ناپاکی کی حالت میں دعائےقنوت پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ کیا ناپاکی کے ایام میں دعائے قنوت اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ سے بِالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ تک پڑھنا مکروہ ہے ؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
دعائے قنوت دعائے ماثورہ ہے جو کہ حدیث مبارکہ میں الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ مذکور ہے اور ناپاکی کی حالت(یعنی حیض و جنابت) میں دعا واذکار کرنا ممنوع نہیں ہے لیکن ظاہر المذہب میں یعنی امام محمد کے نزدیک اس حالت میں دعائے قنوت پڑھنا مکروہ ہے کہ اس میں آیت قرآنی کا شبہ ہے البتہ ظاہر الروایہ یہی ہے اور اسی پر فتویٰ ہے کہ یہ قنوت دعا ہے اور ناپاکی کی حالت میں اس کو پڑھنا مکروہ نہیں ہے ۔
مصنف ابن أبي شيبة میں ہے
” عن أبي عبد الرحمن، قال: علمنا ابن مسعود أن نقرأ في القنوت: «اللهم إنا نستعينك ونستغفرك، ونؤمن بك ونثني عليك الخير، ولانكفرك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي، ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، ونرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق»“
ترجمہ:حضرت ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ نے ہمیں دعائے قنوت یعنی وتر میں کے لیے یہ کلمات سکھائے (ترجمہ) اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہیں، تیری ناشکری نہیں کرتے، جو تیری نافرمانی کرے اسے چھوڑتے ہیں اور اس سے دور ہوتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب سخت ہے جو کافروں تک پہنچنے والا ہے۔(مصنف ابن أبي شيبة ، جلد 2 صفحہ 95 ،مطبوعہ، بیروت)
فتویٰ ھندیہ میں ہے
”ولایکرہ قراءہ القنوت فی ظاھر الروایہ کذا فی التبیین و علیہ الفتوی کذا فی التجنیس والظھیریہ“
اور دعائے قنوت پڑھنا مکروہ نہیں ہے اور یہی ظاہر الروایہ ہے جیسا کہ تبیین الحقائق میں مذکور ہے اور اسی پر فتویٰ ہے جیسا کہ تجنیس اور ظہیریہ میں مذکور ہے ۔(فتویٰ ھندیہ ، کتاب الطھارہ ، جلد 1 ، صفحہ 43، دار المعرفۃ بیروت)
ردالمحتار میں ہے
” (لاقراءہ قنوت) ھذا ظاھر المذھب وعن محمد انہ یکرہ احتیاطا لان لہ شبھہ القرآن لاختلاف الصحابہ لان ابیا جملہ سورتین من القرآن من اولہ الی اللھم ایاک نعبد سورہ ومن ھنا الی اخرہ اخری لکن الفتوی علی ظاھر الروایہ لانہ لیس بقران قطعا ویقینا بالاجماع فلا شبھہ توجب الاحتیاط المذکور نعم یستحب الوضوء لذکر اللہ تعالیٰ وتمامہ فی الحلیہ“
ترجمہ:اور قنوت کا پڑھنا اس کے لیے مکروہ نہیں ہے،یہ ظاہر المذہب ہے ۔امام محمد سے مروی ہے کہ احتیاطا مکروہ ہے کیونکہ اس کے لیے قرآن کا شبہ ہے صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے کیونکہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو قرآن کی دو سورتیں بناتے ابتداء سے لے کر اللھم ایاک نعبد تک ایک سورہ اور یہاں سے آخر تک دوسری آیت لیکن فتویٰ ظاہر الروایہ پر ہے کیونکہ بالاجماع یہ قطعا ویقینا قرآن نہیں پس ایسا شبہ نہیں ہے جو مذکور احتیاط کا موجب ہو ہاں اللہ کے ذکر کے لیے وضو کرنا مستحب ہے مکمل بحث الحلبہ میں ہے ۔(ردالمحتار ، کتاب الطھارہ ، جلد 1 ، صفحہ 351، دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
04رجب المرجب 1445ھ16جنوری 2024ء