جادو میں اثر اور اس کے توڑ کا حکم

جادو میں اثر اور اس کے توڑ کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا جادو سے بندش ہو سکتی ہے اور کیا اس کا توڑ ممکن ہے؟

User ID:نعیم شہزاد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ جادو کا ثبوت قرآن مجید سے ہے اور اس میں اثر بھی ہوتا ہے چاہے اس میں کفریہ کلمات ہوں اور اس کا توڑ روحانی کلمات ،مقدس کلمات قرآنیہ کے ذریعے ہو سکتا ہے جب جادو میں اثر ہے تو مقدس کلمات قرآنیہ میں کیسے اثر نہیں ہو سکتا ۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے :مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور اسباب کی تاثیر اللہ تعالیٰ کی مَشِیَّت یعنی چاہنے کے تحت ہے۔ یعنی اللہ عزوجل چاہے تو ہی کوئی شے اثر کرسکتی ہے،اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو آگ جلا نہ سکے، پانی پیاس نہ بجھا سکے اوردوا شِفا نہ دے سکےجادو میں اثر ہے اگرچہ اس میں کفریہ کلمے ہوں۔ جب جادو میں نقصان کی تاثیر ہے تو قرآنی آیات میں ضرور شفا کی تاثیر ہے۔یونہی جب کفار جادو سے نقصان پہنچا سکتے ہیں تو خدا کے بندے بھی کرامت کے ذریعہ نفع پہنچا سکتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بیماروں ، اندھوں اورکوڑھیوں کو شفا بخشنا خود قرآن مجید میں موجود ہے۔

( صراط الجنان ،سورۃ البقرۃ ،تحت الآیۃ 102)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ،آپ فرماتی ہیں کہ جب حضور پُر نور ﷺ کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضورِ اَقدس ﷺ مُعَوَّذات(یعنی سورہِ فَلق اور سورہِ ناس) پڑھ کر اس پر دم فرماتے۔

( مسلم، کتاب السلام، باب رقیۃ المریض بالمعوّذات والنّفث، ص۱۲۰۵، الحدیث: ۵۰(۲۱۹۲))

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

26رجب المرجب 1445ھ/ 7فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں