احرام کا کفارہ حرم میں دیں یاپاکستان میں

سوال:حالتِ احرام میں کفارہ پڑ گیااب کفارہ پاکستان میں دے یاحرم میں دیناپڑے گا؟

User ID: Muhammad Arshad

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

احرام کی پابندیوں کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے جوکفارے لازم ہوتے ہیں انکاحکم یہ ہے کہ دَم(جانورکی قربانی)واجب ہو توحرم میں ہی قربان کرناضروری ہے اگرخودواپس آچکے تووہاں کسی کے ذریعے یہ کروایاجاسکتاہے۔اوراگرصدقہ فطروغیرہ لازم آئے توانھیں اپنے ملک میں بھی اداکرسکتے ہیں۔

ہدایہ میں ہے: ثم الصوم يجزيه في أي موضع شاءلأنه عبادة في كل مكان وكذلك الصدقة عندنا لما بينا وأما النسك فيختص بالحرم بالاتفاق لأن الإراقة لم تعرف قربة إلا في زمان أو مكان، وهذا الدم لا يختص بزمان فتعين اختصاصه بالمكان۔ترجمہ:جرمِ غیراختیاری میں روزہ جہاں رکھناچاہے جائزہے کہ یہ ہرمکان میں عبادت ہے اسی طرح صدقہ بھی۔ہاں قربانی باالاتفاق حرم کیساتھ خاص ہے کہ خون بہاناخاص زمانے یامکان کے بغیرعبادت نہیں ہوتااوراس دَم کیلئے زمانہ توخاص نہیں ہے توپھرمکان کاخاص ہوناہی متعین ٹھہرا۔(عنایہ،کتاب الحج،جلد3،ص41،مصر)

عنایہ میں ہے: (أو في مكان) كما في دماء الكفارات۔ ترجمہ:خاص مکان ہونےسے مرادکفاروں کے دَم۔ (ایضا)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

24جمادی الثانی 1445ھ/08جنوری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں