کھڑے ہو کر شلوار پہننے اور بیٹھ کر عمامہ باندھنے کا نقصان
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا کھڑے ہو کر شلوار پہننے یا بیٹھ کر عمامہ باندھنے سے لا علاج بیماری ہوتی ہے؟
User ID:محمد عثمان سلطانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ کوئی عذر نہ ہوتو کھڑے ہو کر عمامہ باندھنا چاہیے اور بیٹھ کر شلوار پہننی چاہیے کیونکہ ایک روایت میں بیٹھ کر عمامہ باندھنے اور کھڑے ہو کر شلوار پہننے سے لا علاج بیماری ہونے کی وعید موجود ہے اگرچہ بیٹھ کر عمامہ باندھنا یا کھڑے ہو کر شلوار پہننا بھی جائز ہے گناہ نہیں۔ کشف الالتباس میں منقول ہے :”مَن تَعَمَّمَ قَاعِداً اَو تَسَروَلَ قَائِماً اِبتَلاہُ اللّٰہ تَعَالٰی بِبَلائٍ لَا دَوَائَ لہ”یعنی جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا یا کھڑے ہو کر شلوار پہنی تو اللہ پاک اسے ایسی مصیبت میں مبتلا فرما دے گا کہ جس کی کوئی دوا نہ ہوگی۔
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر شملہ، صفحہ 39)
حافظ عبدالحق شبیلی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :”فعلیک ان تتعمم قائما و تتسرول قاعدا”یعنی پس تجھ پر لازم ہے کہ تو کھڑے ہو کر عمامہ باندھے اور بیٹھ کر شلوار پہنے۔
(سبل الھدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، الباب الثانی فی سیرتہ ﷺفی العمامۃ و العذبۃ و التَّلَحِّی، الجزالسابع، صفحہ 443، مطبوعہ القاھرۃ)
مزید فرماتے ہیں کہ شیخ، حافظ الشام، برہان الدین محمد بن یوسف باجی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب “قلائدالعقیان فیما یورث الفقر والنسیان” میں تحریر فرماتے ہیں :”ان التعمم قاعدا و التسرول قائما یورثان الفقر و النسیان”یعنی بے شک بیٹھ کر عمامہ باندھنا اور کھڑے ہوکر شلوار پہننا، یہ دونوں تنگدستی اور نسیان کو پیدا کرتی ہیں۔
(سبل الھدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، الباب الثانی فی سیرتہ ﷺفی العمامۃ و العذبۃ و التَّلَحِّی، الجزالسابع، صفحہ 444 مطبوعہ القاھرۃ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
5رجب المرجب 1444ھ/ 18جنوری 2024 ء