سوال:التحیات کی طرح بیٹھ کر پہلے میں ہاتھ باندھ کر دوسرے میں زانو پر رکھ کر خطبہ سنا جاتا ہے اس کی کیا شرعی حیثیت ہے؟
یوزر آئی ڈی:عزیر ظہیر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دوزانوں بیٹھ کر خطبہ سننا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ پہلے میں ہاتھ باندھ لے دوسرے میں زانو پر رکھے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے :ويستحب أن يقعد فيها كما يقعد في الصلاة، كذا في معراج الدرايةً ترجمہ: اور مستحب ہے کہ بندہ ان دو خطبوں کے درمیان ایسے بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتا ہے ایسے ہی معراج الدریہ میں ہے۔
( ”الفتاوی الھندیۃ”، کتاب الصلاۃ، الباب السادس عشر في صلاۃ الجمعۃ، ج۱، ص۱۴۶، ۱۴۷.)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : خطبہ سننے کی حالت میں دو زانو بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں۔
(بہارِ شریعت ،جلد اول،حصہ چہارم،صفحہ773،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
26محرم الحرام1445ھ/14 اگست 2023 ء