سجدے میں ناک کی ہڈی جمانے کا حکم

سجدے میں ناک کی ہڈی جمانے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ نماز میں ناک کی ہڈی زمین پر جما کر رکھی جائے یا اٹھا کر رکھی جائے؟

User ID:صاغر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ سجدے میں پیشانی کا زمین پر جمنا فرض ہے اور ناک کی ہڈی کا جمنا واجب ہے پیشانی و ناک اچھی طرح جم گئے تو نماز ہوجائے گی اور اگر پیشانی نہ جمی تو نماز ہو گی ہی نہیں کہ سجدہ نہ ہوا اور اگر ناک کی ہڈی نہ جمی تو نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا کہ واجب ترک ہوا۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ والرضوان فتاوی امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ،سجدہ میں پیشانی کو زمین پر جمنا فرض ہے،اور ناک اس طرح جمایا کہ جو حصّہ ناک کا نرم ہے اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جم جائے یہ واجب۔اگر ناک کی نوک زمین سے چھوگئی اور ہڈی نہ لگی نماز واجب الاعادہ ہوئی۔

(فتاوی امجدیہ، جلد1،صفحہ84،مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

28جمادی الاخریٰ 1444ھ/ 15دسمبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں