آج کل سوشل میڈیا پر ایک آن لائن مارکیٹنگ کا کام کیا جاتا ہے جس میں پہلے لڑکی کے نام کا فیک اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے پھر اس میں کسی انگریز لڑکی کی فحش تصویر اپلوڈ کی جاتی ہےپھر بیرونی ممالک کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور ان کو فوٹو لائیک وغیرہ کی سروسز دی جاتی ہیں ایسا کام کیسا؟
بیان کیا گیا طریقہ حرام کاموں کا مجموعہ ہے،اس کام کو کرنا اور اس سے آمدنی حاصل کرنا حرام ہے۔اولا تو اس میں فیک اکاؤنٹ بنانا دھوکہ ہے،دوسرا فحش تصویریں اپلوڈ کرنا ناجائز اور پھر فوٹو لائیک کی سروس کوئی قابل معاوضہ کام نہیں لہذا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہے۔حدیث پاک میں ہے:”من غشنا فلیس منا“ترجمہ:جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
(مسلم،حدیث164)
قرآن پاک میں ہے:” اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ“ترجمہ:بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
(النور:19)
تفسیر:”اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنیٰ میں بہت وسعت ہے چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں:فحش تصاویر اور وڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا۔ حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا،ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔“ (صراط الجنان،ج6،ص595)