وقتی نماز قضا کی نیت سے پڑھ لی تو

وقتی نماز قضا کی نیت سے پڑھ لی تو

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک شخص نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ظہر کا وقت ختم ہو چکا ہے ظہر کی نماز فرض و سنت و نوافل قضا کی نیت سے پڑھی جبکہ ظہر کا وقت ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا تو اس نماز کا شرعی حکم کیا ہو گا؟

User ID:محمد قاسم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ ظہر کی مکمل نماز ادا ہو جائے گی کیونکہ نماز میں قضا یا ادا کی نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی قضا نماز ادا کی نیت سے پڑھیں یا ادا نماز قضا کی نیت سے پڑھیں نماز درست ہو جائے گی۔صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں : ’’قضا یا ادا کی نیت کی کچھ حاجت نہیں، اگرقضا بہ نیت ادا پڑھی یا ادا بہ نیت قضا، تو نماز ہوگئی، یعنی مثلاً وقت ظہر باقی ہے اور اس نے گمان کیا کہ نماز کا وقت جاتا رہا اور اس دن کی نماز ظہر بہ نیت قضا پڑھی یا وقت جاتا رہا اور اس نے گمان کیا کہ باقی ہے اوربہ نیت ادا پڑھی، ہوگئی اور اگر یوں نہ کیا، بلکہ وقت باقی ہے اور اس نے ظہر کی قضا پڑھی، مگر اس دن کے ظہر کی نیت نہ کی تو نہ ہوئی، یوں ہی اس کے ذمہ کسی دن کی نماز ظہر تھی اور بہ نیت ادا پڑھی نہ ہوئی۔ ‘‘

(بہارِ شریعت ،جلداول،حصہ3،صفحہ 495،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

انتظار حسین مدنی کشمیری عفی عنہ

6ربیع الثانی 5144 ھ22 اکتوبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں