اگر کسی نے زنا کیا اور اس سے حمل رہ گیا پھر زانی اور زانیہ نے نکاح کرلیا تو اولاد ثابت النسب ہوگی ؟

اگر کسی نے زنا کیا اور اس سے حمل رہ گیا پھر زانی اور زانیہ نے نکاح کرلیا تو اولاد ثابت النسب ہوگی ؟

زنا حرام اور جہنم میں لےجانے والا کام ہے،لڑکا لڑکی پر لازم ہے کہ اس سے توبہ کریں۔اگر زنا سے حمل رہ گیا اور لڑکا اور لڑکی نے نکاح کرلیا تو اگر نکاح کےکم از کم چھ مہینے کے بعد بچہ پیدا ہوا تو وہ ثابت النسب ہوگا اور اگر چھ مہینے سے پہلے ہوگیا تو ولد الزنا ہوگا۔در مختار میں ہے:” لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقاً، والولد له ولزمه النفقة“ ترجمہ:اگر زانی نے زانیہ سے نکاح کیا تو اس سے وطی کرنابالاتفاق حلال ہے اور بچہ زانی کا ہوگا اور اس کا نفقہ بھی اس پر لازم ہوگا۔شامی میں ہے:”(قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر، مختارات النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر من وقت النكاح لايثبت النسب“ترجمہ:ان کا یہ کہنا کہ بچہ زانی کا ہوگا یہ اس صورت میں ہے کہ بچہ نکاح کے کم از کم چھ مہینے بعد پیدا ہوا ہو،اگر وقت نکاح سے چھ ماہ سے پہلے پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں ہوگا۔(جلد 3،کتاب النکاح،باب المحرمات،صفحہ49،دار الفکر)

اپنا تبصرہ بھیجیں