قسم سچی ہو یا جھوٹی، کیا نہیں کھانی چاہیے؟

قسم سچی ہو یا جھوٹی، کیا نہیں کھانی چاہیے؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قسم سچی ہو یا جھوٹی نہیں کھانی چاہیے،شرع اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شرعااللہ پاک کے نام کی جھوٹی قسم کھانا ناجائز و گناہ ہے لیکن اگر کوئی اللہ پاک کے نام کی سچی قسم کھاتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں نہ ہی یہ مکروہ ہے کہ احادیث مبارکہ سے نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم کا حلف اٹھانا ثابت ہے۔ البتہ بلاوجہ بات بات پر قسم اٹھانا اچھا نہیں ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عادت کی وجہ سے جھوٹی قسم کھانا شروع کر دے۔

اللّٰہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

{لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰـكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ }

ترجمۂ کنز العرفان: اور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو اور اللہ بہت بخشنے والا،بڑا حلم والا ہے۔ (پارہ 2 سورۃ البقرہ آیت نمبر 225)

بخاری شریف میں ہے

”عن ابن عمر قال: اكثر ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يحلف: لا ومقلب القلوب“

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں زیادہ قسم جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے یہ تھی کہ قسم ہے دلوں کو بدلنے والے کی۔(بخاری شریف کتاب التوحید باب مقلب القلوب، حدیث 7391)

ابوداؤد میں ہے

”عن ابي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اجتهد في اليمين قال:

لا، والذي نفس ابي القاسم بيده“

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قسم میں مبالغہ فرماتے تو یوں فرماتے: اس کی قسم جس کے قبضہ میں ابوالقاسم کی جان ہے۔(ابوداؤد، کتاب الایمان والنذور، باب یمین النبی ماکانت، حدیث 3264)

عالمگیری میں ہے

”الْيَمِينُ بِاَللَّهِ تَعَالَى لَا تُكْرَهُ، وَلَكِنَّ تَقْلِيلَهُ أَوْلَى مِنْ تَكْثِيرِهِ، وَالْيَمِينُ بِغَيْرِ اللَّهِ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ الْبَعْضِ، وَعِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ لَا تُكْرَهُ؛ لِأَنَّهُ يَحْصُلُ بِهَا الْوَثِيقَةُ فِي الْعُهُودِ خُصُوصًا فِي زَمَانِنَا كَذَا فِي الْكَافِي“

ترجمہ: اللہ پاک کے نام کی قسم کھانا مکروہ نہیں ہے لیکن کم کھانا بہتر ہے زیادہ قسمیں کھانے سے، اور اللہ پاک کے علاوہ کسی دوسرے کے نام کی قسم کھانا بعض کے نزدیک مکروہ ہے جب کہ کثیر علماء کے نزدیک مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس سے وعدوں میں پختگی حاصل ہوتی ہے بالخصوص ہمارے زمانے میں، اسی طرح کافی میں ہے۔(عالمگیری کتاب الایمان الباب الاول صفحہ 624 المطبعۃ الکبریٰ الامیریہ مصر)

بہار شریعت میں ہے:

”قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھا ہے کہ قصد و بے قصد زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے۔“(بہار شریعت جلد2 حصہ 9 قسم کا بیان صفحہ 301 مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللّٰه تعالیٰ اعلم ورسوله اعلم عزوجل و صلی اللّٰه علیہ وآله وسلّم

کتبہ

ابو ساجد محمد عابد مدنی

17 صفر المظفر 1445

4 ستمبر 2023

اپنا تبصرہ بھیجیں