہوسکتا ہے کہ کل نفع سو ہی ہویا اس سے بھی کم تو دوسرے کی نفع میں کیوں کر شرکت ہوگی یا کہہ دیا کہ نصف نفع لوں گا اور اُس کے ساتھ دس۱۰ روپیہ اور لوں گا اِس میں بھی ہوسکتا ہے کہ کل نفع دس۱۰ ہی روپے ہوتو دوسرا شخص کیا پائے گا۔“(بہار شریعت،جلد3،حصہ14،صفحہ2)

اپنا تبصرہ بھیجیں