نماز میں قہقہہ لگانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو اور نماز ٹوٹنا کہاں سے ثابت ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کا حکم یہ کہ نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو اور نماز ٹوٹنا کئی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام نے نماز میں قہقہہ لگانے والے سے وضو اور نماز کے اعادے کا فرمایا۔ بطور قیاس تو قہقہہ ناقض وضو نہیں مگر احادیث طیبہ کے پیش نظر قیاس کو ترک کر دیا، فقہاء امت نے کتب فقہ میں اس کی تصریح فرمائی۔ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع و سجود والی نماز میں بالغ، بیدار آدمی کا قہقہہ لگانا یعنی اتنی آواز سے ہنسننا کہ آس پاس والے سن لیں تو اس سے نماز اور وضو دونوں باطل ہو جائیں گے۔ اور رکوع و سجود والی نماز نہ ہو مثلاً نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت ہو یا سوئے ہوئے نے قہقہہ لگایا تو نماز باطل ہو جائے گی نہ کہ وضو۔
السنن الکبری میں ہے:
”عن الحسن ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یصلي بالناس فدخل اعمی فتردی فی بئر کانت في المسجد فضحک طوائف من کان خلف النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی صلاتھم فلما سلم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمر من کان ضحک أن یعید وضوءہ ویعید صلاتہ“
ترجمہ: حضرت حسن بصری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک نابینا صحابی داخل ہوئے اور وہ کنویں میں گر گئے، اور صحابہ کرام کا ایک گروہ جو آپ کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا( اس پر ناچاہتے ہوئے) ہنس پڑے، جب نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو حکم دیا کہ جو ہنسا ہے وہ وضو اور نماز کا اعادہ کرے۔(السنن الکبری للبیہقی ،کتاب الطہارۃ، باب ترک الوضوء من القہقہۃ فی الصلاۃ،ج1، ص227، دار الکتب العلمیہ بیروت)
سنن دار قطنی میں ہے:
”وعن ابی ھریرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اذا قھقھہ اعاد الوضوء والصلوۃ “
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی (نماز میں) قہقہہ لگائے تو وہ وضو اور نماز کا اعادہ کرے۔(سنن دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب احادیث القہقہۃ۔۔،جلد 1، صفحہ301، مؤسسۃ الرسالہ یروت)
مجمع الزوائد کی حدیث پاک میں ہے:
”عن أبي موسی رضي اللہ عنہ قال بینما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلي إذ دخل رجل فتردی فی حفرة کانت في المسجد وکان ببصرہ ضرر فضحک کثیر من القوم وہو في الصلاة فأمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ضحک أن یعد الوضوء ویعید الصلاة رواہ الطبراني في الکبیر ورجالہ موثقون وفی بعضھم خلاف“
ترجمہ: حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے درمیان نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے کہ جب ایک شخص داخل ہوا اور کنویں میں گر گیا،وہ کنواں مسجد میں تھا اور وہ صحابی نابینا تھے اس پر کئی صحابہ ہنس پڑے جو کہ نماز میں تھے تو نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو ہنسے ہیں وہ وضو اور نماز کا اعادہ کریں اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا اور اسکے راوی ثقہ ہیں اور بعض میں اختلاف ہے۔(مجمع الزوائد و منبع الفوائد، کتاب الصلٰوۃ،باب الضحک و التبسم فی الصلاۃ،ج2، ص236، دار الفکر بیروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
”(وأما) الثاني فهو القهقهة في صلاة مطلقة، وهي الصلاة التي لها ركوع، وسجود، فلا يكون حدثا خارج الصلاة، ولا في صلاة الجنازة، وسجدة التلاوة. وهذا استحسان…،(ولنا) ما روي في المشاهير عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه «كان يصلي فجاء أعرابي في عينيه سوء فوقع في بئر عليها خصفة فضحك بعض من خلفه فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال من قهقه منكم فليعد الوضوء، والصلاة، ومن تبسم، فلا شيء عليه» طعن أصحاب الشافعي في الحديث من وجهين أحدهما أنه ليس في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم بئر، والثاني أنه لا يظن بالصحابة الضحك خصوصا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذا الطعن فاسد لأنا ما روينا الصلاة كانت في المسجد على أنه كانت في المسجد حفيرة يجمع فيها ماء المطر، ومثلها يسمى بئرا. وكذا ما روينا أن الخلفاء الراشدين، أو العشرة المبشرين أو المهاجرين الأولين، أو فقهاء الصحابة، وكبار الأنصار هم الذين ضحكوا بل كان الضاحك بعض الأحداث، أو الأعراب، أو بعض المنافقين لغلبة الجهل عليهم، حتى روي أن أعرابيا بال في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم و القهقهة ما يسمع جيرانه“
ترجمہ:اور دوسری چیز وہ مطلق نماز میں قہقہہ لگانا ہے اور مطلق وہ نماز جس کا رکوع و سجود ہو لہذا یہ قہقہہ نماز سے ہٹ کر اور نماز جنازہ و سجدہ تلاوت میں حدث نہیں ہے اور یہ استحسان ہے۔ ہماری دلیل:نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے کہ جب ایک شخص داخل ہوا اور کنویں میں گر گیا،اور وہ شخص نابینا تھا اس پر کچھ لوگ ہنس پڑے جو کہ حضور کے پیچھے تھے تو نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو ہنسا وہ وضو اور نماز کا اعادہ کرے اور جس نے تبسم کیا اس پر کچھ نہیں۔ اس پر اصحاب شافعی نے دو طرح سے اعتراض کیا ایک یہ کہ حضور علیہ السلام کی مسجد میں کنواں نہیں اور دوسرا یہ کہ خصوصاً حضور علیہ السلام کے پیچھے صحابہ پر ہنسننے کا گمان نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ طعن فاسد ہے کیونکہ ہم نے یہ روایت نہیں کیا کہ نماز حضور کی مسجد میں تھی کہ کنواں اس میں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز ایسی مسجد میں تھی جس میں گڑھا تھا اس میں بارش کا پانی جمع کیا جاتا تھااور اسے کنویں کا نام دیا گیا۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی نہیں بیان کیا کہ خلفاء راشدین یا عشرہ مبشرہ یا مہاجرین اولین یا فقہاء صحابہ یا کبار انصار ہنسے بلکہ ہنسنے والے یا تو نئے مسلمان یا دیہاتی یا بعض منافق تھے جن پر جہالت کا غلبہ تھا حتی کہ مروی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد نبوی میں بول کر دیا۔ اور قہقہہ یہ ہے کہ جسے آس پاس کے لوگ سنیں۔(بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ،فصل بيان ما ينقض الوضوء، القهقهة في الصلاة، ج1، ص32، دار الكتب العلميه)
ہدایہ میں ہے:
"والقھقہ فی صلوٰۃ ذات رکوع وسجود والقیاس انھا لاتنقض وھو قول الشافعی لانہ لیس بخارج من نجس ۔۔۔۔۔۔ولنا قولہ علیہ السلام الا من ضحک منکم قھقہ فلیعد الوضوء والصلوہ جمیعا وبمثلہ یترک القیاس”
ترجمہ: قہقہہ رکوع سجدہ والی نماز میں اور قیاس یہ ہے کہ قہقہہ ناقص وضو نہیں ہے اور یہ امام شافعی کا قول ہے کیونکہ یہ نجس نکلنے والی چیز نہیں اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار جو شخص تم سے قہقہہ سے ہنسا تو وہ وضو اور نماز دونوں کا اعادہ کرے اور اس جیسی نص سے قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے۔(ہدایہ ،جلد 1 ،صفحہ 120، مطبوعہ، کراچی)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
”عن جابر قال قال لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ضحک منکم فی صلاتہ فلیتوضا ثم یعید الصلاۃ“
ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی نے نماز میں قہقہہ لگایا تو پس وہ وضو کرے پھر نماز کا اعادہ کرے۔(بنایہ شرح ہدایہ،ج1،ص289، دارالکتب العلمیہ ،بیروت)
درمختار و ردالمحتار میں ہے:
”(وقهقهة) هي ما يسمع جيرانه (بالغ) ولو امرأة سهوا (يقظان) فلا يبطل وضوء صبي ونائم بل صلاتهما به يفتى. (قوله: وقهقهة) قيل: إنها من الأحداث، وقيل: لا وإنما وجب الوضوء بها عقوبة وزجرا…ورجح في البحر القول الثاني بموافقته للقياس “
ترجمہ: اور بالغ بیدار کا قہقہہ یہ وہ ہے جسے پاس والے سن لیں، اگرچہ عورت ہو چاہے بھولے سے واقع ہوا تو یہ نماز و وضو کو توڑ دے گا اور بچے،سونے والے کا وضو باطل نہیں ہو گا بلکہ مفتی بہ قول پر ان کی نماز باطل ہو گی۔ مصنف کا قول قہقہہ ایک قول یہ کہ یہ حدث ہے اور ایک قول یہ کہ یہ حدث نہیں اور وضو عقوبت و زجر کے طور پر واجب ہوا اور قیاس سے موافقت کے سبب بحر میں دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔(الدرالمختار و ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، مطلب:نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج1 ، ص144،145، دار الفکر بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”(ومنها القهقهة) وحد القهقهة أن يكون مسموعا له ولجيرانه… القهقهة في كل صلاة فيها ركوع وسجود تنقض الصلاة والوضوء عندنا. كذا في المحيط سواء كانت عمدا أو نسيانا كذا في الخلاصة. ولا تنقض الطهارة خارج الصلاة “
ترجمہ: اور قہقہہ اس کی حد یہ ہے کہ اسے بھی سنائی دے اور جو اس کے آس پاس کے لوگ ہیں ان کو بھی(اور ضحک یہ ہے کہ اسے سنائی دے) قہقہہ ہر اس نماز میں جس میں رکوع و سجود ہو نماز و وضو دونوں کو ہمارے نزدیک توڑ دے گا اسی طرح محیط میں ہے چاہے جان بوجھ کر ہو یا بھول کر جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور نماز سے ہٹ کر قہقہہ لگانے سے طہارت نہیں ٹوٹے گی۔(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوء، الفصل الخامس، ج1، ص 12، دار الفکر بیروت)
میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے:
”سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ تعالٰی یقول وجہ من نقض الطہارۃ بالقہقہۃ“
میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے۔(میزان الشریعۃ الکبری، باب اسباب الحدث، ج1،ص125، دارا لکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
بالغ کا قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسی کہ آس پاس والے سنیں اگر جاگتے میں رکوع سجدہ والی نماز میں ہو وُضو ٹوٹ جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی۔ اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز ِجنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وُضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔(بہار شریعت، حصہ 2، وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان، مسئلہ:41٬42، مکتبۃ المدینہ کراچی )
واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
14جمادی الاخری 1445ھ
28دسمبر2023ء، جمعرات