بچوں کو نماز کا حکم دینے میں شرعی حکم

بچوں کو نماز کا حکم دینے میں شرعی حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بچوں کی عمر کے لحاظ سے ان کو نماز کا حکم دینے کا کیا انداز ہونا چاہیے؟ انہیں نماز کے لیے مار سکتے ہیں یا نہیں ؟

User ID:محمد جواد عطاری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ بچہ جب سات سال کا ہو جائے اسے سختی سے نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال کا ہو تو اسے مار کر نماز پڑھنے کا کہا جائے ہاں مارنے میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ضرب شدید یعنی سخت مار نہ ہو جس سے جسم پر نشان وغیرہ پڑھیں یا چہرے وغیرہ نازک اعضاء پر بھی نہیں مار سکتے۔ ابو داود نے بطریق عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدّہ روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ’’‏‏‏‏ مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ . ‘‘ ترجمہ: جب تمھارے بچّے سات برس کے ہوں ، تو اُنھیں نماز کا حکم دو اور جب دس برس کے ہو جائیں ، تو مار کر پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر دو ۔

( ’’ سنن أبي داود ‘‘ ، کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ، الحدیث : ۴۹۵ ، ج ۱ ، ص ۲۰۸)

بہار شریعت میں ہے: بچّہ کی جب سات برس کی عمر ہو، تو اسے نماز پڑھنا سکھایا جائے اور جب دس برس کا ہو جائے، تو مار کر پڑھوانا چاہیے۔

(بہار شریعت،جلد1،حصہ3،صفحہ447،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

4شعبان المعظم 1445ھ/ 15فروری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں