زکوۃ کے پیسوں سے مسجد کے باہر عوام کے لئے فلٹر پلانٹ لگانا کیسا؟
اولا تو یہ یاد رکھیں کہ رقم زکوۃ کی ہو یا اس کے علاوہ،مسجد میں فلٹر پلانٹ لگوانا کہ لوگ اس میں سے پانی بھریں یہ جائز نہیں کیونکہ مسجد کا پانی صرف نمازیوں کے لئے ہوتا ہے۔زکوۃ کی رقم سے مسجد کے باہر فلٹر پلانٹ لگوایا تو اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ زکوۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنانا شرط ہے اور یہاں یہ شرط نہیں پائی جارہی۔فتاوی رضویہ میں ہے:” زکوٰۃ کا رکن تملیکِ فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا ) ہے ۔ جس کام میں فقیر کی تملیک نہ ہو ، کیسا ہی کارِ حَسن ہو جیسے تعمیرِ مسجد یا تکفینِ میت یا تنخواہِ مدرسانِ علمِ دین ، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہوسکتی ۔ “
(فتاوی رضویہ،جلد10،صفحہ269)