بچہ کی صحتیابی کے لئے بکرامنت مانا

سوال:بچہ بیمارتھااسکی صحتیابی کے لئے بکرامنت ماناگیا توکیا یہ صدقہ نافلہ ہے یاواجبہ؟

User ID: Akhlaq Ahmed

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اگراتنی آواز سے اس طرح کے الفاظ کہے کہ اگربچہ صحتیاب ہواتومیں بکراذبح کروں گایااللہ کے لئے بکراذبح کروں گایابکراذبح کرنے کی منت مانتاہوں توبچے کے صحتیاب ہونے پراس منت کوپوراکرناواجب ہے اور یہ صدقہ واجبہ ہے جسے شرعی فقراء ہی کھاسکتے ہیں ہاں اگربزرگوں کے نام کی منت مانی گئی تھی جیسے غوث اعظم کے نام کابکراتویہ صدقہ نافلہ ہے۔

شامی میں ہے:(ويجري ذلك) المذكور (في كل ما يتعلق بنطق)۔۔۔(شامی،کتاب الصلوۃ،ج1،ص535، بیروت)

ہندیہ میں ہے:إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة۔۔۔ويلزمه عين ما سمى۔(ہندیہ،کتاب الایمان،ج2،ص65،بیروت)

تبیین شرح کنزمیں ہے:وإن وجبت بالنذر فليس لصحابها أن يأكل منها شيئا، ولا أن يطعم غيره من الأغنياء سواء كان الناذر غنيا أو فقيرا؛ لأن سبيلها التصدق،۔ترجمہ:منت کی قربانی واجب تھی تونہ خود کھاسکتاہے نہ اغنیاء کوکھلاسکتاہے چاہے یہ خود امیرہویافقیر کیونکہ اسکی راہ صدقہ کرناہے۔(تبیین،کتاب الایمان،ج6،ص8،قاھرہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

تیموراحمدصدیقی

29جمادی الاخری 1445ھ/12جنوری 2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں