غیر متعینہ حصے کی بیع اور ہبہ کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص نے اپنا ذاتی پلاٹ اپنی زندگی میں بغیر حد بندی کیے آدھا ایک بیٹے کو بیچ دیا اور بقیہ آدھا بغیر حد بندی کے دوسری بیٹے کو ہبہ کردیا اور قبضہ دیے بغیر فوت ہوگیا۔شرعی طور پر اب اس پلاٹ کی حیثیت کیا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں جس آدھے حصے کی بیع کی وہ بیع درست ہے کیونکہ مشاع یعنی قابل تقسیم چیز کی بیع تقسیم سے پہلے درست ہے۔ اور جس آدھے حصے کو والد نے ہبہ کیا اور قبضہ دینے سے پہلے انتقال کر گیا تو ہبہ درست نہیں۔ کیونکہ مشاع چیز کے ہبہ میں تقسیم کاری کرنا اور موہوب لہ کو قبضہ دینا ضروری ہوتا ہے لہذا قبضہ و تقسیم سے پہلے جب ہبہ کرنے والا وفات پا گیا تو اب پلاٹ کا وہ حصہ ہبہ باطل ہونے کے سبب اس کے ورثا کی ملک میں بطور وراثت آ گیا ہے۔
شرح المجلہ میں ہے:
”يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الافراز“
یعنی مملوکہ زمین میں سے ایک معلوم شائع حصہ جیسا کہ نصف تہائی یا دسواں حصہ علیحدہ کرنے سے پہلے بیچنا صحیح ہے۔(شرح المجلة لسليم رستم باز، الباب الثاني، الفصل الثاني، ج1، ص188، رقم المادة:214، دار الجبل)
ہدایہ اور فتح القدیر میں ہے:
”وإن اشترى عشرة أسهم من مائة سهم جاز في قولهم جميعا لأن السهم اسم للجزء الشائع فكان المبيع عشرة أجزاء شائعة من مائة سهم“
ترجمہ:اور اگر سو حصوں میں سے دس حصے خریدے تو سب کے نزدیک جائز ہیں۔ کیونکہ سھم جزء شائع کا نام ہے تو مبیع سو سھم یعنی حصوں میں سے دس اجزاء شائع ہیں۔(ہدایہ مع فتح القدیر،ج6، ص275، دار الفکر بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
”ألا ترى أنه يجوز بيع المشاع“
ترجمہ:کیا تو دیکھتا نہیں کہ مشاع چیز کی بیع جائز ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب الہبۃ، جلد6،صفحہ120، دارالکتب العلمیہ،بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”مشاع یعنی بغیر تقسیم چیز کو بیع کردیا جائے تو بیع صحیح ہے۔“(بہار شریعت، ہبہ کا بیان،ج 2، حصہ 14، ص 74، مکتبہ المدینہ کراچی)
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
”وتتم الهبة بالقبض الكامل.لاتتم بالقبض فيما يقسم فإن قسمه وسلمه صح لزوال المانع.موت أحد العاقدين بعد التسليم فلو قبله بطل، بطلت أي لانتقال الملك للوارث قبل تمام الهبة“
یعنی کامل قبضے سے ہبہ مکمل ہوتا ہے۔ قابل تقسیم چیز میں ہبہ بغیر تقسیم تام نہیں ہوتا اگر تقسیم کر دیا اور سپرد کر دیا تو مانع کے زائل ہونے کے سبب ہبہ صحیح ہے۔ عقد کرنے والوں میں سے ایک کا سپرد کرنے کے بعد مرنا ہبہ باطل نہیں کرتا اور قبل مرجانا باطل کردیتا ہے یعنی قبضہ مکمل ہونے سے پہلے ملک وارث کیلئے منتقل ہونے کے سبب ہبہ باطل ہو گیا۔(درمختار مع ردالمختار، کتاب الہبۃ، ج5، ص690،692 و 701، دار الفکر بیروت، ملتقطاً)
بدائع الصنائع میں ہے:
” لا تجوز ھبۃ المشاع فیما یقسم وتجوز فیما لا یقسم‘‘
یعنی مشاع قابلِ تقسیم چیز کا ہبہ جائز نہیں اور وہ چیز جسے تقسیم نہ کیا جا سکتا ہو ایسی چیز کا ہبہ تقسیم کے بغیر بھی جائز ہے ۔(بدائع الصنائع،جلد6، صفحہ119، دارالکتب العلمیہ،بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية“
ترجمہ:اور موہوب لہ چیز کی ملکیت قبضے کے بغیر ثابت نہیں ہوتی یہی مختار ہے جیسا کہ فصول العمادیہ میں ہے ۔(فتاوی ہندیہ ،كتاب الهبة،الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز،ج 4 ص378، دار الفکر بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
” شے مشترکہ صالح تقسیم کا ہبہ قبل تقسیم ہر گز صحیح نہیں اور اگر یوں ہی مشاعاً یعنی بے تقسیم موہوب لہ کو قبضہ بھی دے دیا جائے، تاہم وہ شے بدستور ملک واہب پر رہتی ہے، موہوب لہ کا اصلاً کوئی استحقاق اس میں ثابت نہیں ہوتا، نہ وہ ہر گز بذریعہ ہبہ اس کا مالک ہوسکے جب تک واہب تقسیم کرکے خاص جزء موہوب معین محدود وممتاز جداگانہ پر قبضہ کاملہ نہ دے۔“(فتاوی رضویہ، ج19، ص207، رضافاؤنڈیشن لاھور)
بہار شریعت میں ہے:
”جو چیز تقسیم کے قابل ہے اُس کو اجنبی کے لیے ہبہ کرے یا شریک کے لیے دونوں صورتیں نا جائز ہیں ۔ ہاں اگر ہبہ کرنے کے بعد واہب نے اُسے خود یا اُس کے حکم سے کسی دوسرے نے تقسیم کرکے قبضہ دیدیا یا موہوب لہ کو حکم دیدیا کہ تقسیم کرکے قبضہ کرلو اور اُس نے ایسا کرلیا ان صورتوں میں ہبہ جائز ہو گیا کیونکہ مانع زائل ہوگیا۔“(بہار شریعت، ہبہ کا بیان، حصہ 14،ص74، مسئلہ19، مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم
محمد شاہد حمید
1 فروری 2024ء