عقد شرکت میں ایک طر ف سے مال اور دوسری طرف سے محنت
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آج کل یوں بھی کاروبار کیا جاتا ہے کہ کسی فیکٹری وغیرہ سے یوں عقد کیا جاتا ہے کہ گاہک و آرڈر میں لاؤں گا اور تم اس پر سرمایہ لگا کر مال تیار کرو گے اور میں اس مال کی تیاری میں نگرانی کروں گا اور جو نفع و نقصان ہوگا وہ برابر برابر ہوگا۔کیا یوں عقد کرنا درست ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مستفسرہ (پوچھی گئی صورت )کے مطابق شرکت کا یہ طریقہ درست نہیں ہے کہ شرکت میں ایک طرف سے مال ہو اور دوسری طرف سے مال نہ ہو تو یہ شرکت صحیح نہیں ہوتی شرکت میں دونوں طرف سے مال کا ہونا لازم ہے اور یہ مضاربت کی تعریف کے تحت بھی درست نہیں ہے کہ اس میں راس المال یعنی سرمایہ مضارب(کام کرنے والے) کو دیا جاتا ہے کہ اس سے کام کروں اور نفع فیصد کے اعتبار سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان رب المال (پیسے دینے والے)کا ہوتا ہے اور مضارب کے ذمہ نقصان برداشت کرنے کی شرط فاسد ہے جبکہ اس میں نقصان دونوں برداشت کررہے ہیں۔
لہٰذا یہ عقد درست نہ ہوا اور اب شرعی حکم یہ ہے کہ گاہک اور مال لانے پر اس کو اپنے کام پر عرف کے مطابق اجرت مثل ملے گی(یعنی جتنی اجرت اس کام کی ہوتی ہے اس کے برابر فقط اجرت ملے گی) اور نفع ونقصان سب اس فیکٹری والے کا ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
”(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض“
ترجمہ:اور شرکت مال کے ساتھ کرنا تو اس کی بھی شرط ہے اس میں سے یہ ہے کہ راس المال سرمائے کے ساتھ شرکت کرے جو کہ متعین ہو اور اس سرمائے کا تعین واضح ہو اور وہ درہم و دینار میں ہو چاہے شرکت عنان یا مفاوضہ۔ یہ عام علماء کے نزدیک ہے اور سامان میں شرکت جائز نہیں ہے۔(بدائع الصنائع ،كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط انواع الشركة، ج 6، ص59، دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ھندیہ میں ہے
”لو کان مع احدھما مال ولا مال مع الاخر فاشترکا علی یعمل بمال صاحب المال لایجوز“
اگر ان میں سے ایک کے ساتھ مال ہو اور دوسرے کے ساتھ مال نہ ہو تو پس وہ اس طور پر شرکت کرے کہ مال والا بھی کام کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ، ج 6 ، صفحہ 408 ، دار الفکر بیروت)
وقایہ میں ہے
"ھی عقد شرکہ فی الربح بمال من رجل وعمل آخر“
ترجمہ:مضاربت میں نفع میں ایسی شرکت ہے جس میں ایک کا مال اور دوسرے کا کام ہوتا ہے اور پورا نفع دونوں میں تقسیم ہوگا ۔(شرح وقایہ ، کتاب المضاربہ ، جلد 4 ، صفحہ 243 ، مکتبۃ شاملہ)
فتاوٰی رضویہ میں ہے :
” مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدِّی و دست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحبِ مال کی طرف رہے گا۔ “( فتاوٰی رضویہ ، جلد 19 ،صفحہ 131 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
ردالمختار میں ہے
”والربح فی الشرکہ الفاسد بقدر المال۔۔۔۔فلو کل المال لاحدھما فللاخر اجرت مثلہ“
شرکت فاسدہ میں نفع مال کی مقدار کے مطابق ہوگا پس اگر سارا مال ان میں سے ایک کا ہو تو دوسرے کو اس کے کام کی اجرت مثل ملے گی۔(ردالمختار ، کتاب الشرکۃ ،جلد 6 ، ص 497، کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
:شرکت فاسدہ میں اگر ایک ہی کامال ہوتو جو کچھ نفع حاصل ہوگا اِسی مال والے کو ملے گا اور دوسرے کو کام کی اُجرت دی جائیگی مثلاًایک شخص نے اپنا جانور دوسرے کو دیا کہ اس کو کرایہ پر چلاؤاورکرایہ کی آمدنی آدھی آدھی دونوں لینگے یہ شرکت فاسدہے اور کل آمدنی مالک کو ملے گی اور دوسرے کو اجر مثل یوہیں کشتی چند شخصوں کو دیدی کہ اس سے کام کریں اور آمدنی مالک او ر کام کرنے والوں پر برابر برابر تقسیم ہو جائیگی تو یہ شرکت فاسد ہے اور اسکا حکم بھی وہی ہے۔“(بہار شریعت ، جلد 2 ،حصہ10 ، صفحہ 515, مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
03شعبان المعظم 1445ھ14فروری 2024ء