نماز میں مسکرانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا نماز میں تبسم مکروہ ہے یا نہیں؟ اگر مکروہ نہیں تو جن فقہاء نے نماز میں تبسم کے متعلق لاحکم لہ کہا ہے اس کا کیا مطلب ہے اور اگر مکروہ نہیں تو جن احادیث میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تبسم فرمانے کا ذکر ہے ان کا کیا جواب ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب الھم ہدایۃ الحق و الصواب
احادیث مبارکہ میں سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں تبسم فرمانا منقول ہے۔ تبسم بلا آواز مسکرانے کو کہتے ہیں کہ صرف دانت ظاہر ہوں۔ تبسم کے سبب نہ نماز باطل ہو گی اور نہ ہی وضو ٹوٹے گا۔ بحر الرائق میں ہے کہ فقہاء کے کلام سے ظاہر ہے کہ تبسم مکروہ نہیں۔ جبکہ مجمع الانہر میں ہے کہ نماز میں تبسم مکروہ ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق تطبیق یوں ہو گی کہ بلا اختیار نماز میں تبسم مکروہ نہیں، اور نماز میں قصداً تبسم یعنی بلا آواز مسکرانا مکروہ ہے، اس فرمان کو امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ نے الحجہ میں نقل کیا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
”وروي عن جرير بن عبد الله البجلي أنه قال «ما رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا تبسم، ولو في الصلاة» . وروي «أنه صلى الله عليه وسلم تبسم في صلاته فلما فرغ سئل عن ذلك فقال أتاني جبريل عليه السلام ، وأخبرني أن الله تعالى يقول من صلى عليك مرة صلى الله عليه عشرا»“
ترجمہ:اور جریر بن عبد اللہ سے مروی کہ کہتے ہیں مجھے حضور علیہ السلام نے نہ دیکھا مگر تبسم فرماتے ہوئے اگرچہ نماز میں، اور مروی ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز میں تبسم فرمایا جب آپ کے جبریل علیہ السلام آئے اور خبر دی کہ جس نے آپ پر ایک بار درود بھیجا اللّٰہ اس کے سبب اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔(بدائع الصنائع،کتاب الطہارۃ، القهقهة في الصلاة،ج1،ص32، دار الکتب العلمیہ بیروت)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
"ولم يذكر التبسم لأنه ليس بمفسد للصلاة ولا للوضوء فليس له ههنا مدخل. و روى… من حديث جابر «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بأصحابه العصر فتبسم في الصلاة، فلما انصرف، قيل: يا رسول الله تبسمت وأنت تصلي قال: إنه مر بي ميكائيل وعلى جناحه غبار فضحك لي فتبسمت»“
ترجمہ:اور تبسم کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ نہ مفسد نماز ہے اور نہ ہی مفسد وضو، لہذا اس کا یہاں دخل نہیں اور مروی ہے حدیث جابر کہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے صحابہ کو عصر کی نماز پڑھائی اور حضور نماز میں مسکرائے جب سلام پھیرا تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مسکرائے حالانکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے تو فرمایا کہ میرے پاس سے میکائیل گزرے اور ان کے بازو پر غبار تھا وہ مجھ پر مسکرائے تو میں بھی مسکرایا۔(بنایہ شرح ہدایہ ،کتاب الطھارۃ، نواقض وضو،ج1،ص296، دار الکتب العلمیہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے
”وأما التبسم وهو ما لا صوت فيه أصلا بأن تبدو أسنانه فقط فحكمه أنه لا يبطلهما لأنه صلى الله عليه وسلم تبسم في الصلاة حين أتاه جبريل عليه السلام وأخبره أن من صلى عليك مرة صلى الله عليه بها عشرا كما في البدائع. وقال جابر بن عبد الله: ما رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا تبسم ولو في الصلاة كما في النهاية والعناية. وظاهر كلامهم أن التبسم في الصلاة غير مكروه ولذا قال في الاختيار: ولا حكم للتبسم“
ترجمہ:اور تبسم وہ ہے جس میں آواز بالکل نہ ہو بایں طور پر کہ صرف دانت ظاہر ہوں تو اس کا حکم یہ ہےکہ دونوں کو باطل نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نماز میں تبسم فرمایا جب آپ کے جبریل علیہ السلام آئے اور خبر دی کہ جس نے آپ پر ایک بار درود بھیجا اللّٰہ اس کے سبب اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا جیسا کہ بدائع میں ہے اور جابر بن عبداللہ کہتے ہیں مجھے حضور علیہ السلام نے نہ دیکھا مگر تبسم فرماتے ہوئے اگرچہ نماز میں، جیسا کہ نہایہ اور عنایہ میں ہے اور ان کے کلام کا ظاہر یہی ہے کہ نماز میں تبسم مکروہ نہیں اسی وجہ سے اختیار میں فرمایا : تبسم کا کوئی حکم نہیں ۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الطہارۃ ،فصل نواقض وضو،ج1، ص44، دار الکتاب السلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”والتبسم أن لا يكون مسموعا له ولا لجيرانه…والتبسم لا يبطل الصلاة ولا الطهارة“
ترجمہ: تبسم کی آواز نہ کو آتی ہے نہ پڑوسیوں کو۔ اور تبسم سے نہ نماز باطل ہوگی نہ ہی وضو۔( الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج1، ص 12، دار الفکر بیروت)
مراقي الفلاح میں ہے:
”والتبسم لا يبطل شيئا وهو ما لا صوت فيه ولو بدت به الأسنان“
ترجمه:اور تبسم کچھ بھی باطل نہیں کرتا اور اس میں آواز نہیں ہوتی، اگرچہ دانت ظاہر ہوجائیں۔(مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی،فصل: نواقض الوضوء، ص92، دار الكتب العلميه بيروت)
بہار شریعت میں ہے:
”اگر مسکرایا کہ دانت نکلے آواز باِلکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے نہ وُضو۔“ (بہار شریعت،حصہ2، وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان، مسئلہ:44، مکتبۃ المدینہ کراچی)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:
”ظاهر كلامهم أن التبسم في الصلاة غير مكروه؛ ولذا قال في الاختيار ولا حكم للتبسم “
ترجمہ: کلام فقہاء کا ظاہر یہ ہے کہ نماز میں تبسم مکروہ نہیں، اسی وجہ سے اختیار میں فرمایا کہ تبسم کےلئے کوئی حکم نہیں۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، جلد1، صفحہ83، مطبوعہ کوئٹہ)
مجمع الانہر میں ہے:
”والتبسم مالا صوت لہ اصلا ولیس بمبطل لواحد منھما لکن تکرہ الصلٰوۃ بہ“
ترجمہ: تبسم وہ ہوتا ہے جس میں آواز بالکل نہ ہو اس سے نہ نماز باطل ہو گی نہ وضو، لیکن اس کے ساتھ نماز مکروہ ہوتی ہے۔(مجمع الانہر،ج1،ص20، دار احیاء التراث العربی)
الحجۃ علی اہل المدینہ میں ہے:
”قال ابو حنيفة رحمه الله من ضحك في صلاته ان تبسم او كشر يمضي على صلاته وقد اساء في تعمد ذلك“
ترجمہ: امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ : جو شخص نماز میں ہنسا، اگر وہ ہنسنا بطورتبسم تھا یا محض دانت ظاہر ہوئے تو اپنی نماز جاری رکھے اور قصداً ایساکرنے کی صورت میں اس نے برا کیا۔(الحجہ علی اھل المدینہ، جلد1، صفحہ203، عالم الكتب ، بيروت)
واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب
محمد شاہد حمید
12جمادی الاخری1445ھ
26دسمبر2023ء