کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ (Credit Card) کا استعمال ناجائز ہے، اس لیے کہ کریڈٹ کارڈ میں اگر بندے کے پاس پیسے نہ ہوں تو بینک اپنے پاس سے قرض کے طور پر پیسے دیتا ہے اور اگر ایک مخصوص مدت تک پیسے واپس نہ کیے جائیں تو بینک اس پر سود لیتا ہے،چونکہ کریڈٹ کارڈ میں یہ معاہدہ طے ہوتا ہے اس لیے یہ سودی عقد ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اگرچہ بینک سے قرض لینے کی نوبت نہ آئے۔
البتہ اے ٹی ایم (ATM) اور ڈیبٹ کارڈ (Debit Card) کا استعمال جائز ہے، کیونکہ اس کے حاصل کرنے کے لیے سودی معاہدہ نہیں کرنا پڑتا، بلکہ اس کارڈ کے ذریعہ آدمی اتنے ہی پیسوں کی خریداری کرسکتا ہے جتنی رقم اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، یعنی اس میں قرض والا معاملہ شروع سے ہوتا ہی نہیں ہے، اس لیے سود لینے دینے کی نوبت ہی نہیں آتی، لہٰذا اس کا استعمال جائز ہے۔
حدیث پاک میں ہے:
”لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کی وکالت کرنے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا کہ : یہ تمام لوگ برابر ہیں۔(صحیح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، جلد نمبر 3، صفحه نمبر 1219، حدیث نمبر1598، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي)
حدیث پاک میں ہے:
’’عن علی مرفوعاً: کل قرضٍ جَرَّ منفعۃً فہو رباً‘‘
یعنی ہر وہ قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔(اعلاء السنن، باب کل قرض جر منفعۃ، ج14، ص498)
بدائع الصنائع میں ہے:
’’وأما الذی یرجع إلی نفس القرض فہو أن لا یکون فیہ جر منفعۃ،۔۔۔ أقرضہ وشرط شرطاً لہ فیہ منفعۃ لما روی عن رسول اللّٰہ أنہ نہٰی عن قرض جرّ نفعاً‘‘
ترجمہ: باقی قرض کا معاملہ یہ کہ اس کے سبب نفع حاصل نہ ہو۔ قرض دیا اور اس میں نفع(کے حاصل ہونے)کی شرط لگائی(تو یہ منع ہے) کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع لائے۔(کتاب القرض، فصل فی شرائط رکن القرض:ج7،ص395، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”ان قواعد پر دستخط لے لیے جاتے ہیں یا ایسے شرائط وہاں مشہور و معلوم ہوکر المعروف کالمشروط ہوں جب تو وہ نوکری ہی ناجائز وگناہ ہے کہ شرط فاسد سے اجارہ فاسد ہوا اور عقدِ فاسد حرام ہے اور دونوں عاقد مبتلائے گناہ اور ان میں ہر ایک پر اس کا فسخ واجب ہے۔ “(فتاوی رضویة، جلد نمبر 19، صفحه نمبر 506-507، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”قرض دیا اور ٹھہرا لیا کہ جتنا دیا ہے اس سے زیادہ لے گا جیسا کہ آج کل سود خوروں (سود کھانے والوں) کا قاعدہ ہے کہ روپیہ دو روپے سیکڑا ماہوار سود ٹھہرا لیتے ہیں، یہ حرام ہے یونہی کسی قسم کے نفع کی شرط کرے، ناجائز ہے۔“(بہار شریعت، جلد نمبر 2، حصہ نمبر 11،صفحه نمبر 759، مطبوعه: مکتبة المدینہ)
حضرت مفتی علی اصغر صاحب مدظلہ العالی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
”پوچھی گئی صورت میں سودی معاہدہ تو آپ کر چکے ہیں کیونکہ کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت آپ بینک سے یہ معاہدہ کرچکے ہیں کہ اگر ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو میں سود ادا کروں گا لہٰذا سود دینے پر رضا مندی تو ثابت ہوچکی ہے اور یہ بھی گناہ ہے۔ مزید یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات لوگ وقت پر کسی وجہ سے ادائیگی نہیں کر پاتے تو پھر بینک سود ڈالنا شروع کر دیتا ہے یہ دوسرا گناہ ہوگا۔ پہلا گناہ تو اس وقت ہوا جب آپ نے کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت فارم پردستخط کیے کہ اگر آپ لیٹ ہوں گے تو سود دینا پڑے گا۔ دوسرا گناہ اس وقت ہوگا جب آپ سود کی ادائیگی کریں گے اور بعض اوقات ایسی نوبت آ بھی جاتی ہے۔ اگر بالفرض یہ نوبت نہ بھی آئے تب بھی کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے کہ اس میں سودی معاہدہ لازمی طور پر کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بجائے ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اس میں آپ بینک سے قرضہ نہیں لے رہے ہوتے بلکہ دکان دار کو بینک کے ذریعے اپنے ہی پیسے کی فوری ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں اورڈیبٹ کارڈ میں آپ کو کسی قسم کا سودی معاہدہ نہیں کرنا پڑتا ہے۔“(ماہنامہ فیضان مدینہ، احکام تجارت، ربیع الاول 1441 ھ ،نومبر 2019 ء مکتبۃ المدینہ)
واللّٰہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم
کتبہ
محمد شاہد حمید قادری
20فروری2024،منگل