منت کے پیسے اپنے بھائی،بہن کو دینا

منت کے پیسے اپنے بھائی،بہن کو دینا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ منت کے پیسے اپنے مستحق بھائی کو دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

User ID:عطاء الرحمن

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر بہن یا بھائی شرعا مستحق زکاۃ ہو تو اسے منت کے پیسے دینا جائز بلکہ افضل ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو۔

(بہار شریعت ،جلد1، حصہ5، صفحہ939، مکتبۃ المدینہ،کراچی)

اپنا تبصرہ بھیجیں