پیشاب کے قطروں والے مریض کے کپڑوں کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ وہ شرعی معذور جیسے پیشاب کے قطرے والا یا جس کا کسی زخم وغیرہ سے مسلسل خون بہتا ہے اور اس کا جسم یا کپڑے ناپاک ہو جائے تو اس کے لیے نماز کا کیا حکم ہوگا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق معذور کو اگر ایسا عذر ہو کہ جس کے سبب سے جسم یا کپڑے نجس ہو جائے اور یہ ایک درہم سے زیادہ نجس ہو جائے اور جانتا یہ ہے کہ اتنا وقت ہے کہ اس کو دھو کر پاک کپڑوں میں نماز پڑھ لے گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اور اگر درہم کے برابر ہے تو دھونا واجب ہے اور درہم سے کم ہے تو دھونا سنت ہے۔ اگرمرض ایسا ہے کہ مسلسل نجاست بہہ رہی ہے کہ پاکی کے بعد نماز پڑھتے پڑھتے پھر دوبارہ سے نجس ہو جائے گا تو اب دھونا ضروری نہیں ہے، اسی سے نماز پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو۔ البتہ مستحب یہی ہے کہ زخم یا شرمگاہ کے آگے کوئی دوسرا کپڑا یا ٹشو پیپر رکھ لے تاکہ مصلیٰ اور کپڑے گندے نہ ہوں ۔
ابو داؤد میں ہے
”عن سليمان بن يسار عن أم سلمة زوج النبي قالت أن امرأة كانت تهراق الدماء على عهد رسول الله صلى الله على وسلم فاستفتت لها أم سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لتنظر عدة الليالي و الأيام التي كانت تحيضهن من الشهر قبل أن يصيبها الذي أصابها فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر فإذا خلفت ذلك، فلتغتسل ثم لتستثفر بثوب ثم لتصل“
ترجمہ: سلیمان بن یسار رضی اللہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو خون آنے لگا(حیض کے دنوں کے علاوہ بھی خون جاری ہوگیا۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے اس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ معلوم کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بیماری سے پہلے والے مہینے کے جو دن اور رات کی گنتی تھی(یعنی جتنے دن پہلے حیض آتا تھا) اس کو دیکھو(اتنے دن ہی حیض شمار کرو) اور اس حساب سے نماز چھوڑو پھر غسل کرو ، پھر لنگوٹ باندھو اور نماز ادا کرو۔(سنن ابی داؤد ،کتاب الطہارۃ،الحیض و النفاس و الاستحاضہ،، ج 1، ص 380، مطبوعہ کراچی)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے :
”مستحاضہ کولنگوٹ باندھنے کا حکم استحبابی اوراحتیاطی ہے تاکہ خون سے مصلے اورکپڑے گندے نہ ہوں وجوبی نہیں،اگربغیرلنگوٹ کسی اورذریعہ سے یہ مقصدحاصل ہوجائے تو وہ کرے اوراگرکسی طرح خون رکتا نہ ہوتونمازپڑھتی رہے اگرچہ خون مصلے پرٹپکتارہےجیساکہ دوسری روایات میں ہے۔تمام معذوروں کو یہی حکم ہے جیسے نکسیر،سلسل بول والے لوگ۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد1 ،حدیث نمبر:559، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے
”اذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرفة فاصبھا الدم اکثر من قدر الدم او اصاب ثوبه ان کان بحال او غسله یتنجس ثانیا قبل الفراغ من الصلاۃ جاز ان لایغسله وصلی قبل ان یغسله والا فلا ھذا ھو المختار ھکذا فی المضمرات“
ترجمہ:اگر کسی کا زخم بہتا تھا اور اس پر کپڑا باندھ لیا تھا پھر اس پر قدر درہم سے زیادہ خون لگ گیا یا اس کے پہننے کے کپڑے پر لگ گیا ۔اگر ایسی حالت ہے کہ جو دھوئے تو فارغ ہونے سے قبل دوبارہ نجس ہو جائے گا تو اس کو بغیر دھوئے نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو جائز نہیں ہے ۔یہی مختار ہے اور اسی طرح مضمرات میں مذکور ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ، کتاب الطھارۃ ،جلد 1، صفحہ 46، دار الفکر بیروت)
در مختار میں ہے
”وان سال علی ثوبه فوق الدراھم وجاز له ان لایفسد ان کان لو غسله تنجس قبل الفراغ منھا ای الصلاۃ والا یتنجس قبل فراغه فلا یجوز ترک غسله ھو المختار للفتوی“
ترجمہ:اگر درہم سے زیادہ کپڑے پر سیلان ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ اسے نہ دھوئے اگر وہ اسے دھوئے تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پھر ناپاک ہو جائے گا ۔اگر فراغت سے پہلے ناپاک نہ ہو تو اس کے دھونے کو ترک کرنا جائز نہیں ہے یہ فتویٰ کے لیے مختار ہے۔(ردالمختار ، کتاب الطھارۃ ،جلد 1، صفحہ 686، دار الکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
”معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں ۔“(بہار شریعت، جلد 1 ، حصہ 2، صفحہ 390 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
26شوال المکرم 1445ھ07 مئی 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری