شرعی سفر کے لیے عورت کا نابالغ محرم
سوال: ایک عورت کا شوہر کی پہلی بیوی سے بیٹا ہے جس کی عمر آٹھ سال ہے کیا اسے بطور محرم عورت عمرے پے ساتھ لے کر جاسکتی ہے؟ اور کیا اس کا محرم ہونا کفایت کرے گا؟
User ID: محمد ابدال شاہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوہر کا بیٹا جو پہلی بیوی سے ہو عورت کے لیے محرم ہوتا ہے لیکن عورت اپنے شوہر کے اس آٹھ سال کے بیٹے کو عمرے پر بطور محرم لے کر نہیں جا سکتی اس کا محرم ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ جس محرم یا شوہر کے ساتھ عورت شرعی سفر کرے اس کا بالغ یا مراہق ہونا شرط ہے جبکہ یہاں آٹھ سال کا بچہ ہے جو کہ نابالغ ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: عورت کو۔۔۔تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اُس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا اور تین دن سے کم کی راہ ہو تو بغیر محر م اور شوہر کے بھی جاسکتی ہے۔محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اُ س عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دُودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضا عی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سُسرالی رشتہ سے حُرمت آئی، جیسے خُسر، شوہر کا بیٹا وغیرہشوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اُس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے۔ مجنون یا نا بالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں جاسکتی آزاد یا مسلمان ہونا شرط نہیں، البتہ مجوسی جس کے اعتقاد میں محارم سے نکاح جائز ہے اُس کے ہمراہ سفر نہیں کرسکتی۔ مراہق و مراہقہ یعنی لڑکا اور لڑکی جو بالغ ہونے کے قریب ہو ں بالغ کے حکم میں ہیں یعنی مراہق کے ساتھ جاسکتی ہے اور مراہقہ کو بھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر کی ممانعت ہے۔
(بہار شریعت جلد1،حصہ6،صفحہ1051،مکتبۃالمدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ
3جمادی الاولی 5144 ھ18 نومبر 2023 ء