نابالغ کی زمین بیچنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ یتیم بچوں کی زمین کیا ماموں یا مرحوم کے دوست کو بیچنے کی اجازت ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
پوچھی گئی صورت میں ماموں یا مرحوم کے دوست اگر مرحوم باپ کے وصی نہیں تو نابالغ بچوں کی زمین بیچنے کا اختیار نہیں۔ جب ان کو اختیار نہیں تو اگر بیچیں گے تو فضولی کی بیع قرار پائے گی اور بوقت عقد اس کو جائز کرنے والا کوئی سبب نہ ہو تو وہ بیع محض باطل ہو گی نابالغ بالغ ہونےکےبعد بھی اس کو نافذ نہیں کر سکتا۔ اگر باپ کی طرف سے چھوٹے بچہ کے لئے جو وصی مقرر ہے اسے بچہ کی جائیداد غیر منقولہ صرف اس صورت میں بیچنے کا اختیار ہے جب میت پر دَین ہو جو صرف زمین کی قیمت سے ہی ادا کیا جاسکتا ہے یا بچہ کے لئے زمین کی قیمت کی ضرورت ہو یا کوئی خریدار زمین کی دوگنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
”(ووليه أبوه ثم وصيه) بعد موته ثم وصي وصيه… (ثم) بعدهم (جده)…(ثم وصيه) ثم وصي وصيه… (ثم القاضي أو وصيه)…(دون الأم أو وصيها) هذا في المال“
ترجمہ نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے پھر اس کی موت کے بعد اس کا وصی ہے پھر اس کے وصی کا وصی ہے اور پھر ان کے بعد اس کا دادا ہے اس کا وصی ہے پھر اس کے وصی کا وصی پھر قاضی یا اس کا وصی ہے ماں یا ماں کا وصی ولی نہیں یہ حکم مال میں ولایت سے متعلق ہے۔(در مختار مع رد المحتار، کتاب البیوع فصل فی الفضولی ج6 ص174 دار الفکر بیروت)
اسی میں ہے:
” أم أو أخ فإنهما لا يملكان بيع العقار مطلقا ولا شراء غير طعام وكسوة“
ترجمہ ماں یا بھائی بالغ کی جائیداد کو بیچنے کا مطلقاً اختیار نہیں رکھتے اور نہ کھانے اور کپڑے کے علاوہ کسی چیز کے خریدنے کا اختیار رکھتے ہیں۔(در مختار مع رد المحتار، کتاب البیوع فصل فی الفضولی ج6 ص711 دار الفکر بیروت)
ردالمختار میں ہے:
”(قوله ووصي أبي الطفل أحق إلخ) الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه … وأما وصي الأخ والأم والعم وسائر ذوي الأرحام ففي شرح الإسبيجابي أن لهم بيع تركة الميت لدينه أو وصيته إن لم يكن أحد ممن تقدم لا بيع عقار الصغار إذ ليس لهم إلا حفظ المال ولا الشراء للتجارة ولا التصرف فيما يملكه الصغير، من جهة موصيهم مطلقا لأنهم بالنظر إليه أجانب، نعم لهم شراء ما لا بد منه من الطعام والكسوة وبيع منقول ورثة اليتيم من جهة الموصي لكونه من الحفظ لأن حفظ الثمن أيسر من حفظ العين“
ترجمہ:مصنف کا قول بچے کے باپ کا وصی زیادہ حقدار ہے: بچے کے مال میں جو تصرف ہے یہ باپ کے لیے ہے پھر اس کے وصی کے لیے پھر اس کے وصی کے وصی کے لیے آخر تک۔ اگر باپ مر گیا اور اس نے کسی کو وصی نہیں بنایا تو ولایت دادا کے لیے اور پھر دادا کے وصی کے لیے پھر دادا کے وصی کے وصی کے لیے اور اگر یہ وصی بھی نہ ہو تو پھر قاضی کے لیے یا قاضی کے مقرر کردہ آدمی کے لیے ہے۔ بہرحال بھائی ماں اور چچا کا وصی اور تمام ذی رحم رشتہ دار تو شرح اسبیجابی میں ہے کہ ان کے لیے میت کے ترکے کو قرض اور اس کی وصیت کو پورا کرنے کے لیےبیچنا درست ہے اگر ان میں سے کوئی ایک نہ ہو جو وارث پیچھے گزر چکے ۔غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین نہیں بیچ سکتےکہ ان کی ذمہ داری نہیں مگر مال کے حفاظت کرنا نہ کہ تجارت کے لیے خریدنا اور نہ ہی ان کے لیے تصرف کرنا درست ہے اس میں جس کا بچہ ان کے موصی کے طرف سے مالک ہے۔کیونکہ اس بچے کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ اجنبی ہیں ہاں ان کے لیے ضروری چیز کا خریدنا جیسے کھانا اور کپڑے اور موصی کی جانب سے یتیم کے ورثاء کی منقولہ چیز کی بیع کرنا درست ہے کیونکہ عین چیز کی حفاظت کرنے سے ثمن کی حفاظت زیادہ آسان ہے۔ (ردالمحتار،کتاب الوصایا،باب الوصی،ج6، ص714-715، دار الفکر بیروت)
تنوير الأبصار مع در مختار میں ہے :
” كل تصرف صدر منه)…(وله مجيز) … (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا“
ترجمہ اور جو تصرف فضولی سے صادر ہو اور وقت وقوع اس کو جائز کرنے والا ہو تو وہ موقوف ہو کر منعقد ہوتا ہے اور جس کو حالت عقد کوئی جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔(در مختار مع رد المحتار، کتاب البیوع فصل فی الفضولی ص107-106 دار الفکر بیروت)
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فرمایا:
”مال اولاد نابالغ میں ماں کو کسی طرح کی ولایت حاصل نہیں سوا اس کے کہ حفظ و نگہبانی کرے یا ضروری چیزیں انھیں خرید دے۔ پس کلو نے کہ جائداد اور کلن اور علی حسین اور حسین بخش اور سلیمن نابالغوں کی ان کی جانب سے بیچ ڈالی، بیع فضولی قرار پائے گی، اور اس سبب سے کہ حالت عقد کوئی مجیز یعنی قابل اجازت نہ تھا محض ناجائز و باطل ہوگی کہ اگر نابالغان مذکورین بعد ازبلوغ اجازت دیتے تاہم صحیح نہ ہوتی کہ باطل کسی کی اجازت پر موقوف نہیں رہتا اور اس کی تصحیح غیر متصور۔ پس سہم نابالغان مذکورین کہ کل جائداد مبیعہ کے دسویں حصہ سے کچھ زائد ہے یعنی چہارم جائداد کہ متروکہ کہ شیخ خضری تھی اس ایک سو بانوے سہام سے ستتر سہام مشتری پر لازم ہے کہ ان نابالغوں کو واپس کردے اور (سہ ۳/۴ پے) زرثمن ان سہام کا ان کی ماں کلو سے وصول کرلے۔۔۔ رہا یہ کہ درصورت اولٰی بعد واپسی صرف نابالغان و درصورت ثانیہ پس از رد ہر دوسہم یادعلی و نابالغان جو باقی بچے اس کا کیا حکم ہے اس کی نسبت بوجہ اس بات کے کہ مبیع ذوات القیم سے اور استحقاق نسبت یادعلی بعد قبض کل واقع ہوا مشتری کو اختیار ہے خواہ عوض باقی زر ثمن کے کہ پہلی تقدیر پر (لعہ عہ /۱۲ ) ہے اور دوسری تقدیر پر (لعہ للعہ /۱۲ ) ہے اپنے پاس رکھے یا کل مبیع سب بالغوں کو واپس کردے اور اپنے پورے آٹھ سو ان سے وصول کرلے۔“(فتاوی رضویہ ج17 ص 99، 100 ،103 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
جو وصی بچہ کی ماں نے مقرر کیا وہ اس بچہ کے لئے اس کی وہ منقولہ جائداد تقسیم کرنے کا حقدار ہے جو بچہ کو اس کی ماں کی طرف سے ملی ہے، یہ حق اس وقت ہے جب بچہ کا باپ زندہ نہ ہو اور نہ باپ کا وصی، لیکن ان دونوں میں سے اگر ایک بھی ہے تو ماں کے وصی کو تقسیم کا حق نہیں لیکن ماں کا وصی کسی حال میں بھی بچہ کے لئے اس کی جائداد غیر منقولہ تقسیم نہیں کرسکتا اور نہ اسے اس جائداد کی تقسیم کا اختیار ہے جو بچہ کی ماں کے علاوہ کسی اور سے ملی چاہے وہ جائداد منقولہ ہو یا غیر منقولہ۔ یہی حکم نابالغ کے بھائی کے وصی اور اس کے چچا کے وصی کا ہے۔“(بہار شریعت ، ج 3 ، ح 19، ص 1007، مکتبہ المدینہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”باپ کی طرف سے چھوٹے بچہ کے لئے جو وصی مقرر ہے اسے بچہ کی جائیداد غیر منقولہ صرف اس صورت میں فروخت کرنے کا اختیار و اجازت ہے جب میت پردَین ہو جو صرف زمین کی قیمت سے ہی ادا کیا جاسکتا ہے یا بچہ کے لئے زمین کی قیمت کی ضرورت ہو یا کوئی خریدار زمین کی دوگنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو۔“(بہار شریعت ، ج 3، ح 19، ص 1007، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم
محمد شاہد حمید
24فروری2024