غسل میں بالوں اور جڑوں کو دھونے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ فرض غسل کے وقت بالوں کو گیلا کرنا کافی ہے یا بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا لازمی ہے ؟
User ID:بنت حوا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ کہ بال گندھے نہ ہوں تو بالوں سمیت جڑ تک پانی پہنچانا فرض ہے چاہے مرد ہو یا عورت اور اگر بال گندھے ہوئے ہوں تو مرد کے لیے بال کھول کر بالوں کی جڑوں سے نوک تک سارا پانی بہانا فرض ہے البتہ عورت کے لیے جڑوں تک پانی بہانا ضروری ہے بال کھولنا ضروری نہیں جبکہ کھولے بغیر پانی جڑوں تک پہنچ جائے ورنہ کھولنا ضروری ہو گا۔ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:سر کے بال گندھے نہ ہوں تو ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا اور گندھے ہوں تو مرد پر فرض ہے کہ ان کو کھول کر جڑ سے نوک تک پانی بہائے اورعورت پر صرف جڑ تر کرلینا ضروری ہے کھولنا ضرور ی نہیں ، ہاں اگر چوٹی اتنی سَخْت گُندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی تو کھولنا ضروری ہے۔
(بہار شریعت، جلد1،حصہ2،صفحہ320،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
23جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 6جنوری 2024 ء