قبروں پر مسجد بنانے اور اس پر نماز پڑھنے کا حکم

سوال:ایک مسجد بنائی گئی ہے اس جگہ پہلے قبریں تھیں اس جگہ نماز پڑھنا کیسا ہے؟

یوزر آئی ڈی:علی حیدر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں قبروں کو مسمار کر کے اوپر مسجد بنانا ناجائز و حرام ہے اور قبروں والی جگہ پر نماز پڑھنا بھی ناجائز وگناہ ہے۔رد المحتار میں ہے:”تکرہ الصلوۃ علیہ والیہ لورود النھی عن ذلک “یعنی قبر پر اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ اس سے منع فرمایا گیا ہے۔

(رد المحتار علی الدر المختار،جلد3،صفحہ۱83 دار المعرفہ، بیروت)

فتاوی رضویہ شریف میں قبروں کے مسمار کرکے مسجدبنانے کے حوالے سے امام اہلسنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریرفرماتے ہیں:”یہ حرکت شنیعہ ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناجائز و حرام ہے۔ توہین قبور مسلمین ایک اور قبور پر نماز کا حرام ہونا دو۔کہاں قبر کی بلندی کہ حدِ شرعی سے زائد ہو اس کے دور کرنے کا حکم او رکہاں یہ کہ قبور مسلمین مسمار کرکے ان پر چلیں، اموات کو ایذا دیں۔“

(فتاوی رضویہ ،جلد9،صفحہ428،رضا فاونڈیشن ،لاھور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

25محرم الحرام1445ھ/10 اگست 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں