جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا جس کا کوئی پیر نہیں ہوتا اس کا پیر شیطان ہے؟
User ID:سجاد بھٹی راجپوت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ جس کا کوئی پیر و مرشد نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے کہ جب انسان کو راہ ہدایت پر چلانے والا ،سیدھی راہ دکھانے والا ، رہنمائی کرنے والا مرشد ہی نہیں ہو گا تو ایسا انسان شیطان کے جال میں جلد پھنسے گا اور شیطان اسے برے راستے پر چلائے گا اسی لیے بزرگوں نے فرمایا کہ جس کا کوئی پیر نہیں ہوتا اس کا پیر شیطان ہوتا ہے۔ سیدی امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اسی طرح کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:ہاں اولیاء کرام قد سنااللہ باسرارہم کے ارشاد سے دونوں باتیں ثابت ہیں اور عنقریب ہم ان دونوں کو قرآن عظیم سے استنباط کریں گے، ایک یہ کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گا، حضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ، عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں :سمعت کثیرا من المشائخ یقولون من لم یر مفلحا لایفلح یعنی میں نے بہت اولیائے کرام کو فرماتے سنا کہ جس نے کسی فلاح پائے ہوئے کی زیارت نہ کی وہ فلاح نہ پائے گا۔بے پیر کا پیر شیطان ہے عوارف شریف میں ہے : روی عن ابی یزید (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) انہ قال من لم یکن لہ استاد فامامہ الشیطان یعنی سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہوا کہ فرماتے ہے جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔
(فتاویٰ رضویہ ،جلد21،صفحہ495،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
2جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 16دسمبر 2023 ء