گود لئے ہوئےبچے کے والد کے نام کی جگہ گود لینے والے کا نام لکھنا کیوں منع ہے؟

گود لئے ہوئےبچے کے والد کے نام کی جگہ گود لینے والے کا نام لکھنا کیوں منع ہے؟

گود لئے ہوئے بچے کے والد کے نام کی جگہ اپنا نام بطور والد لکھنا حرام ہے کہ یہ نسب کی تبدیلی ہے اور نسب بدلنا گناہ ہے۔اللہ پاک فرماتا ہے:” اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ“ترجمہ:انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔

(الاحزاب:5)

تفسیر:” بچہ گود لینا جائز ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گود میں لینے والا عام بول چال میں یاکاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کر سکتا بلکہ سب جگہ حقیقی باپ کے طور پر اس بچے کے اصلی والد ہی کا نام استعمال کرنا ہوگا اور اگر اصلی باپ کا نام معلوم نہیں تو اس کی معلومات کروا کر باپ کے طورپر حقیقی باپ کا نام لکھنا ہو گا اور اگر کوشش کے باوجود کسی طرح اس کے اصلی باپ کا نام معلوم نہ ہو سکے تو گود لینے والا گفتگو میں حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام ہر گز استعمال نہ کرے اور نہ ہی بچہ اسے حقیقی والد کے طور پراپنا باپ کہے ،اسی طرح کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے حقیقی والد کے کالم میں ہر گز نہ لکھے۔۔الخ“

(صراط الجنان،جلد7،صفحہ558)

اپنا تبصرہ بھیجیں