شرکت پر کاروبار کی رائج ناجائز صورت
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ آجکل یہ طریقہ کافی رائج ہے کہ کسی کو کاروبار کے لیے شراکت پر پیسے اس شرط پر دیتے ہیں کہ میر ی اصل رقم پوری بعد میں واپس کی جائے گی اور نفع ہر ماہ الگ سے دینا ہوگا۔ کیا یوں یہ عقد شرعا درست ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کے مطابق اس طرح کا معاملہ سودی عقد ہے جو کہ حرام ہے۔ جو رقم بطورِ شراکت دی جارہی ہے اور اس پر جو مکمل رقم واپسی کی شرط لگائی ہے تو اب اس کی حیثیت قرض کی سی ہے اور ہر ماہ الگ سےنفع لینا سود ہوگا کیونکہ قرض پر نفع سود کہلاتا ہے ۔مکمل رقم واپس ملنا اور ہر ماہ ایک فکس نفع شرکت میں نہیں ہوسکتا۔
نیز عموماً ایسی شراکت چلتے کاروبار میں کی جاتی ہے جبکہ شرعا چلتے کاروبار میں یوں شراکت نہیں ہوسکتی ہےکیونکہ شرکت بالمال میں دونوں طرف سے نقدی کا ہونا ضروری ہے اگر دونوں طرف سے سامان ہو یا ایک طرف سے سامان اور ایک طرف سے نقدی تو شرکت جائز نہیں کیونکہ اس سے یہ حرج لازم آتا ہے کہ کس کے مال پر کتنا نفع ہوا کچھ معلوم نہ رہے گا جو آپس میں جھگڑے کاباعث ہے۔آج کل شرکت پر کاروبار کرنے والوں کو آخرمیں اسی وجہ سے لڑتے دیکھا ہے۔
نصب الرایہ میں سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا:
”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا “
ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے ۔( نصب الرایہ ، جلد 4 ، صفحہ 60 ، مطبوعہ مؤسسۃ الریان ، بیروت )
ردالمختار میں ہے
’’(قوله كل قرض جرنفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ‘‘
یعنی ہر وہ قرض جو نفع لائے حرام ہے یعنی جب وہ مشروط ہو جیسا کہ اس سے معلوم ہوا جسے البحر اور الخلاصہ سے نقل کیا ہے اور الذخیرہ میں ہے کہ اگر قرض میں نفع مشروط نہ ہو تو امام کرخی کے قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(ردالمختار ،کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام ،ج 5، ص 166 ، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہواجس میں روپوں کے اعتبار سے نفع معین کرکے کاروبار میں شرکت کیلئے مال لگانے کا حکم دریافت کیا گیا تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا :
”یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں ، کام میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا عاریہ یا قرض ۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس ،شرکت ایک عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی۔۔۔۔۔۔اگر ایک سرمایہ سے تجارت ہوئی پھر اس میں سو حصہ دار اور شریک ہوئے اور ہر ایک کیلئے دس دس روپے نفع کے لینے ٹھہرے اور ا س سال ایک ہی ہزار کا نفع ہوا تو یہ ہزار تنہا یہی سو حصہ دار لیں گے یہ شرکت نہیں ٹوٹ ہے ، شرکت کا مقتضٰی یہ ہے کہ جیسے نفع میں سب شریک ہوتے ہیں نقصان ہو تو وہ بھی سب پر ہر ایک کے مال کی قدر پڑے ۔۔۔۔۔۔یہاں اگر نقصان ہوا جب بھی ان حصہ داروں کو اس سے غرض نہ ہوگی وہ اپنے ہزار روپے لے چھوڑیں گے یہ شرکت ہوئی یا غصب، اصل مقتضاء شرکت عدل و مساوات ہے ۔۔۔۔بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیں ، اب نہ رہے مگر عاریت یا قرض ، عاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپیہ صرف کرنے کو دیا، او ر عاریت میں شے بعینہٖ قائم رہتی ہے ۔۔۔۔بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰو۔“ (فتاوی رضویہ ،جلد17صفحہ371،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے :
”سوال: زید نے خالد کو ایک لاکھ تجارت کے لئے دیئے کہ تم اس سے تجارت کرو ہمیں ہر ماہ دو ہزار روپے بطور نفع دیتے رہنا واضح رہے یہ ایسی تجارت ہے جس میں نفع ضرور ہوگا کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی صورت کیا ہوسکتی ہے؟“
الجواب:
”زید اور خالد کا یہ معاملہ قرض بشرط سود کا معاملہ ہے جو قطعاً حرام و گناہ ہے اس لیے زید و خالد دونوں گناہ گار اور مستحق عذاب نار ہوئے۔
ہاں شرعی اصول و ضوابط کی روشنی میں اس کے جواز کی آسان صورت یہ ہے کہ زید خالد کو ایک لاکھ روپے بطور قرض دیدے اور اور ایک روپیہ بطور شرکت عنان دیدے یعنی خالد کی طرف سے ایک لاکھ روپے تجارت میں لگے جو زید نے قرض دیا اور زید کی طرف سے ایک روپیہ لگا اب شرکت اس طرح کریں کہ تجارت دونوں کریں گے اس کے بعد تجارت اگرچہ خالد تنہا کرتا رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں اس سے شرکت باطل نہ ہوگی اور نفع فی صد (پرسنٹ) کے لحاظ سے طے کرلیں ورنہ یہ شرکت بھی جائز نہ ہوگی خدانخواستہ تجارت میں اگر نقصان ہوا تو ظاہر ہے کہ زید کا صرف ایک روپیہ ہے بقیہ سارا روپیہ خالد کا ہے تو خسارہ اس کا ہوگا نہ کہ زید کا کیونکہ جو کچھ زید نے خالد کو دیا ہے قرض ہے جو اس سے وصول کرے گا۔“ (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، جلد 2، صفحہ 275 ، فقیہ ملت اکیڈمی)
محیط برہانی میں ہے
”ثم الشرکۃ إذا کانت بالمال لا تجوز عناناً کان أو مفاوضۃ إلا إذا کان رأس مالہما من الأثمان التی لا تتعین فی عقود المبادلات نحو الدراہم والدنانیر، فأما ما یتعین فی عقود المبادلات نحو العروض، فلا تصح الشرکۃ بہا سواء کان ذلک رأس مالہما أو رأس مال أحدہما“
ترجمہ:پھر شرکت خواہ مفاوضہ ہویا عنان جب مال کے ساتھ ہو تواس وقت تک جائز نہیں ہوتی ، جب تک کہ دونوں کا سرمایہ اس ثمن کے قبیل سے نہ ہو جو عقودِ مبادلہ میں متعین نہیں ہوتا جیسا کہ درہم ودینار ،تو جو چیزیں عقودِ مبادلہ میں متعین ہوجاتی ہیں جیساکہ سامان تو اس کے ساتھ شرکت درست نہیں ،چاہے یہ سامان دونوں کا راس المال ہو یا ان میں سے ایک کا ۔(محیط برہانی ،کتاب الشرکۃ،الفصل الاول فی بیان انواع الشرکات،جلد6،صفحہ369، مطبوعہ کوئٹہ)
نوٹ: شرکت(جس میں دونوں فریق پیسے ملاتے ہیں) ہو یا مضاربت(جس میں ایک کا مال اور دوسرے کی محنت ہوتی ہے) دونوں کی شرائط مختلف ہیں ،یونہی کس کاروبار میں شرکت و مضاربت ہوسکتی ہے اس کے بھی مختلف شرعی احکام ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس طرح کا عقد کرنے سے پہلے دونوں فریقین کسی مستند مفتی صاحب سے شرعی راہنمائی لیں تاکہ صحیح طریقے سے رزق حلال کمایا جائے اور کاروبار میں برکت ہو۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
03شعبان المعظم 1445ھ14فروری 2024ء