قعدہ اخیرہ کے بعد قصدا منافی نماز عمل اور نمازواجب الاعادہ
کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بعض کتب فقہ میں لکھا ہے کہ قعدہ اخیرہ کے بعد سلا م کے علاوہ بات چیت یاکوئی ایسا عمل قصدا کرنا جو نماز سے باہر کردے تو ا س سے نما ز واجب الاعادہ ہوتی ہے جبکہ ہدایہ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نماز کا اعادہ نہیں ہے۔ ان میں سے درست مسئلہ کیا ہے؟اگر نماز واجب الاعادہ ہے تو کیوں؟ پھر صاحب ہدایہ نے کس چیز کا اعادہ لازم نہیں کیا؟ یعنی دونوں میں تطبیق کیا ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صورتِ مسئولہ میں دونوں مسائل ہی درست ہیں اور دونوں مسائل میں تطبیق یہ ہے کہ ہدایہ کا مسئلہ قعدہ اخیرہ کے بعد سلام يا بات چيت وغيرہ کوئی ايسا فعل قصدا کرنا جونماز سے باہر کردے۔ تو نماز مکمل ہو گئی کیونکہ اب نماز توڑنے والی چیز کے پائے جانے کے سبب بنا کرنا متعذر ہے لیکن اس پر اعادہ نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کےفرائض پورے ہو گئے اب اسے یہ نماز دوبارہ پڑھنا فرض نہیں،نماز مکمل ہوگئی۔ اور نماز کے احکام میں غنیۃ المستملی کے حوالے سے مسئلہ کہ سلام کے علاوہ کوئی فعل قصداپايا گيا تو نماز واجبُ الاعادہ ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ ایک واجب یعنی سلام رہ گیا لہذا واجب چھوٹنے کے سبب نماز واجب الاعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔
ہدایہ میں ہے:
”وإن تعمد الحدث في هذه الحالة أو تكلم أو عمل عملا ينافي الصلاة تمت صلاته لأنه يتعذر البناء لوجود القاطع لكن لا إعادة عليه لأنه لم يبق عليه شيء من الأركان “
ترجمہ: اور اگر اس حالت میں قصداحدث کیایا بات کی یا عمل کیا ایسا جو نماز کے منافی ہے تو نماز مکمل ہو گئی کیونکہ اب نماز توڑنے والی چیز کے پائے جانے کے سبب بِنا کرنا متعذر ہے لیکن اس پر اعادہ نہیں کیونکہ ارکان میں سے کوئی رکن باقی نہیں رہا۔(ہدایہ،کتاب الصلٰوۃ، باب الحدث في الصلاة، حصہ اول، ص132،مطبوعہ لاہور )
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
”(وإن تعمد الحدث في هذه الحالة): يعني بعد التشهد م: (أو تكلم أو عمل عملا ينافي الصلاة فقد تمت صلاته لأنه يتعذر البناء لوجود القاطع): وهو تعمد الحدث أو الكلام أو عمل ما ينافي الصلاة: (لكن لا إعادة عليه): أي إعادة صلاته: (لأنه لم يبق عليه شيء من الأركان): وفساد ما بقي لا يؤثر في فساد ما مضى“
ترجمہ: اور اگر تعمداً (جان بوجھ کر)حدث کیا یعنی وضو توڑا اس حالت میں یعنی تشہد کے بعد یا کلام کیا یا ایسا عمل کیا جو نماز کے منافی ہے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی کیونکہ اب بِنا متعذر ہے نماز توڑنے والی چیز کے پائے جانے کے سبب، اور وہ جان بوجھ کر حدث کرنا یعنی وضو توڑنا یا کلام کرنا یا نماز کے منافی عمل کرنا لیکن اس پر اعادہ نہیں یعنی نماز کا اعادہ نہیں کیونکہ اس پر ارکان میں سے کوئی شے باقی نہ رہی اور جو مابقی ہے اس کا فاسد ہونا گزشتہ ارکان نماز کے فاسد ہونے میں مؤثر نہیں ہوگا۔(بنایہ شرح ہدایہ،ج2،ص391، دار الکتب العلمیہ بیروت)
درمختار میں ہے:
”(و) اعلم أنه (إن تعمد عملا ينافيها بعد جلوسه قدر التشهد) ولو بعد سبق حدثه (تمت) لتمام فرائضها، نعم تعاد لترك واجب السلام (ولو) وجد المنافي (بلا صنعه) قبل القعود بطلت اتفاقا“
اس کے تحت ردالمحتار میں ہے:
”(قوله: تمت) أي صحت، إذ لا شك أنها ناقصة لترك الواجب ط(قوله: نعم تعاد) أي وجوبًا ط“
ترجمہ: اور تو جان لے کہ اگر کسی نے عمداً یعنی جان بوجھ کر عمل کیا جو نماز کے منافی ہے تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد اگرچہ حدث کے سابق ہونے کے بعد تو فرائض کے پورے ہونے کی وجہ سے اس کی نماز مکمل ہوگئی ہاں واجب یعنی سلام کے چھوٹنے کے سبب لٹانا واجب ہے اور اگر اس کے ارادے کے بغیر منافی صلوۃ یعنی نماز کے مخالف عمل پایا گیا بیٹھنے سے پہلے تو اتفاقاً نماز باطل ہو گئی۔
مصنف کا قول اس کی نماز پوری ہوگی مطلب اس کی نماز صحیح ہوگی، جب کہ اس بات میں شک نہیں کہ وہ نماز واجب کے ترک کرنے کی وجہ سے ناقص ہے اور مصنف کا قول کو اس کو لٹایا جائے گا یعنی لوٹانا واجب ہے۔(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ،باب الاستخلاف، ج1،ص 606، دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام و کلام وغیرہ کوئی ایسا فعل جو منافی نماز ہو بقصد کرنا، مگر سلام کے علاوہ کوئی دوسرا منافی قصداً پایا گیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوئی اور بلاقصد کوئی منافی پایا گیا تو نماز باطل۔“(بہار شریعت،جلد1 ،حصہ 3خروج بصنعہ، فرائض نماز ،نمبر:7، مکتبۃ المدینہ)
واللہ تعالی اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللہ تعالی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
جمادی الاخری1445ھ
5جنوری2023ء،جمعہ