میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر میت کو منتقل کرنا کیسا ہے ؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
مستحب یہی ہے کہ جو شخص جس جگہ فوت ہو اسے اسی علاقہ کے قبرستان میں دفن کردیا جائے ۔مراقی الفلاح میں ہے
’’ ویستحب الدفن فی المقبرۃ محل مات بہ أو قتل‘‘
یعنی مستحب ہے کہ جس جگہ فوت ہوا یا قتل ہوا اسے اسی علاقہ کے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔ (مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح،کتاب الصلوٰۃ،باب أحکام الجنائز،صفحہ227،المکتبۃ العصریۃ)
ردالمحتار میں ہے
’’(قولہ یندب دفنہ فی جہۃ موتہ)أی فی مقابر أہل المکان الذی مات فیہ أو قتل‘‘
یعنی صاحب در مختار کا قول کہ اسکی موت کی جگہ میں دفن کرنا مستحب ہے یعنی جس جگہ وہ فوت ہویا قتل ہوا وہاں کے لوگ جہاں دفن کرتے ہیں وہاں دفن کرنا مستحب ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،فروع فی الجنائز،جلد2،صفحہ239،دار الفکر،بیروت)
تبیین الحقائق کے حاشیۃ الشلبی میں ہے
’’ والمستحب أن یدفن کل فی مقبرۃ البلدۃ التی مات فیہا‘‘
ترجمہ: مستحب ہے کہ جس شہر میں فوت ہوا ہو اس شہر کے قبرستان میں اسے دفن کیا جائے ۔(حاشیۃ الشِّلْبِی مع تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الصلوٰۃ،باب الجنائز،جلد1،صفحہ 246، المطبعۃ الکبری الأمیریۃ ، القاہرۃ)
جہاں تک میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق علمائے کرام کے دو اقوال ہیں:
(1) بعض علماء نے فرمایا کہ مطلقا میت کو دوسرے شہر میں منتقل کرنا جائز ہے۔
(2) بعض نے کہا میت کو دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے۔
اب یہ مکروہ تحریمی ہے یا تنزہی اس کے متعلق علماء کے دو اقوال ہیں:۔
(1) بعض علماء نے فرمایا کہ اس مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے۔
(2) بعض علماء نے فرمایا کہ مکروہ تنزیہی ہے۔
اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
(1) بعض علماء نے صراحت کی کہ میت کو دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ نہیں ہے۔ردالمحتار میں البزازیہ کے حوالے سے ہے
’’قال فی البزازیۃ:نقل المیت من بلد إلی بلد قبل الدفن لا یکرہ‘‘
ترجمہ: بزازیہ میں کہا کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا دفن سے قبل مکروہ نہیں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،جلد6،صفحہ428،دار الفکر،بیروت)
درمختار میں ہے
’’ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ‘‘
ترجمہ: دفن سے قبل میت منتقل کرنے میں حرج نہیں۔ (درمختار مع رد المحتار،کتاب الصلوٰۃ،فروع فی الجنائز،جلد2،صفحہ239،دار الفکر،بیروت)
فتح باب العنایہ بشرح نقایہ میں تجنیس کا حوالہ یوں پیش کیا گیا ہے
’’قال صاحب الہدایۃ فی التجنیس:لا إثم فی النقل من بلد إلی بلد‘‘
صاحب ہدایہ نے تجنیس میں فرمایا کہ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا گناہ نہیں ہے۔ (فتح باب العنایۃ بشرح النقایۃ)
المحیط البرہانی میں ہے
’’ذکر شیخ الإسلام فی شرحہ أن نقل المیت من بلد إلی بلد لغرض لیس بمکروہ.وفی العیون :ذکر مطلقاً أن نقل المیت من بلد إلی بلد لیس بمکروہ‘‘
ترجمہ: شیخ الاسلام نے اپنی شرح میں فرمایا کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا کسی غرض کے سبب مکروہ نہیں ہے۔ اور عیون میں مطلقا ذکرکیا کہ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ نہیں ہے۔(المحیط البرہانی،کتاب الاستحسان والکراہۃ،الفصل الخامس عشر فی نقل المیت ،جلد5،صفحہ359، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
البحرالرائق میں ہے
’’قال فی الواقعات والتجنیس: القتیل أو المیت یستحب لہما أن یدفنا فی المکان الذی قتل أو مات فیہ فی مقابر أولئک القوم لما روی عن عائشۃ رضی اللہ عنہا أنہا زارت قبر أخیہا عبد الرحمن بن أبی بکر رضی اللہ عنہما وکان مات بالشام وحمل من ہناک فقالت: لو کان الأمر فیک بیدی ما نقلتک ولدفنتک حیث مت لکن مع ہذا إذا نقل میلا أو میلین أو نحو ذلک فلا بأس، وإن نقل من بلد إلی بلد فلا إثم فیہ؛ لأنہ روی أن یعقوب صلوات اللہ علیہ مات بمصر فحمل إلی أرض الشام وموسی علیہ السلام حمل تابوت یوسف علیہ السلام بعد ما أتی علیہ زمان إلی أرض الشام من مصر لیکون عظامہ مع عظام آبائہ وسعد بن أبی وقاص مات فی ضیعۃ علی أربعۃ فراسخ من المدینۃ فحمل علی أعناق الرجال إلی المدینۃ اہ‘‘
یعنی واقعات اور تجنیس میں ہے مستحب ہے کہ جس مکا ن پر وہ قتل یا فوت ہوا اسی قوم کے قبرستان میں دفن کردیا جائے ۔ اسلئے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر کی زیارت کی اور وہ شام میں فوت ہوئے اور انہیں وہاں سے لایا گیا ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایااگر معاملہ میرے ہاتھ ہوتا تو میں آپ کو منتقل نہ کرتی بلکہ وہیں دفن کرتی جہاں آپ فوت ہوئے تھے۔لیکن اس کے ساتھ ہے کہ اگر ایک میل یا دو میل یا اسی کی قریب وغیرہ میں منتقل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں اور اگر دوسرے شہر میں منتقل کیا جائے تو کوئی گناہ نہیں۔اسلئے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ مصر میں فوت ہوئے اور انہیں شام میں لایا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت بعد زمانہ گزرنے کے مصر سے شام لے گئے ان کے آباء کے پاس دفن کرنے کے لئے۔ سعد بن ابی وقاص ضیعہ میں فوت ہوئے جو مدینہ سے چار فرسخ کے فاصلہ پر تھا لیکن لوگ اسے اپنے کندھوں پر سوار کرکے مدینہ لائے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق،کتاب الجنائز،الصلاۃ علی المیت فی المسجد،جلد2،صفحہ210،دار الکتاب الإسلامی)
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے
’’ذہب الحنفیۃ والشافعیۃ والحنابلۃ إلی أنہ لا یجوز نقل المیت من مکان إلی آخر بعد الدفن مطلقا۔۔۔ وأما قبل دفنہ فیری الحنفیۃ وہو روایۃ عن أحمد أنہ لا بأس بنقلہ مطلقا ، وقیل إلی ما دون مدۃ السفر ، وقیدہ محمد بقدر میل أو میلین‘‘
ترجمہ: حنفیہ،شافعیہ اور حنابلہ اس طرف گئے ہیں کہ بعد دفن میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا مطلقا ناجائز ہے۔ باقی دفن سے قبل منتقل کرنا تو حنفیہ میں احمد سے روایت مروی ہے کہ اس میں مطلقا کوئی حرج نہیں ہے۔ کہاگیا کہ فقط سفر شرعی سے کم تک اجازت ہے اور امام محمد نے قید لگائی کہ میل دو میل تک اجازت ہے۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ،جلد21،صفحہ10، دارالسلاسل ،الکویت)
(2) بعض علماء نے فرمایا کہ دوسرے شہر منتقل کرنا مکروہ ہے چنانچہ المحیط البرہانی میں ہے
’’قال محمد رحمہ اللہ فی السیر : أحب إلینا أن ندفن المیت والقتیل فی المکان الذی مات فیہ فی مقابر المسلمین وإن نقل میلاً أو میلین أو نحو ذلک فلا بأس بہ، فقد نہی الناس عن النقل میلاً أو میلین، فہذا دلیل علی أن الزیادۃ علی ذلک مکروہ۔۔فیہ تشبہ بالیہود وحمل الجنائز من غیر فائدۃ فیکرہ؛ قال شمس الأئمۃ السرخسی فی شرح السیر : لو لم یکن فی نقلہ إلا تأخیر دفنہ، لکان کافیاً فی کراہتہ‘‘
ترجمہ: امام محمد نے سیر میں فرمایا کہ ہمارے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ جس جگہ فوتگی یا قتل ہوا اسی جگہ کہ قبرستان میں اسے دفن کردیاجائے اور اگر میل دو میل تک منتقل کرنا ہوتو کوئی حرج نہیں لیکن لوگوں کو میل دو میل تک سے بھی منع کیا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دو میل سے زائد مکروہ ہے کہ اس میں یہود سے مشابہت ہے اوربغیر فائدہ کے جنازہ اٹھانا ہے تو یہ مکروہ ہے۔ شمس الائمہ نے شرح السیرمیںفرمایا کہ اگر منتقل کرنے میں فقط تاخیر ہی ہوتو یہی مکروہ ہونے کو کافی ہے۔(المحیط البرہانی،کتاب الاستحسان والکراہۃ،الفصل الخامس عشر فی نقل المیت جلد5،صفحہ359، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
ایسا ہی فتح القدیر میں ہے
’’ قال المصنف: وذکر أنہ إذا مات فی بلدۃ یکرہ نقلہ إلی الأخری لأنہ اشتغال بما لا یفید بما فیہ تأخیر دفنہ وکفی بذلک کراہۃ‘‘ (فتح القدیر،کتاب الصلوٰۃ،باب الجنائز،فصل فی الدفن ،جلد2،صفحہ141، دار الفکر،بیروت)
بہارشریعت میں ہے:
’’جس شہر یا گاؤں وغیرہ میں انتقال ہوا وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مستحب ہے اگرچہ یہ وہاں رہتا نہ ہو، بلکہ جس گھر میں انتقال ہوا اس گھر والوں کے قبرستان میں دفن کریں اور دو ایک میل باہر لے جانے میں حرج نہیں کہ شہر کے قبرستان اکثر اتنے فاصلے پر ہوتے ہیں اور اگر دوسرے شہر کو اس کی لاش اٹھا لے جائیں تو اکثر علما نے منع فرمایا اور یہی صحیح ہے۔‘‘ (بہارشریعت،جلد1،حصہ4،صفحہ846،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
ردالمحتار میں ہے
’’(قولہ ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ)قیل مطلقا، وقیل إلی ما دون مدۃ السفر، وقیدہ محمد بقدر میل أو میلین لأن مقابر البلد ربما بلغت ہذہ المسافۃ فیکرہ فیما زادقال فی النہر عن عقد الفرائد: وہو الظاہر اہ ‘‘
ترجمہ: صاحب درمختار کا فرمانا کہ دفن کے قبل میت منتقل کرنے میں حرج نہیں۔ کہا گیا مطلقا حرج نہیں اور کہا گیا کہ مدت سفر نہ ہو تو حرج نہیں اورامام محمد نے قید لگائی کہ میل دو میل تک حرج نہیں کیونکہ شہر کے قبرستان اتنی مسافت پر ہوتے ہیں اور اس سے زائد مکروہ ہے۔نہر میں عقدالفرائد کے حوالے سے فرمایا کہ یہی اظہر ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلوٰۃ،فروع فی الجنائز،جلد2،صفحہ239،دار الفکر،بیروت)
اس مکروہ کے تحریمی یا تنزہی ہونے پر درج ذیل کلام ہے:۔
( 1) علامہ طحطاوی نے اس مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی لی ہے چنانچہ حاشیۃ الطحطاوی میں ہے
’’قولہ:’’بیان أن النقل من بلد إلی بلد مکروہ‘‘أی تحریما لأن قدر المیلین فیہ ضرورۃ ولا ضرورۃ فی النقل إلی بلد ۔۔وقد قال قبلہ” أی قاضیخان قبل نقلہ عبارۃ شمس الأئمۃ السرخسی قولہ: “فإن نقل إلی مصر آخر لا بأس بہ” وظاہرہ عدم کراہۃ النقل من بلد إلی بلد مطلقا قولہ: “لما روی أن یعقوب الخ” وموسی علیہ السلام نقل تابوت یوسف علیہ السلام من مصر إلی الشام بعد زمان قولہ: “قلت الخ” أضلہ للکمال فإنہ قال فی ردہ کلام صاحب الہدایۃ فی التجنیس أنہ لا إثم فی النقل من بلد إلی بلد لما نقل أن یعقوب الخ ما نصہ أن ذلک شرع من قبلنا ولم تتوفر فیہ شروط کونہ من شرعنا ولأن أجساد الأنبیاء علیہم السلام أطیب ما یکون حال الموت کالحیاۃ والشہداء کسعد رضی اللہ عنہ لیسوا کغیرہم ممن جیفتہم أشد نتنا من جیفۃ البہائم فلا یلحق بہم اہ‘‘
یعنی ان کا قول: ایک شہر سے دوسرے شہر تک میت منتقل کرنا مکروہ ہے یعنی مکروہ تحریمی ہے اسلئے کہ دو میل تک ضرورت ہے جبکہ دوسرے شہر تک منتقل کرنا ضرورت نہیں ہے۔ اس سے قبل علامہ قاضی خان نے شمس الائمہ کی عبارت نقل کی کہ اگر ایک شہر سے دوسرے شہر میت منتقل کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔توا س سے ظاہر ہے کہ مطلقا ایک شہر سے دوسرے شہرتک منتقل کرنا مکروہ نہیں ہے اسلئے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق ایسا مروی ہے اور موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت مصر سے شام بعد زمانہ کے منتقل کیا تھا۔ انہوں نے کمال کے متعلق خطا کھائی کیونکہ علامہ کمال صاحب ہدایہ کے اس کلام کا رد کررہے تھے کہ انہوں نے تجنیس میں فرمایا کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک منتقل کرنے میں گناہ نہیں کیونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایسا مروی ہے۔ علامہ کمال نے اس کارد کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ ہم سے پہلی شریعت میں تھا اور اس میں وہ سب شرائط نہیں پائی جاتیں جس کا ہماری شریعت ہونا پایا جائے اسلئے کہ انبیا ء علیہم السلام کے جسم مبارک حیات مبارکہ کی طرح وصال کے بعد بھی صحیح رہتے ہیں اور شہداء جیسے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے توہ وہ دوسروں کی طرح نہیں تھے کہ جن کے جسم مبارک سے بدبو نکلے جو جانوروں سے بھی زیادہو لہٰذا انہیں ان کے ساتھ الحاق نہیں کیا جائے گا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح،صفحہ613،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
(2) بعض نے فرمایاکہ جو علماء نے مکروہ کہا ہے اس سے مراد مکروہ تنزیہی ہے۔ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
’’ فی التجنیس فی النقل من بلد إلی بلد لا إثم لما نقل أن یعقوب علیہ الصلاۃ والسلام مات بمصر ونقل عنہ إلی الشام وموسی علیہ الصلاۃ والسلام نقل تابوت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام بعد ما أتی علیہ زمان من مصر إلی الشام لیکون مع آبائہ اہ ولا یخفی أن ہذا شرع من قبلنا ولم تتوفر فیہ شروط کونہ شرعا لنا إلا أنہ نقل عن سعد بن أبی وقاص أنہ مات فی ضیعۃ علی أربعۃ فراسخ من المدینۃ فحمل علی أعناق الرجال إلیہا اہ وفیہ أنہ نقل حین موتہ لا بعد دفنہ فلا دخل لہ فی القضیۃ ویمکن أن یحمل نقل یعقوب ویوسف عن عذر وأیضا فلا تنافی بین الاثم والکراہۃ إذ الکراہۃ محمولۃ علی التنزیہ‘‘
ترجمہ:تجنیس میں ہے کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف منتقل کرنا گناہ نہیں ہے کہ منقول ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں فوت ہوئے تو انہیں شام کی طرف منتقل کیا گیا اور موسیٰ علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کا تابوت بعد زمانہ گزرنے کے مصر سے شام کی طرف انہیں ان کے آباء کے ساتھ رکھنے میں منتقل کیا۔ مخفی نہیں کہ یہ ہم سے پچھلی شریعت میں تھا جس کی ایسی شرائط نہیں پائی جاتیں جو ہماری شریعت بنے۔ مگر یہ کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ضیعہ میں فوت ہوئے جو مدینہ سے چار فرسخ کے فاصلہ پر تھا اور اسے آدمی اپنے کندھوں پر اٹھا کر مدینے لائے۔اس میں ہے حضرت سعد کو دفن سے قبل منتقل کیا گیا جو اس قضیہ میں داخل نہیں اور ممکن ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے منتقل ہونے کو عذرپر محمول کیا جائے اور اسی طرح گناہ اور کراہت میں کوئی تنافی نہیں کہ کراہت محمول ہے تنزیہ پر۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الجنائز،باب دفن المیت،جلد3،صفحہ1221،دار الفکر، بیروت)
تطبیق:۔
فقہائے کرام کے ان تمام ارشادات میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ جنہوں نے دوسرے شہر منتقل کرنے کو مکروہ تحریمی فرمایا ہے وہ اس صورت میں ہے جب جسم خراب ہونے کا خدشہ ہو۔مرقاۃ میں ہے
’’ردوا القتلی للوجوب، وذلک أن نقل المیت من موضع إلی موضع یغلب فیہ التغیر حرام، وکان ذلک زجرا عن القیام بذلک والإقدام علیہ، وہذا أظہر دلیل وأقوی حجۃ فی تحریم النقل، وہو الصحیح نقلہ السید‘‘
یعنی حضور علیہ السلام کا شہداء کے متعلق فرمانا کہ انہیں اسی جگہ دفن کرو یہ وجوب کے لئے ہے۔یہ اس وجہ سے تھا کہ میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں جسم خراب ہونا غالب ہے جو حرا م ہے۔ اور یہ فرمانا زجرا تھا تاکہ انہیں وہی دفن کیا جائے۔ یہ زیادہ ظاہر اور قوی دلیل حجت ہے میت کے منتقل کرنے کی حرمت پر اور یہی صحیح ہے جسے سید نے نقل کیا۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الجنائز،باب دفن المیت،جلد3،صفحہ1220،دار الفکر، بیروت)
مراقی الفلاح میں ہے
’’قلت یمکن الجمع بأن الزیادۃ مکروہۃ فی تغییر الرائحۃ أو خشیتہا ‘‘
ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ دونوں کو جمع کرنا ممکن ہے کہ زیادہ کی کراہت(تحریمہ)اس صورت میں ہے جب میت کے جسم کے خراب ہونے کا خدشہ ہو یا اس کی بدبو کا خدشہ ہو۔ (مراقی الفلاح شرح متن نور الإیضاح،کتاب الصلوٰۃ،باب أحکام الجنائز،صفحہ227،المکتبۃ العصریۃ)
جن فقہاء نے دفن میں تاخیر کو دلیل بنا کر مکروہ کہا اس سے مراد مکروہ تحریمی لینا درست نہیں کیونکہ دفن میں تاخیر مکروہ تحریمی نہیں ہے۔ دفن میں جلدی مستحب ہے اور مستحب کا ترک مکروہ تحریمی نہیں بلکہ خلاف اولیٰ ہوتاہے۔مجمع الانہر میں ہے
’’( ویستحب تعجیل دفنہ )‘‘
ترجمہ: میت کے دفن میں جلدی کرنا مستحب ہے۔
(مجمع الأنہر فی شرح ملتقی الأبحر،باب صلوٰۃالجنائز،جلد1،صفحہ179، دار إحیاء التراث العربی)
اگرمیت کو دوسرے شہر میں منتقل کرنا کسی صحیح غرض سے ہو جیسے دوسرے شہر میں کسی نبی یا ولی کی قبر کے پاس دفن کرنا ہے یااسکے عزیز واقارب وہاں ہیں جو اس کی قبر پر آتے رہیں گے تو پھر بلا فائدہ فعل میں اشتغال کو جو مکروہ کی دلیل بنایا وہ بھی ختم ہوجانی چاہیے کہ شریعت نے اسے پسند کیا ہے کہ میت کواچھے پڑوس میں دفن کیا جائے اور عزیز واقارب اپنوں کی قبروں کی زیارت کو جائیں۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
’’قلت: فإذا کان یترتب علیہ فائدۃ من نقلہ إلی أحد الحرمین أو إلی قرب قبر أحد من الأنبیاء ، أو الأولیاء ، أو لیزورہ أقاربہ من ذلک البلد، وغیر ذلک، فلا کراہۃ إلا ما نص علیہ من شہداء أحد، أو من فی معناہم، من مطلق الشہداء ، واللہ أعلم‘‘
یعنی میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ پر فائدہ مرتب ہوتا ہے کہ میت کو مکہ مدینہ یا کسی نبی یا ولی کے پاس منتقل کرنا یااس جگہ منتقل کرنا جہاں اس کے اس شہر کے عزیز و اقارب اس کی زیارت کو آئیں اور اسی طرح کے مقاصد کے لئے منتقل کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ مگر یہ کہ جن کے بارے میں نص ہے جیسے شہداء احد یا مطلق شہداء جو اس کے معنی میں ہے انہیں منتقل کرنا درست نہ تھا(حضور علیہ السلام کے فرمان کے سبب)۔واللہ اعلم۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الجنائز،باب دفن المیت،جلد3،صفحہ1221،دار الفکر، بیروت)
حاصل کلام:
حاصلِ کلام یہی ہے کہ میت کو دوسرے شہر میں منتقل کرنا جبکہ اس کے جسم خراب ہونے کا خدشہ نہ ہوتو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔مکروہ تنزیہی ہونے کی دو وجہیں ہیں:ایک دفن میں تاخیر اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عموما یہ منتقلی گاڑی یا ہوائی جہاز کے ذریعے ہوتی ہے اور میت کو کسی سواری پر لیجانا مکروہ ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا:’’اگر جنگل ہے اور میت 30 یا40 میل کے فاصلہ سے دفن ہونے کو دوسری جگہ لیجاویں ،اس صورت میں میت کے ساتھ چلنے والے کھانا پانی کھاویں پیویں یا نہیں؟ ‘‘
جوابا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’جنگل ہونا دفنِ میت کو مانع نہیں اگر کوئی مجبوری ووجہ ضروری نہ ہو تو میت کو اتنی دور لیجانا شرعا منع ہے ۔ہاں میل دو میل میں مضائقہ نہیں کہ شہر کا گورستان اکثر اتنی دور ہوتا ہے۔فتاوٰ ی خلاصہ میں ہے’’ان نقل قبل الدفن قدر میل او میلین فلابأس بہ ‘‘ردالمحتار میں ہے’’(قولہ ولا بأس بنقلہ قبل دفنہ)قیل مطلقا و قیل الی ما دون مدۃ السفر و قیدہ محمد بقدر میل او میلین لان مقابر البلد ربما بلغت ھذہ المسافۃ فیکرہ فیما زاد قال فی النہر عن عقد الفرائد وھو الظاہر اہ اقول مترجح علی اطلاق الدر تبعا للخانیۃ لابأس بنقلہ قبل دفنہ اہ ولفظ الخانیۃلو مات فی غیر بلدہ یستحب ترکہ فان نقل الی مصر اخر لا باس بہ‘‘ حدیث و فقہ ناطق ہیں کہ دفن میں حتی الوسع جلدی چاہئے یہ اس مطلوب شرع مطہر کے خلاف ہوگا۔ پھر اتنی دور تک حرکت جنبش سے رطوبات بدن میں جوش و ہیجان پیدا ہونے اور نجاسات سے کفن خراب ہوجانے کا اندیشہ ہے نیز میت میں بدبو آنے اور اس سے احیا ء ملائکہ کے ایذا پانے کا جیسا کہ مشاہدہ ہوا ہے ۔پھر اتنی دور تک کندھوں پر لیجانا دشوار ہے اگر گاڑی وغیرہ پر بار کیا تو سر پر کراہت کا بار ہے ۔درمختار میں ہے کہ ’’کرہ حملہ علی ظہر دابۃ‘‘ بہرحال اگر ایسا ہوا تو ساتھ والے کھانے پانی سے نہ روکے جائیں گے۔‘‘(فتاوٰی افریقہ ،صفحہ42،43،مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ جب میت کو تکلیف نہ دی جائے یعنی اس کا پوسٹ مارٹم کرکے اسے دوسرے شہر منتقل کرنے کا قانون نہ ہو یا بہت زیادہ وقت لگتا ہوکہ اتنی دیر میت کو برف خانے میں رکھنا پڑے گا ،اگر کوئی ایسی صورت ہوگی تو دوسری جگہ منتقل کرنا ناجائز ہوگا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
’’اس سے معلوم ہو کہ مسلمان مردے کا پوسٹ مارٹم کرنا یااسے مردہ خانہ رکھ کر اس کی کھال اتارنا ،اس کے پرزے اڑادینا ، عرصہ تک دفن نہ کرنا سخت ممنوع ہے۔ ‘‘ (مراۃ المناجیح ،باب دفن ا لمیت،فصل ثانی ، جلد 2، صفحہ496 ، نعیمی کتب خانہ ،گجرات )
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ابو احمد مفتی محمد انس رضا عطاری
19 محرم الحرام 1445ھ بمطابق07 اگست 2023ء