اگر فرض کی پہلی دونوں رکعتوں میں قراءت نہ کی اور آخری دو میں کرلی تو کیا قراءت کا فرض ادا ہوجائے گا؟
اگر کسی نے پہلی دو رکعتوں میں قراءت نہیں کی اور بعد والی میں قراءت کرلی تو قراءت کا فرض ادا ہوجائے گا کیونکہ پہلی دو رکعت میں قراءت ہونا واجب ہے فرض نہیں یعنی اگر بعد والی دو رکعت میں کسی نے قراءت کرلی تو فرض ادا ہوگیا لیکن واجب کا ترک ہوا،اگر بھول کر ایسا ہوا تو سجدہ سہو واجب ہوگا اور جان کر ایسا کیا تو گناہ گار ہوگا اور نماز دوبارہ ادا کرنا واجب ہے۔شامی میں ہے:”ان محلھا الاولیان منہ عینا فیجب کونھا فیھما وھو المشھور فی المذھب الذی علیہ المتون وھو الصحیح“ترجمہ:قراءت کا محل پہلی دو رکعتوں میں تعیین کے ساتھ ہے تو واجب ہے قراءت کا پہلی دو میں ہونا اور یہی مشہور ہے اس مذہب میں جس پر متون ہیں اور یہی صحیح ہے۔
(شامی،جلد2،صفحہ188،دار المعرفہ)
عالمگیری میں ہے:”واما محل القراءۃفی الفرائض الرکعتان ھکذا فی المحیط ثنائیا کان او ثلاثیا او رباعیاوسواء کانتا اولیین او اخریین او مختلفین۔۔حتی لو لم یقرا فی واحدۃ منہ او قرافی واحدۃ فقط فسدت صلاتہ“یعنی:فرائض میں قراءت کا محل دو رکعتیں ہیں ایسا ہی محیط میں ہے چاہے دو رکعت والی نماز ہو یا تین والی یا چار والی برابر ہے کہ قراءت پہلی دو میں ہو یا آخری دو میں یا دو مختلف رکعتوں میں یہاں تک کہ اگر کسی میں قراءت نہ کی یا ایک میں کی تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
(عالمگیری،جلد1،صفحہ69)