زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے شرعی احکام

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے شرعی احکام

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باپ اگر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد سب اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اس کا شرعی طریقہ کار کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورت مستفسرہ کے مطابق زندگی میں جو مال اولاد میں تقسیم کیا جاتا ہے وہ وراثت نہیں ہوتی کہ یہ مرنے کے بعد ملتی ہے۔لہذا اولاد زندگی میں والدین سے جائیداد لینے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ البتہ والد یا والدہ زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو یہ شرعا ہبہ(تحفہ ) کے حکم میں ہے۔اس بارے شرع یہ کہتی ہے کہ سب اولاد بشمول بیٹیوں کو برابر برابر حصہ دیا جائے۔اگر کوئی بیٹیوں کو ایک ایک اور بیٹوں کو دگنا بھی دے تو جائز ہے لیکن یہ ناپسندیدہ عمل ہے۔ اگر کوئی اولاد جو کہ دینی اعتبار سے فضیلت رکھتی ہو یا علم دین حاصل کررہی ہوں اور ابھی وہ کسب معاش نہیں کررہی تو ایسے دوسروں پر فضیلت دینے میں یا اوروں سے زیادہ مال دینے میں حرج نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

”لو وهب شئیاً لأولادہ فی الصحة، وأراد تفضیل البعض علی البعض ، عن أبی حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالی: لابأس بہ اذا کان التفضیل لزیادة فضل فی الدین ، وان کانا سواء، یکرہ، وروی المعلی عن أبی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی أنہ لابأس نہ اذا لم یقصد بہ الاضرار ، وان قصد بہ الاضرار ، سوی بینہم وہو المختار ولو کانا لولد مشتغلاً بالعلم لا بالکسب ، فلا بأس بأن یفضلہ علی غیرہ“

ترجمہ:اگر کسی شخص نے اپنی صحت میں اپنی اولاد کو کوئی شے ہبہ کی اور اس ہبہ میں بعض کو بعض سے زیادہ دینے کا ارادہ کیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک کوئی حرج نہیں جب کہ زیادہ دینا دین میں فضیلت کے اعتبار سے ہو اور اگر سب برابر ہو تو مکروہ ہے معلی نے امام ابو یوسف سے روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اگر ضرر کا قصد نہ ہو اور اگر ضرر رسانی کا اندیشہ ہو تو سب کو برابر دیا جائے اور یہی مختار ہے اگر کوئی اولاد حصول علم دین میں مشغول ہو تو اور کسب نہ کر رہی ہوں تو اس کو اوروں کے مقابلے میں زیادہ دینے میں کوئی حرج نہیں ۔(فتویٰ ھندیہ كتاب الهبة ، الباب السادس فى الهبة للصغير، جلد4، صفحہ 391، مطبوعہ مكتبه رشيديه)

بحر الرائق میں ہے

” وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة“

ترجمہ : اور خلاصہ میں ہے، ہبہ میں مختار یہ ہے کہ مذکر و مونث کے درمیان برابری کرے۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الھبہ، باب ھبۃ الأب لطفلہ جلد 7 صفحہ 288 مطبوعہ دار الفکر بیروت)

در مختار میں ہے

” وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى “

ترجمہ : خانیہ میں ہے، بعض اولاد سے زیادہ محبت کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دلی معاملہ ہے، ایسے ہی عطایا میں بھی اگر ضرر کا قصد نہ ہو اور اگر ضرر کا قصد ہو تو سب میں برابری کرے، بیٹی کو بیٹے کی طرح دے امام ثانی (ابو یوسف) کے نزدیک، اور اسی پر فتوی ہے۔

”علیہ الفتوی“ کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں :

”قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد“ ترجمہ : یعنی امام ابو یوسف کے قول پر یعنی مذکر و مونث میں آدھا آدھا کرنا، امام محمد کے قول تثلیث (یعنی تین حصے کر کے دو مذکر کو اور ایک مؤنث کو دینا) سے افضل ہے۔(الدر المختار کتاب الہبۃ جلد 5 صفحہ 695 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

حاشیۂ طحطاوی میں ہے

”الافضل فی ھبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار“

یعنی بیٹے اور بیٹی کو دینےمیں افضل وراثت والا طریقہ ہے ، جبکہ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک برابر دینا اولیٰ ہے اور یہی قول مختارہے۔(حاشیہ طحطاوی کتاب الھبہ جلد 3 صفحہ 400 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

حاشیہ طحطاوی میں ہے

”یکرہ ذلک عند تساویھم فی الدرجہ کما فی المنح والھندیہ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشغلا بالعلم لا بالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ولایکرہ وفی المنح روی عن امام لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادہ افضل لہ فی الدین“

ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ منح اور ھندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلاً ایک علم دین میں مشغول ہو اور کسب نہیں کرسکتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں حرج نہیں جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں اور منح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتا ہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں۔(حاشیہ طحطاوی کتاب الھبہ جلد 3 صفحہ 299 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)

فتویٰ رضویہ میں امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں:

”مذہبِ مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے۔ یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور”لِذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ “دینا بھی، جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترکِ اولیٰ ہے۔

ردالمحتار میں ہے

:” الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد“ (فتویٰ امام ابو یوسف کے قول پر ہے یعنی لڑکے لڑکی دونوں کو برابر ، برابر دیا جائے ، یہ بہتر ہے لڑکے کو لڑکی سے دُگنا دینے والے قول سے اور یہ قول امام محمد علیہ الرحمۃ کا مذہب ہے

بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولیٰ تسویہ( یعنی برابر ، برابر )، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو ، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں ۔“(فتاوٰی رضویہ ،جلد 19،صفحہ231 ،رضا فاؤنڈیشن لاھور)

بہار شریعت میں ہے :

” اولاد کو ہبہ کرنے میں لڑکی اور لڑکا دونوں کو برابر دے یہ نہیں کہ لڑکے کو لڑکی سے دو چند دے دے جس طرح میراث میں ہوتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی سے دونا ملتاہے ہبہ میں ایسا نہیں…………بعض اولاد کے ساتھ محبت زیادہ ہو بعض کے ساتھ کم یہ کوئی ملامت کی چیز نہیں کیونکہ یہ فعل غیر اختیاری ہے اور عطیہ میں اگر یہ ارادہ ہو کہ بعض کو ضرر پہنچاوے تو سب میں برابری کرے کم وبیش نہ کرے کہ یہ مکروہ ہے۔“(بہار شریعت جلد 2 حصہ 14 صفحہ 81 82 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے “

” اگر اولاد میں ایک کودوسرے پر دینی فضیلت وترجیح ہے مثلاً ایک عالم ہے جو خدمت علم دین میں مصروف ہے یا عبادت ومجاہدہ میں اشتغال رکھتا ہے ایسے کو اگر زیادہ دے اور جو لڑکے دنیا کے کاموں میں زیادہ اشتغال رکھتے ہیں انھیں کم دے یہ جائز ہے اِس میں کسی قسم کی کراہت نہیں۔“(بہار شریعت، ہبہ کا بیان جلد3، حصہ14، صفحہ 82 ، مطبوعہ مکتبۃالمدینہ کراچی )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

01ربیع الآخر 1445ھ18اکتوبر 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں