وتر نماز کی رکعات پر تحقیق
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نماز وتر واجب ہے؟ اور کیا ایک سلام کے ساتھ تین رکعت نماز وتر پڑھنا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے؟آج کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہورہی ہے کہ حدیث پاک میں وتر کو مغرب کی طرح(یعنی مغرب کی طرح تین رکعات ) پڑھنے سے منع کیا ہے۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ نماز وتر واجب ہے اگر بھول کر یا جان بوجھ کر وتر نہ پڑھے تو قضا واجب ہے۔ اور وتر کی نماز مغرب کی طرح تین رکعات ہیں، نماز وتر کو ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ دوسری رکعت پر قعدہ یعنی التحیات واجب ہے اور قعدۂ اولیٰ میں نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے بلکہ تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے۔ یہ طریقہ حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت، اور کتب حدیث و فقہ میں اس کی صراحت موجود ہے۔
یہاں چند پہلوؤوں کے حوالے سے تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
(1) نماز وتر واجب ہے:
احادیث طیبہ میں فرمان موجود ہے کہ وتر حق و واجب ہے۔ اور وتر چھوڑنے پر بطور وعید ارشاد فرمایا جس نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ مزید فرمایا جو وتر چھوڑ کر سو گیا صبح بطور قضا پڑھے۔ اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اے اہل قران وتر پڑھو۔ یہ صیغۂ امر ہے اور امر سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا نماز وتر واجب ہے۔
(2) نماز وتر کی ایک سلام کے ساتھ تین رکعات ہیں، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام سے یہ ثابت ہے:
جن احادیث میں ایک رکعت وتر کا ذکر ہے اس کا علماء کرام نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ الگ رکعت نہیں بلکہ آخری دو رکعات کے ساتھ ایک ملا کر سابقہ کو وتر یعنی طاق بنایا جائے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث پاک،اور دیگر کتب کی احادیث میں تین وتر کا ذکر ہے۔ وتر کے متعلق مختلف روایات ہیں مگر مستند یہی ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ و علی آلہ واصحابہ وبارک وسلم وتروں کے آخر میں سلام پھیرتے جیسا کہ حدیث عائشہ میں ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعات میں یوں قراءت کرتے پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی، دوسری میں قل یا ایھا الکافرون، اور تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد اور سلام آخر میں پھیرتے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت انس، حضرت علی، حضرت عمر وغیرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان وتر تین رکعات ایک سلام کے ساتھ ادا فرماتے۔
حسن بصری فرماتے ہیں مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں اور آخر میں سلام پھیرا جائے گا۔
(3) نماز وتر کی مغرب کی طرح تین رکعات ہیں، حدیث "وتر تین رکعت نہ پڑھو۔ وتر نماز مغرب کے مشابہ نہ بناؤ” کا جواب:
وتر نماز مغرب کی طرح ہے، جیسے نماز مغرب ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے اسی طرح وتر بھی ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کئے جائیں گے۔ کیونکہ دن کے وتر یعنی نماز مغرب کی طرح رات کے بھی تین وتر ہیں۔
جس حدیث میں فرمایا گیا کہ "وتر تین رکعت نہ پڑھو” اس کی کئی تاویلات کی گئی ہیں ،مختصر یہ ہےکہ اس کا مطلب ہے مغرب کی نماز بغیر قنوت کے ہے اس طرح وتر بغیر قنوت کے نہ پڑھو، بلکہ وتر میں دعائے قنوت پڑھی جائے۔
(4):ایک رکعت نقل و عقل کے خلاف ہے:
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر پڑھتے دیکھا تو فرمایا یہ تم کیسی دم بریدہ نماز پڑھتے ہو یا تو دوگانہ نماز پڑھو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وجہ سے کہی تھی کہ یہ بات مشہور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم بریدہ (ایک رکعت) نماز سے منع فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا میں ایک رکعت نماز کو ہرگز کافی نہیں سمجھتا نیز اگر ایک رکعت نماز مشروع ہوتی تو سفر کی وجہ سے فجر کی نماز کو قصر کر کے ایک رکعت نماز پڑھنا جائز ہوتا۔
ایک رکعت وتر عقل کے بھی خلاف ہے نقل کے بھی، اور کسی فرض سنت نفل نماز میں اس کی مثال نہیں، ہر غیر فرض عبادت کی فرض عبادت میں کوئی مثال ہوتی ہے، جبکہ فرض نماز میں کہیں ایک رکعت نہیں۔ بلکہ فرض نماز یا تو دو رکعت ہے جیسے فجر، یا چار رکعت جیسے ظہر، عصر، اور عشاء۔ دو یا چار وتر نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ عدد جفت ہیں۔ لہذا وتر فرض کی تین رکعات یعنی نماز مغرب کی طرح ہیں۔ اور اسی نماز مغرب کی طرح وتر کی تین رکعات ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔
(1)نماز وتر واجب ہونے کے دلائل:
مسند احمد، سنن ابوداؤد اور مستدرک میں ہے، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا“
ترجمہ:نمازِ وتر حق ہے، پس جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ نمازِ وتر حق ہے، پس جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ نمازِ وتر حق ہے، پس جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔(مسند احمد بن حنبل، ج5 ص357، رقم: 23069، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت،سنن ابوداؤد، کتاب الصلاۃ باب فی من لم یوتر ج1 ص210 رقم: 1419مطبوعہ لاہور،مستدرک للحاکم کتاب الوتر ج1 ص448 رقم:1146 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:
”یعنی وتر فرض عملی اور واجب اعتقادی ہیں۔(مرقاۃ)لہذا جو اس کے وجوب کا عنادًا انکار کرے وہ ہمارے طریقہ سے خارج یعنی گمراہ ہے اور جو اسے واجب جانتے ہوئے نہ پڑھے وہ جماعت صالحین سے خارج ہے اور سخت گنہگار ہے،یہ امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر واجب ہیں۔خیال رہے کہ جو مجتہد تاویل سے اس کے وجوب کا انکار کرے ان کا یہ حکم نہیں جیساکہ تمام فرائض عملی اور واجبات کا حال ہے ۔ہم امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کو سخت منع کرتے ہیں،امام شافعی واجب فرماتے ہیں مگر کوئی کسی کو گمراہ نہیں کہہ سکتا۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، وتر کا بیان ج2 فصل ثالث ص271 قادری پبلشرز لاہور)
سنن نسائی و ابن ماجہ مستدرک و ابن ابی شیبہ وغیرہ میں منقول، حضرت سیدنا ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:
”الوتر حق علی کل مسلم“
ترجمہ:نمازِ وتر ہر مسلمان پر حق ہے۔(سنن ابوداؤد، کتاب الصلاۃ باب کم الوتر ج1 ص210 رقم: 1419، مطبوعہ لاہور،سنن نسائی باب ذکر الاختلاف علی الزہری فی حدیث ابی ایوب ج1، ص249 مطبوعہ کراچی،سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الوتر بثلاث۔۔ صفحہ 83 مطبوعہ کراچی ،مصنف عبدالرزاق، 3: 19، رقم: 4633، المکتب الاسلامی، بيروت، لبنان،مستدرک للحاکم کتاب الوتر ج1 ص445 رقم:1132 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، مصنف ابن ابی شیبہ ج4 ص503 رقم:7037 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
سنن ترمذی و مستدرک للحاکم میں زید بن اسلم کے حوالے سے مروی ہے:
”ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من نام عن وترہ فلیصل اذا اصبح“
ترجمہ:حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو وتر چھوڑ کر سو گیا تو وہ صبح بطور قضا پڑھ لے۔(سنن ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء فی الرجل ینام عن الوتر ج1 ص106 مطبوعہ کراچی، مستدرک للحاکم کتاب الوتر ج1 ص443 رقم:1127 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
مذکورہ حدیث کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:
”یعنی اگر عشاء پڑھ لی ہو تہجد کے وقت آنکھ نہ کھلے تو صبح کے بعد نماز فجر سے پہلے وتر قضاء کرے،پھر فجرپڑھے،صاحب ترتیب کے لیئے وتر پہلے پڑھنا فرض ہے دوسرے کے لیئے بہتر۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر محض سنت نہیں بلکہ واجب ہیں کہ صرف سنتوں کی قضا نہیں پڑھی جاتی،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اگرچہ مرسل ہے کیونکہ زید ا بن اسلم تابعی ہیں،عمر فاروق کے غلام ہیں مگر چونکہ آپ بڑے ثقہ عالم فقیہ تھے،آپ کی مجلس علم میں چالیس سے زیادہ فقہاء بیٹھتے تھے حتی کہ امام زین العابدین بھی آپ کے شاگرد ہیں اور امام مالک، سفیان ثوری وغیرہ محدثین کے آپ شیخ ہیں اس لیئے آپ کی مرسل یقینًا قبول ہے۔ (از اشعۃ اللمعات) آپ کی وفات136ھ میں ہوئی۔“(مرآۃ المناجیح وتر کا بیان ج2 فصل ثانی ص267 قادری پبلشرز لاہور)
مشکوٰۃ المصابیح میں ابو سعید رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”من نام عن الوتر او نسیہ فلیصلّ اذا ذکر او اذا استیقظ. رواہ الترمذی،ابوداؤد و ابن ماجہ“
ترجمہ:جو وتر سے سوجائے یا اسے بھول جائے تو جب یاد آئے یاجب بیدار ہو تو پڑھ لے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج1 فصل ثالث ص115 رقم:1205 مطبوعہ لاہور )
مرآۃ المناجیح میں اس حدیث پاک کے تحت ہے:
”یعنی ان کی قضا واجب ہے،یہ امر وجوب کے لیئے ہے یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر واجب ہیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج2 فصل ثالث ص271 قادری پبلشرز لاہور)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
”روي عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «أوتروا يا أهل القرآن فمن لم يوتر فليس منا» ومطلق الأمر للوجوب، وكذا التوعد على الترك دليل الوجوب، وروى أبو بكر أحمد بن علي الرازي بإسناده عن أبي سليمان ابن أبي بردة عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «الوتر حق واجب فمن لم يوتر فليس منا» وهذا نص في الباب، وعن الحسن البصري أنه قال: أجمع المسلمون على أن الوتر حق واجب…قال أصحابنا: الوتر ثلاث ركعات بتسليمة واحدة في الأوقات كلها“
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قران وتر پڑھو جس نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں اور مطلق امر وجوب کے لیے اتا ہے۔ (لہذا یہاں حضور کے فرمان وتر پڑھو سے وجوب ثابت ہوتا ہے) اسی طرح وتر کے چھوڑنے پر وعید کا منقول ہونا وجوب کی دلیل ہے، روایت کی ابوبکر احمد بن علی رازی نے اپنی سند کے ساتھ ابو سلیمان بن ابو بردہ سے وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا وترحق واجب ہے جس نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔ یہ اس مسئلے میں نص ہے اور حضرت حسن بصری سے منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر حق واجب ہے۔ ہمارے علماء کرام نے فرمایا ہمیشہ وتر کی ایک ہی سلام کے تین رکعات ہیں۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع کتاب الصلاۃ فصل الكلام في مقدار صلاة الوتر ج1 ص271 دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتاوى ہنديہ میں ہے:
”وفي رواية واجب وهي آخر أقواله وهو الصحيح…. ويجب القضاء بتركه ناسيا أو عامدا“
ترجمہ:اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کا آخری قول یہ ہے کہ وتر واجب ہے اور یہی صحیح ہے۔ نماز وتر کو بھول کر یا جان بوجھ کر چھوڑنے کے سبب قضا لازم ہو گی۔ (الفتاوى الهندية الباب الثامن في صلاة الوتر ج1 ص111 دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
” وتر واجب ہے اگر سہواً یا قصداً نہ پڑھا تو قضا واجب ہے… نماز وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدۂ اُولیٰ واجب ہے اور قعدۂ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اُسی طرح کرے اور اگر قعدۂ اُولیٰ بھول کر کھڑا ہوگیا تو لوٹنے کی اجازت نہیں بلکہ سجدۂ سہو کرے… وتر کی نماز قضا ہوگئی تو قضا پڑھنی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ ہوگیا ہو، قصداً قضا کی ہو یا بھولے سے قضا ہوگئی اور جب قضا پڑھے، تو اس میں قنوت بھی پڑھے۔ البتہ قضا میں تکبیر قنوت کے لیے ہاتھ نہ اٹھائے جب کہ لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو کہ لوگ اس کی تقصیر پر مطلع ہوں گے۔“ (بہار شریعت حصہ 4 وتر کا بیان، مسائل فقہیہ، مسئلہ: 2 و 15، مکتبۃ المدینہ کراچی)
(2) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے کہ وتر کی ایک سلام کے ساتھ تین رکعات ہیں:
بخاری و مسلم میں ہے:
”عن ابن عمر ان رجلا سأل رسول ﷲ صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل، فقال رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلاۃ اللیل مثنى مثنى فاذا خشی احدکم الصبح صلی رکعۃ واحدۃ توتر لہ ما قد صلی“
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق دريافت كيا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت اور پڑھ لے تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔(بخاري، ابواب الوتر، باب ما جاء في الوتر، ج1 ص135، مطبوعہ کراچی ،مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة من آخر الليل، ج1 ص257، مطبوعہ کراچی)
جاء الحق میں ایک سوال("کان رسول اللّٰہ یوتر بواحدۃ” کہ نبی علیہ السلام ایک رکعت وتر پڑھتے تھے…) کے جواب میں ہے:
”آپ نے حدیث کا ترجمہ غلط کیا جس کی وجہ سے یہ حدیث تمام ان احادیث کے خلاف ہو گئی جس میں تین رکعتوں کا ذکر ہے اور احادیث آپس میں متعارض ہو گئیں حدیث کا ترجمہ ایسا کرنا چاہیے جس سے احادیث متفق ہو جاویں اس حدیث شریف میں ب استعانت کی ہے جیسے کتبت بالقلم میں نے قلم سے لکھا۔ کیونکہ اَوْتَرَ باب افعال متعدی بنفسہ ہے تو حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نماز تہجد کو وتر یعنی طاق بنایا ایک رکعت کے ذریعے سے اس طرح کہ دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت ملائی جس سے نماز تہجد کا عدد جفت سے طاق بن گیا مثلاً آٹھ رکعت تہجد ادا فرمائیں یہ عدد جفت تھا پھر تین رکعت وتر پڑھیں تو وتر کی تیسری رکعت کے سبب کل 11 ہو گئیں جو طاق ہیں اس تمام نماز کو طاق بنانے والی وتر کی یہ ایک رکعت ہے جو دو سے مل کر ادا ہوئی۔ اس صورت میں یہ حدیث گزشتہ تمام احادیث کے موافق ہو گئی۔ میں غیر مقلدوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر تمہارے معنی کیے جاویں تو ان احادیث کا کیا جواب دو گے جن میں صراحتاً تین کا عدد مذکور ہے یا جن میں وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں فلاں سورت پڑھتے تھے دوسری رکعت میں فلاں اور تیسری رکعت میں فلاں سورت۔۔۔ (وہ احادیث) جو پہلے فصل میں مذکور ہوئیں۔“(جاءالحق مع سعید الحق حصہ دوم صفحہ 867 مکتبہ غوثیہ کراچی)
بخاری و مسلم میں ہے:
”عن أبي سلمة بن عبد الرحمن:أنه سأل عائشة رضی اللّٰہ عنھا: كيف كانت صلاة رسول الله علیہ السلام في رمضان؟. فقالت: ما كان رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة، يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا. فقلت: يا رسول الله، أتنام قبل أن توتر؟. فقال:يا عائشة، إن عينيّ تنامان ولا ينام قلبي“
ترجمہ:حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تو ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے کہا یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے قبل سو گئے تو حضور نے فرمایا اے عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔(بخاري كتاب التهجد، باب قيام النبي صلى الله عليه وسلم بالليل في رمضان وغيره، ج1 ص154 مطبوعہ کراچی،مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي صلى الله عليه وسلم، ج1 ص254، مطبوعہ کراچی)
صحیح بخاری میں ہے:
”عن عبد الله بن عمر قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم:صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا أردت أن تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت“
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز کی دو دو رکعتیں ہیں۔ جب تم فارغ ہونا چاہو تو ایک رکعت اور پڑھ لو۔ یہ تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔(بخاري، ابواب الوتر، باب ما جاء في الوتر، ج1 ص135 مطبوعہ کراچی)
صحیح بخاری میں ہے:
”قال القاسم: ورأينا أُناسا منذ أدركنا، يوترون بثلاث، وإن كلا لواسع، أرجو أن لا يكون بشيء منه بأس“
ترجمہ:حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو ہم نے لوگوں کو تین وتر پڑھتے ہوئے دیکھا اور ہر طریقے کے اندر وسعت ہے۔ مجھے امید ہے کہ کسی طریقے میں بھی مضائقہ نہیں ہو گا۔(بخاري، ابواب الوتر، باب ما جاء في الوتر، ج1 ص135 مطبوعہ کراچی)
مستدرک للحاکم میں ہے:
”عن عائشة قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسلم في الركعتين الأوليين من الوتر“
ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتروں کی پہلی دو رکعتوں میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔
امام حاکم رحمہ اللہ اس حدیث مبارکہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
”هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه“
ترجمہ:یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ) کی شرطوں پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔(المستدرك للحاکم على الصحيحن، كتاب الوتر،ج 1 ص 446، الرقم: 1139، دار الكتب العلمية بیروت)
مزید مستدرک للحاکم، سنن نسائی اور شرح معانی الآثار وغیرہ میں ہے:
”عن عائشة، قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث لا يسلم إلا في آخرهن» وهذا وتر أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه «وعنه أخذه أهل المدينة“
ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر بڑھتے ان میں سے آخری رکعت میں سلام پھیرتے تھے۔ یہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے وتر تھے، اہل مدینہ نے یہ طریقہ انہی سے سیکھا تھا۔(المستدرك للحاکم على الصحيحن، كتاب الوتر، ج1 ص447، الرقم: 1140 دار الكتب العلمية بیروت ،سنن نسائی کتاب قیام اللیل باب کیف الوتر بثلث ج1 ص 248 – 249 مطبوعہ کراچی، شرح معانی الآثار، کتاب الصلاۃ باب الوتر،ج1 ص178 رقم1631 مطبوعہ لاہور)
مصنف ابن أبي شيبة، سنن دار قطني، اور السنن الكبرى للبیہقی وغیرہ کتب حدیث میں ہے:
”عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسلم في ركعتي الوتر“
ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔(مصنف ابن أبي شيبة، ج4 ص 498، الرقم:7019، دار کنوز اشبیلیا رياض، سنن دار قطني، ج2 ص 32، الرقم:7، بيروت دار المعرفة،السنن الكبرى للبیہقی،ج 3 ص31، الرقم:4592، مكة المكرمة مكتبة دارالباز)
سنن نسائی، ابوداؤد و ابن ماجہ میں ہے:
”عن ابی اںن کعب قال کان رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقرء فی الوتر بسبح اسم ربک الاعلی وفی الرکعۃ الثانیۃ بقل یاایھا الکافرون وفی الثالثۃ بقل ھو اللّٰه احد ولا یسلم الا فی آخرھن“
ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم وتر (کی پہلی رکعت) میں سبح اسم ربک الاعلی، دوسری میں قل یا ایھا الکافرون اور تیسری میں قل ھو اللہ احد پڑھا کرتے، اور تین رکعات کے آخر میں سلام پھیرتے۔(سنن نسائی کتاب قیام اللیل باب کیف الوتر بثلث ج1 ص 248 -249 مطبوعہ کراچی،سنن ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقرء فی الوتر ج1 ص210 مطبوعہ لاہور ،سنن ابن ماجہ کتاب الصوم باب ما جاء فی ما یقرء فی الوتر صفحہ 82 مطبوعہ کراچی)
اسی طرح کی حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی حدیث پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:
”خیال رہے کہ یہ حدیث امام اعظم نے اپنی مسند میں یوں نقل کی ہے "عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ اَسْوَدَ عَنْ عَائِشَۃَ صِدِّیْقَۃ”۔اس میں صرف قُلْ ھُوَ الله کا ذکر ہے اور حاکم نے بشرط مسلم، بخاری حضرت عائشہ سے یہ حدیث نقل کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ تین رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے تھے۔نسائی نے حضرت عائشہ سے روایت کی جس کے آخر میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔امام طحاوی نے حضرت ابو العالیہ سے روایت کی کہ اصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم وتر مغرب کے فرضوں کی طرح پڑھتے تھے او ر امام حسن نے فرمایا کہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعت ہیں ایک سلام سے۔غرضکہ یہ احادیث امام اعظم وغیرہم کے قوی دلائل ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں اور ایک سلام سے۔“ (مرآۃ المناجیح وتر کا بیان ج2 فصل ثانی ص268 قادری پبلشرز لاہور)
مصنف ابن أبي شيبة میں ہے:
”قال عبد الله: الوتر ثلاث ركعات كصلاة المغرب“
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا وتر کی نماز مغرب کی طرح تین رکعات ہیں۔(مصنف ابن أبي شيبة ابن ابی شیبہ ج4 ص493 رقم الحدیث 6996 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
مصنف ابن أبي شيبة میں ہے:
”عن ثابت عن أنس أنه أوتر (بثلاث) لم يسلم إلا في أخرهن“
ترجمہ:ثابت بنانی سے مروی کہ حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ تین رکعات وتر پڑھتے اور سلام آخر میں پھیرتے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج4 ص497 رقم:7017 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
مصنف ابن أبي شيبة و مصنف عبدالرزاق میں ہے:
”عبد الرحمن عن زاذان أن عليا كان يفعل ذلك أيضا“
ترجمہ:عبدالرحمن زاذان سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے یعنی تین رکعت وتر پڑھتے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج4 ص508 رقم:7055 دار کنوز اشبیلیا ریاض، مصنف عبدالرزاق ج3 ص26 رقم:4662 مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت)
مصنف ابن أبي شيبة میں ہے:
”عن ابن السباق أن عمر دفن أبا بكر ليلا ثم دخل المسجد فأوتر بثلاث“
ترجمہ:ابن سباق سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو رات کے وقت دفن کیا پھر مسجد داخل ہوئے اور تین رکعات وتر پڑھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج4 ص494 رقم:6998 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
اسی میں ہے:
”عن مكحول عن عمر بن الخطاب أنه أوتر بثلاث ركعات لم يفصل بينهن بسلام“
ترجمہ:مکحول سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے تین رکعات وتر ادا کئے اور ان میں سلام کا فاصلہ نہ کیا۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج4 ص496 رقم:7008 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
مصنف ابن أبي شيبة میں ہے:
”عن الحسن قال: أجمع المسلمون على أن الوتر ثلاث لا يسلم إلا في آخرهن“
ترجمہ:حضرت امام حسن رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے فرمایا مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں اور ان کے آخر میں سلام پھیرا جائے۔(مصنف ابن أبي شيبة ابن ابی شیبہ ج4 ص496 رقم الحدیث 7011 دار کنوز اشبیلیا ریاض)
مبسوط سرخسی میں ہے:
”أن الوتر ثلاث ركعات لا يسلم إلا في آخرهن عندنا، (ولنا) حديث عائشة – رضي الله تعالى عنها – كما روينا «في صفة قيام رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ثم يوتر بثلاث» «وبعث ابن مسعود – رضي الله تعالى عنه – أمه لتراقب وتر رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فذكرت أنه أوتر بثلاث ركعات قرأ في الأولى سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة قل هو الله أحد وقنت قبل الركوع» وهكذا ذكر ابن عباس – رضي الله تعالى عنهما – حين بات عند خالته ميمونة ليراقب وتر رسول الله – صلى الله عليه وسلم“
ترجمہ:وتر میں تین رکعات ہیں جن میں ہمارے نزدیک صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے گا۔ ہماری دلیل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس کو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت قیام میں بیان کر چکے ہیں، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آٹھ رکعت پڑھنے کے بعد تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے مشاہدہ کے لیے بھیجا تو انہوں نے آ کر بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین رکعت وتر پڑھے پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى پڑھی، دوسری میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور رکوع میں جانے سے پہلے دعائے قنوت پڑھی۔ اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا۔ جب انہوں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے مشاہدہ کے لیے رات گزاری۔(المبسوط للسرخسی، باب القيام في الفريضة، الفصل الأول عدد ركعات الوتر، ج1،ص 164، دار المعرفة بیروت)
(3) نماز وتر کی مغرب کی طرح تین رکعات ہیں، حدیث "وتر تین رکعت نہ پڑھو۔ وتر نماز مغرب کے مشابہ نہ بناؤ” کا جواب:
سنن کبری للبیہقی و سنن دار قطنی میں ہے:
”عن عبداللہ بن مسعود قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وتر اللیل ثلاث کوتر النھار صلاۃُ المغرب“
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے وتر دن کے وتر یعنی نمازِ مغرب کی طرح تین رکعات ہیں۔(سنن کبری للبیہقی ج3 ص30 رقم4590 مطبوعہ مکتبہ دار الباز مکۃ المکرمہ ،سنن دار قطني ج2 ص148 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
”ومن أعجب العجاب أن بعضهم كره وصل الثلاث، وبه أفتى القاضي حسين أخذا من حديث لا يعرف له أصل صحيح: «لا توتروا بثلاث وأوتروا بخمس أو سبع، ولا تشبهوا الوتر بصلاة المغرب» ، مع أنه لو صح لحمل على أول الأمر لما سيأتي من الأحاديث الصحيحة الصريحة أنه – عليه السلام – صلى الوتر ثلاثا موصولا، أو المراد منه النهي التنزيهي عن الاقتصار في صلاة الليل على ثلاث ركعات، ويؤيده قوله: «أوتروا بخمس أو سبع» للإجماع على جواز الثلاث وعلى عدم وجوب الخمس والسبع، وقوله عليه الصلاة والسلام: ” «لا تشبهوا الوتر بصلاة المغرب» "، أي: في أنه لا يسبقه صلاة، أو بأن يكون بلا قنوت“
ترجمہ:اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ بعض لوگوں نے تین رکعت کو لگاتار یعنی بغیر سلام کے پڑھنے کو مکروہ جانا اور یہی فتوی قاضی حسین نے دیا، اس حدیث سے مسئلہ اخذ کرتے ہوئے جس کے صحیح ہونے کی اصل معروف نہیں یعنی پہچانی نہیں گئی، اور وہ حدیث یہ ہے کہ "تین کے ساتھ وتر نہ پڑھو اور وتر پڑھو پانچ کے ساتھ یا سات کے ساتھ اور وتر کو نماز مغرب کے مشابہ نہ کرو” باوجود اس کے کہ اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو تو اس کو اول امر یعنی شروع کام پر محمول کیا جائے گا۔ کیونکہ صحیح صریح احادیث اس بارے میں آئی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے وتر تین رکعت مسلسل یعنی ایک سلام کے ساتھ ادا کی ہیں۔ یا اس حدیث میں رات کی نماز کو تین رکعت پر منحصر کرنے سے نہی تنزیہی مراد ہے۔ اور اس کی تائید حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان کرتا ہے کہ "وتر پڑھو پانچ کے ساتھ یا سات کے ساتھ”. نہی تنزیہی کی وجہ یہ ہے کہ (رات میں)تین رکعت کے جائز ہونے، اور پانچ اور سات رکعات کے واجب نہ ہونے پر اجماع ہے۔ اور حضور علیہ السلام کا فرمان کہ وتر کو مغرب کے مشابہ نہ بناؤ یعنی اس بات میں کہ وتر سے پہلے کوئی نماز نہ ہو یا اس بات میں کہ وتر بغیر قنوت کے ہو۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد3 صفحہ940 دار الفكر، بيروت)
(4):ایک رکعت نقل و عقل کے خلاف ہے:
مبسوط سرخسی میں ہے:
”لما رأى عمر – رضي الله تعالى عنه – سعدا يوتر بركعة فقال ما هذه البتيراء لتشفعنها أو لأوذينك وإنما قال ذلك؛ لأن الوتر اشتهر «أن النبي – صلى الله عليه وسلم – نهى عن البتيراء» وقال ابن مسعود – رضي الله تعالى عنه – والله ما أخرت ركعة قط ولأنه لو جاز الاكتفاء بركعة في شيء من الصلوات لدخل في الفجر قصر بسبب السفر“
ترجمہ:جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر پڑھتے دیکھا تو فرمایا یہ تم کیسی دم بریدہ نماز پڑھتے ہو یا تو دوگانہ نماز پڑھو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وجہ سے کہی تھی کہ یہ بات مشہور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم بریدہ (ایک رکعت) نماز سے منع فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا میں ایک رکعت نماز کو ہرگز کافی نہیں سمجھتا نیز اگر ایک رکعت نماز مشروع ہوتی تو سفر کی وجہ سے فجر کی نماز کو قصر کر کے ایک رکعت نماز پڑھنا جائز ہوتا۔(المبسوط للسرخسی، باب القيام في الفريضة، الفصل الأول عدد ركعات الوتر، ج1،ص 164، دار المعرفة بیروت)
حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”عقل کا بھی تقاضہ ہے کہ وتر ایک رکعت نہ ہو کیونکہ وتر نماز نہ تو فرض ہے نہ نفل بلکہ واجب ہے اس کو پڑھنا ضروری ہے نہ پڑھنے والا فاسق ہے لیکن اس کے وجوب کا انکار کفر نہیں، واجب کا یہی حکم ہے۔ اور ہر غیر فرض عبادت کی مثال فرض عبادت میں ضرور ہونی چاہیے یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی غیر فرض عبادت بالکل جدا گانا ہو کہ اس کی مثال فرض میں نہ ہو یہ شریعت کا عام قاعدہ ہے جو زکوۃ حج وغیرہ میں جاری ہے۔ اگر وتر ایک رکعت ہوتی تو چاہیے تھا کہ کوئی فرض نماز بھی ایک رکعت ہوتی، حالانکہ کوئی فرض نماز ایک رکعت نہیں فرض تو کیا کوئی نفل و سنت مؤکدہ و سنت غیر مؤکدہ بھی ایک رکعت نہیں۔ نماز فرض یا تو دو رکعت ہے جیسے فجر یا چار رکعت جیسے ظہر عصر عشاء۔ یا تین رکعت جیسے مغرب وتر نہ تو چار رکعت ہو سکتی ہیں نہ دو کہ یہ عدد شفع (یعنی جفت) ہیں وتر نہیں، تو لامحالہ (یقیناً) وتر تین ہی رکعت چاہیے۔ ایک رکعت نماز اسلامی قانون کے خلاف ہے جس کی مثال کسی نماز میں نہیں ملتی۔ ایک رکعت نامکمل ہے، ناقص ہے، بَتِیْرَا ہے، غرض کہ ایک رکعت وتر عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ امت کا اجماع، صحابہ کرام علیہم الرضوان کا عمل، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سب ہی اس کے خلاف ہے۔“(جاءالحق مع سعید الحق صفحہ 866 مکتبہ غوثیہ کراچی)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
16رمضان المبارک1445ھ 27مارچ2024ء، بدھ
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری