ڈپازٹ میں رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

ڈپازٹ میں رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

ڈپازٹ دی گئی رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض میں دی ہوئی رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر خود یا دیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچ جائے تو شرائط پائی جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوگی البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا پانچواں حصہ وصول ہوجائے۔فتاوی اہلسنت میں ہے:”مذکورہ پیسوں پر بھی زکوۃ فرض ہوگی البتہ زکوۃ کی ادائیگی اسی صورت میں لازم ہوگی جب نصاب کا خمس یعنی پانچواں حصہ وصول ہوگا۔شرعا یہ دین قوی بنتا ہے۔“

(فتاوی اہلسنت،صفحہ274)

اپنا تبصرہ بھیجیں