شرکت و مضاربت کے متعلق بنیادی معلومات
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ شرکت و مُضاربت کیا چیز ہے؟اس کے متعلق بنیادی مسائل بتادیں۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
شِرکت: شرکت ایسے معاملہ کانام ہے جس میں دوافرادسرمایہ اورنفع میں شریک رہنا طے کریں۔یعنی دونوں فریقین پیسے ملائیں،اگرچہ برابر ملائیں یا کوئی کم اور کوئی زیادہ ملائے۔شرکت میں دونوں طرف سے پیسے ملانا ضروری ہے ایک کا پیسہ اور دوسری کی دوکان ،فیکٹری یا سامان ہو توا س سے شرکت نہ ہوگی۔
مُضارَبت :یہ تجارت میں ایک قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام ،مال دینے والے کو ربُ المال اور کام کرنے والے کو مُضارِب اور مالک نے جو دیا اُسے راسُ المال کہتے ہیں۔
یعنی شرکت میں دونوں طرف سے مال ہوتا ہے اور مضاربت میں ایک طرف سے مال اور دوسری طرف سے محنت ہوتی ہے۔شرکت میں نفع باہمی رضامندی سے کم و زیادہ کیا جاسکتا ہے لیکن نقصان اسی حساب سے ہوگا جس حساب سے رقم ملی ہوئی ہے جیسے ایک فریق نے پانچ لاکھ دیا ہے اور ایک نے دس لاکھ دیا ہے ،اب پانچ لاکھ دینے والا کام کرے گا اور نفع برابر لینا طے ہوتو جائز ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ نقصان بھی برابر ہو بلکہ نقصان دس لاکھ والے کو دگنا ہوگا۔یونہی شرکت چلتے کاروبار میں نہیں ہوسکتی بلکہ نئے سرے سے کاروبار کیا جائے یا کسی نئی آئیٹم میں شرکت کی جائے اور اس کا حساب الگ رکھا جائے۔
مضاربت میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ پیسوں میں ہو یعنی ایک بندہ دوسرے کو پیسے دے کہ اس پیسوں سے کاروبار کرو، سامان خرید کر بیچو اور جو نفع ہوگا وہ برابر ہوگا تو یہ درست ہے لیکن اگر نقصان ہوگا تو جس نےپیسے دیے ہیں سارا نقصان اسکو برداشت کرنا ہوگا اور محنت کرنے والے کی کوشش رائیگاں جائے گی۔
شرکت و مضاربت میں فکس نفع لینا طے نہیں کرسکتے یعنی یوں نہیں کہہ سکتے کہ میں نے دس ہزار نفع لوں گا بلکہ نفع فیصد کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ سوفیصد میں سے پچاس فیصد میرا یا ساٹھ فیصد میرا ہوگا۔
شرکت و مضاربت میں مزید بھی کافی تفصیل ہے،اس لیے جب بھی کوئی عقد کرنا ہو پہلے کسی مستند مفتی سے مشورہ کرلیا جائے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
”(أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض “
ترجمہ: شرکت مال کے ساتھ کرنا تو اس کی بھی شرط ہے اس میں سے یہ ہے کہ راس المال سرمائے کے ساتھ شرکت کرے جو کہ متعین ہو اور اس سرمائے کا تعین واضح ہو اور وہ درہم و دینار میں ہو کیونکہ شرکت اور مفاوضہ یہ عام علماء کے نزدیک ہے اور سامان میں شرکت جائز نہیں ہے۔(بدائع الصنائع ،كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط انواع الشركة، ج 6، ص59، دار الكتب العلمية)
وقایہ میں ہے
”ھی عقد شرکہ فی الربح بمال من رجل وعمل آخر۔۔۔۔ وشیوع الربح بینھما فتفسد ان شرط لاحدھما زیادۃعشرہ“
مضاربت میں نفع میں ایسی شرکت ہے جس میں ایک کا مال اور دوسرے کا کام ہوتا ہے اور پورا نفع دونوں میں تقسیم ہوگا اور اگر یہ شرط لگائی کہ دس سے اوپر ہی کسی ایک کا ہے تو مضاربت فاسد ہے ۔(شرح وقایہ ، کتاب المضاربہ ، جلد 4 ، صفحہ 243)
جوھرہ نیرہ میں ہے
”وما ھلک من مال المضاربہ فھو من الربح دون راس المال لان الربح لراس المال ۔۔۔۔۔قولہ وان زاد الھالک الربح فلا ضمان علی المضارب لان المال المضاربہ مقبوض علی وجہ الامانہ“
مال مضاربت میں نقصان ہوا تو نفع سے ہوا نہ کہ راسُ المال سے کہ نفع اصل مال کا تابع ہے ہاں اگر نقصان نفع سے زیادہ ہوا تو کام کرنے والے پر کوئی تاوان نہیں کہ یہ قبضہ امانت ہے۔(جوھرہ نیرہ ، کتاب المضاربہ ، جلد 1 ، صفحہ 296، مکتبہ خیریہ)
بہارشریعت میں ہے:
” جو کچھ نفع ہوا پہلے اس سے وہ اخراجات پورے کیے جائیں گے جو مضارِب نے راس المال سے کیے ہیں، جب راس المال کی مقدار پوری ہوگئی، اُس کے بعد کچھ نفع بچا، تو اُسے دونوں حسبِ شرائط تقسیم کرلیں اور نفع کچھ نہیں ہے تو کچھ نہیں۔“(بہارشریعت،جلد3،حصہ14،صفحہ25،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
مزید بہار شریعت میں ہے:
”مالِ مضاربت سے جو کچھ ہلاک اور ضائع ہوگا وہ نفع کی طرف شمار ہوگا ، راس المال میں نقصانات کو نہیں شمار کیا جاسکتا۔ مثلاً سو روپے تھے تجارت میں بیس روپے کا نفع ہوا اور دس روپے ضائع ہوگئے تویہ نفع میں منہا کئے جائیں گے یعنی اب دس ہی روپے نفع کے باقی ہیں ، اگر نقصان اتنا ہوا کہ نفع اس کو پورا نہیں کرسکتا مثلاً بیس روپے نفع کے ہیں اور پچاس کا نقصان ہوا تو نقصان راس المال میں ہوگا۔ مضارب سے کل یا نصف نہیں لے سکتا کیونکہ وہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں اگرچہ وہ نقصان مضارب کے ہی فعل سے ہوا ہو۔ ہاں اگر جان بوجھ کر قصداً اس نے نقصان پہنچایا مثلاً شیشہ کی چیز قصداً پٹک دی اس صورت میں تاوان دینا ہوگا کہ اس کی اسے اجازت نہ تھی۔“ (بہارِ شریعت ، جلد ، حصہ 14 ، صفحہ 19، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
03شعبان المعظم 1445ھ14فروری 2024ء
نظر ثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری