سسر اگر بہو کی گال کا بوسہ لے
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ سسر اگر اپنی بہو کے گال کا بوسہ لے تو کیا حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی اور بیٹے پر اس کی بیوی حرام ہوجائے گی؟ سسر اگر یہ کہے کہ میں نے بطور شفقت گال کا بوسہ لیا ہے تو کیا اس کی یہ بات مانی جائے گی۔شوہر بھی یہ کہتا ہے کہ میرے والد نے میری بیوی کی گال کا بوسہ بطور شفقت لیا ہے کسی غلط ارادے سے نہیں لیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
صورت مسئولہ میں اگرسسر نے اپنی بہو کی گال کا بوسہ لیا ہے تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اگرچہ سسر شہوت کا انکار کرے اسکا اور شوہر کا قول عدم شہوت کے بارے میں نہ سنا جائے گا ۔یہی فقہا کا مختار مذہب ہے۔اب وہ لڑکی نہ اپنے شوہر کیلئے حلال ہے اور نہ ہی اس کے باپ کیلئے ، دونوں پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام ہو گئی ہے ، اب چارہ کار یہی ہےکہ شوہر متارکہ کرے یعنی کہہ دے کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ، بعد عدت وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے،کہ محض حرمت مصاہرت سے نکاح مرتفع نہیں ہوگا ۔
امام کمال ابن ھمام حنفی متوفی 861ھ فرماتے ہیں:
” وفي التقبيل إذا أنكر الشهوة اختلف فيه، قیل لا يصدق لأنه لا يكون إلا عن شهوة غالباً فلا يقبل إلا أن يظهر (۱) خلافه بالانتشار ونحوه، وقيل يقبل، وقيل بالتفصيل بين كونه على الرأس والجبهة والخد، فيصدق أو على الفم فلا “
ترجمہ: بوسہ دینے میں اگر بوسہ دینےوالا شہوت کا منکر ہوتو فقہاء کا اختلاف ہے ، ایک قول یہ ہےکہ اس کی بات نہیں مانی جائےگی کیونکہ منہ کا بوسہ عموماً شہوت سے ہی ہوتا ہے ، لہذا اس کا انکار مقبول نہیں ، مگر یہ کہ اس کا خلاف انتشار وغیرہ کے ذریعہ ظاہر ہو ، اور ایک قول یہ ہےکہ قبول کیا جائے گا ، اور ایک قول میں تفصیل ہے کہ سر ، پیشانی اور گال پہ ہوتو مانا جائےگا اور منہ پہ ہوتو نہیں ۔(فتح القدیر، کتاب النکاح، فصل فی بیان المحرمات ، ج3،ص214، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ ،بیروت لبنان )
فتاوی عالمگیری میں ہے:
” كان الشيخ الإمام الأجل ظهير الدين المرغيناني يفتي بالحرمة في القبلة في الفم والخد والرأس ۔۔۔۔۔ وكان يقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة“
ترجمہ:امام ظہیر الدین مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتوی دیا منہ ،گال ،یا سر پر بوسہ دینے سے حرمت ثابت ہو جائے گی۔۔۔اور فرمایا اس سلسلے میں اس تصدیق نہیں کی جائے گی کہ اسے شہوت نہیں تھی۔(فتاوی عالمگیری ،کتاب النکاح ،ج،ص 276،دار الفكر بيروت)
اور امام اہلسنت امام احمد رضا قادری حنفی متوفی (1340ھ) فرماتے ہیں:
” جس طرح لبوں کا بوسہ لینا خواہی نخواہی بنظر شہوت قرار پائے گا یہاں تک کہ اگر وہ شخص ادعا کرے کہ یہ فعل مجھ سے بنظر شہوت نہ ہوا تو ہرگز قبول نہ کریں گے اور حکم حرمت ابدی دیں گے یہی حال بوسہ رخسار کا ہونا چاہئے کہ یہ بھی بشہوت ہی ٹھہرے گا اور بوسہ لینے والیے کا انکار مسموع نہ ہو گا ۔“(فتاوی رضویہ ، کتاب النکاح ، باب المحرمات ، ج11،ص344، رضافاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”مونھ کا بوسہ لیا تو مطلقاً حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی اگرچہ کہتا ہو کہ شہوت سے نہ تھا۔ یوہیں اگر انتشار آلہ تھا تو مطلقاً کسی جگہ کا بوسہ لیا حرمت ہو جائے گی اور اگر انتشار نہ تھا اور رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا مونھ کے علاوہ کسی اور جگہ کا بوسہ لیا اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول مان لیا جائے گا۔“(بہار شریعت ،ج2،ص25،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
در مختار میں ہے:
”وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة“
ترجمہ:حرمت مصاہرت سے نکاح نہیں اٹھتا یہاں تک کہ اس عورت کے لیے آگے نکاح کرنا بھی جائز نہیں مگر متارکہ کے بعد اور عدت گزر جانے کے بعد۔( الدرالمختار ، کتاب النکاح ، فصل فی المحرمات ،ج3، ص37 ، دارالکتب العلمیۃ ،بیروت)
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ : غلام رسول قادری مدنی
8ربیع الاول 1445ھ
25ستمبر2023ء