ملاوٹ والی چیز بیچنا
سوال ۔کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا دودھ میں یا کسی اور چیز میں ملاوٹ کرنا اور پھر وہ ملاوٹ والی چیز بیچنا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
شرعی طور پر ملاوٹ دھوکہ بازی ہے اور یہ ناجائز وگناہ کے ساتھ قانونا جرم بھی ہے۔ البتہ دودھ میں یا کسی بھی چیز میں اگر عام طور کچھ ملاوٹ ہونا رائج ہو اور وہاں کے لوگ اس ملاوٹ پر مطلع ہونے کے باوجود اسے خریدتے ہیں تو اس صورت میں جتنی ملاوٹ پر وہ مطلع ہے صرف اتنی ہی ملاوٹ کی جاسکتی ہے اور اس کا بیچنا بھی درست ہے ۔جیسے ہمارے یہاں دودھ کے مختلف ریٹ ہیں اور ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے کہ زیادہ مہنگا دودھ بالکل خالص ہے اور درمیانے درجے والے دودھ میں کم پانی ہےا ور جو سب سے سستا ہے اس میں پانی زیادہ ہے۔لیکن ملاوٹ شدہ چیز کو خالص کہہ کر نہ بیچا جائے کہ یہ جھوٹ اور دھوکا ہے۔
ملاوٹ والی چیز پر گاہک کو مطلع کرکے بیچا لیکن پتہ ہے کہ گاہک آگے صحیح کہہ کر بیچے گا تو ایسے شخص کو بیچنا مناسب نہیں۔
سننِ ابنِ ماجہ میں ہے
”عن عقبۃ بن عامر قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المسلم اخوالمسلم ولایحل لمسلم باع من اخیہ بیعافیہ عیباً الایبینہ لہ“
ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہامیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا:مسلمان ،مسلمان کابھائی ہے اور کسی مسلمان کوحلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کوایسی چیز بیچے جس میں عیب ہومگر یہ کہ اسے بیان کردے ۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات ،باب من باع عیبافلیبینہ ،جلد2،صفحہ755،داراحیاء الکتب العلمیہ)
صحیح مسلم میں ہے
:’’من سل علینا السلاح فلیس منا ومن غشنا فلیس منا‘‘ یعنی جس نے ہم پر تلواراٹھائی وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہم سے دھوکہ دیا(ملاوٹ کی) وہ ہم میں سے نہیں ۔(صحیح مسلم،جلد1،کتاب الایمان، صفحہ:143،مطبوعہ :موسسہ قرطبہ)
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’ملاوٹ سے مراد یا چیز کا عیب چھپا کر فروخت یا اصل میں نقل ملادینا غرضکہ ہر کاروباری دھوکہ مراد ہے ۔‘‘(مرأۃ المناجیح ،جلد:5،صفحہ :429،مطبوعہ لاہور)
کنز العمال کی حدیث پا ک ہے:
’’لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا اَوْضَرَّہٗ اَوْمَاکَرَہٗ‘‘
یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکا دے یا تکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکر(فراڈ)کرے۔(کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف المیم، المکر والخدیعۃ، جلد 2 ، صفحہ 218,الحدیث: 7822، الجزء الثالث، مطبوعہ بیروت)
الاشباہ والنظائر میں ہے
’’ الضرر یزال،اصلھا قولہ علیہ الصلاۃ و السلام لاضرر و لاضرار ‘‘
ترجمہ:ضرر کوختم کیاجائے گا،اس قاعدے کی اصل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کافرمان ہے:’’نہ ضررلواورنہ ضرردو۔‘‘ ( الاشباہ والنظائر،جلد1،صفحہ121، دارالکتب العلمیہ،بیروت)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے
” قال شهاب الآدمي له حنطة نقية أراد أن يخلط فيها من التراب ۔۔ ليس له ذلك كذا في القنية. “
علامہ شہاب نے فرمای کہ ایک شخص کے پاس صاف گیہوں ہیں، اس نے چاہا کہ اس میں مٹی ملا کر فروخت کردوں تو اس کے لیے یہ درست نہیں ہے جیسا کہ قنیہ میں مذکور ہے ۔(فتاویٰ ھندیہ ، کتاب الکراھیہ ،ج 5 ، ص 445، دار المعرفۃ بیروت)
درمختارمیں ہے
”لاباس ببیع المغشوش اذا بین غشہ اوکان ظاھرا یری وکذاقال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فی حنطۃ خلط فیہا الشعیر والشعیریری لاباس بیبعہ و ان طحنہ لایبیع وقال الثانی فی رجل معہ فضۃ نحاس لایبیعہا حتی یبین“
ترجمہ:ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جب اس کی ملاوٹ کو بیان کردے یا ملاوٹ ایسی ظاہر ہو کہ دکھائی دیتی ہو اوریونہی فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایسی گندم کے بارے میں جس میں جوملے ہوئے ہو ں اس طورپو کہ جونظر آتے ہو ں تو ایسی گندم کی بیع میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تو نہ بیچا جائے، اور امام ابویوسف نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔ ( درمختار ، باب المتفرقہ، ج 6، ص 234 ، دار الفکر بیروت)
ردالمحتار میں ہے
”قول وان طحنہ لایبیع ای الاان یبین لانہ لایری“
صاحب درمختار کا فرمانا کہ جب اس نے مخلوط گندم کو پیش لیا تو مت بیچے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بیان کئے بغیر نہ بیچےکیونکہ اب اس میں ملاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔( ردالمحتار ، باب المتفرقات، ج 4 ، ص 221، داراحیاء التراث العربی بیروت )
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہو، نہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدرمیل سے جتنا وہاں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائے، خلاصہ یہ کہ جب خریدارو ں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہے، اخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی، اور عدم جواز صرف بوجہ غش وفریب تھا، جب حال ظاہر ہے غش نہ ہوا، اور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او ر باوصف علم خریدتے یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے، اور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رضی اللہ تعالٰی عنہ میں مطلقا جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدبیان فریب نہ رہا۔۔
بالجملہ: مدار کا ظہور امر پرہے خواہ خود ظاہر ہو جیسے گیہو ں میں جو چنو ں میں کسایا بجہت عرف و اشتہار مشتری پرواضح ہوجیسے دودھ کا معمولی پانی خواہ یہ خو دحالت واقعی تمام وکمال بیان کرے۔“(فتاویٰ رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 150، رضا فائونڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”اچھے، صاف گیہوں میں خاک دھول ملا کر بیچنا ناجائز ہے، اگر چہ وہاں ملانے کی عادت ہو۔“(بہار شریعت ، جلد 3, حصہ 16 ، صفحہ 483، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
11شعبان المعظم 1445ھ22فروری 2024ء
نظر ثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری