12 اماموں کو معصوم کہنے کا حکم

12 اماموں کو معصوم کہنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا انبیاء کرام علیہم السلام کے علاؤہ بھی کوئی امام معصوم ہیں؟جیسے 12 معصوم امام کہا جاتا ہے۔

User ID:آفتاب ملک

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ شرعاً معصوم(جس سے گناہوں کا صددور ناممکن ہو) صرف و صرف انبیاء کرام علیہم السلام اور فرشتے ہیں البتہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور اولیاء کرام علیہم الرحمہ کو اللہ پاک اپنے کرم سے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے لیکن ایسا نہیں کہ ان سے گناہ کا صادر ہونا ممکن ہی نہیں لہذا انبیائے کرام اور فرشتوں کے سوا بارہ اماموں یا کسی کو بھی معصوم کہنا ہرگز جائز نہیں بلکہ گمراہی و بددینی ہے۔ بہارِشریعت میں ہے:”نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنیٰ ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہولیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے بخلاف ائمہ و اکابر اولیا، کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔“

(بہار شریعت،جلد1،صفحہ39،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

3 جمادی الاولی 5144 ھ18نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں