شب براءت کو عبادت کرنا اور قبرستان جانا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ “شب براءت” کی حقیقت کیا ہے نیز شعبان کی پندرہ تاریخ کو شب بیداری و دیگر عبادات کرنا، نوافل پڑھنا، قبرستان جانا کہاں سے ثابت ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: بعون المک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
لفظ “شب” کا معنی ہے “رات” اور “براءَت” کا معنی ہے “چھٹکارا و آزادی” تو “شب براءَت” کا مطلب یہ ہوا چھٹکارا پانے کی رات کیونکہ حدیثِ پاک میں فرمایا گیا ہے کہ اِس رات کو اللہ پاک بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اس رات اللہ پاک آسمانِ دنیا پر(اپنی شان وقدرت کے لائق) تجلی فرماتا ہے اور کروڑوں لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے، اس رات کثرتِ رزق بٹ رہا ہوتا ہے، دعاؤں کی قبولیت کے لمحات میں بے شمار رحمتوں وسعتوں سے نوازا جارہا ہوتا ہے اس رات نوافل پڑھنا،شب بیداری کرنا، قبرستان جانا،دیگر عبادات کرنا مستحب وباعثِ اجروثواب ہے اس رات عبادات میں مشغول رہنا ہمیشہ سے اسلافِ امت کا معمول رہا اور کثیر تعداد میں روایات اِس پر شاہد ہیں جن کو صرفِ نظر کرنا سراسر محرومی و ہوائے نفس کی اِتّباع ہے جبکہ اِن اعمالِ خیر کی ممانعت پر کوئی دلیل نہیں اور “عدم جواز کی دلیل نہ ہونا خود دلیلِ جواز ہے” اور غیر مقلدین کے امام ابن تیمیہ نے بھی شبِ براءَت کو عبادت کرنے کو درست لکھا۔
ترمذی شریف میں ہے:
”اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَم“
“ترجمہ: بے شک اللہ عزوجل پندرہ شعبان(شب براءت) کی رات کو اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے بالوں کی تعداد سے بڑھ کر لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔(سنن الترمذي، حدیث نمبر739)
ابن ماجہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
”إِنَّ ﷲَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ“
ترجمہ : بے شک اللہ رب العزت ماہ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو (اپنی مخلوق کی طرف) متوجہ ہوتا ہے، سو وہ مشرک اور کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے ۔(ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، 1: 445، رقم1390، چشتی)
سنن ابن ماجہ میں ہےحضرت علی کرم ﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
”اذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا فَإِنَّ اﷲَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا کَذَا؟ أَلَا کَذَا؟ حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ“
ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس کی رات کو قیام کیا کرو اور اس کے دن روزہ رکھا کرو، بے شک ﷲ تعالیٰ اس رات اپنے حسبِ حال غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کوئی رزق طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کوئی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں؟ کیا کوئی ویسا نہیں؟ یہاں تک کہ طلوعِ فجر ہو جاتی ہے۔(السنن ابن ماجه،1: 444، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی ليلة النصف من شعبان، رقم1388)
شعب الایمان میں ہے:
”فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول: ألا مستغفر فأغفر له؟ ألا مسترزق فأرزقه؟ ألا مبتلى فأعافيه؟ ألا سائل فأعطيه؟ ألا كذا ألا كذا؟ حتى يطلع الفجر“
ترجمہ: بے شک اللہ تبارک و تعالی اپنی شان کے مطابق 15 شعبان(شب براءت) کی رات نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشش کے طلب گار کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی رزق کا طلب گار کہ اسے رزق دوں، ہے کوئی تکالیف و مسائل سے دوچار کہ اسے عافیت دوں، ہے کوئی سائل کہ جسے میں عطا کروں،اسی طرح بہت کچھ فرماتا ہے، یہاں تک کہ فجر طلوع ھو۔(شعب الإيمان ,5/354)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
”إِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ فِيهَا الذُّنُوبَ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ“
ترجمہ: بے شک اللہ تبارک و تعالی 15شعبان(شب براءت)کی رات کو اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے اور تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک کے اور سوائے اس کے کہ جو(ناحق)بغض و کینہ عداوت رکھے۔(سنن ابن ماجه، حدیث نمبر1390)
المصنف عبد الرزاق میں ہےحضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں:
”خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين“
ترجمہ: پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں۔ (عبد الرزاق المصنف، 4/ 317، رقم7927، چشتی)
المصنف میں ہے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا، تو تلاش میں نکلی، تو
”فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو“
یعنی میں نے دیکھا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بقیع قبرستان میں ہاتھ اٹھائے دعا فرما رہے تھے. (پھر فرمایا: نصف شعبان کی اس رات اللہ پاک بنی کلب کی بکریوں سے زیادہ کے گناہ بخش دیتا ھے).
(المصنف,6/108حدیث29858)
ابن ماجہ اور شعب الایمان میں ہے:
”إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَھا“
ترجمہ: جب پندرہ شعبان(شب براءت) آئے تو اس رات قیام اللیل (رات میں عبادت) کرو اور اس دن کا روزہ رکھو۔(ابن ماجہ حدیث1388) (شعب الإيمان ,5/354حدیث نمبر3542)
فیض القدیر میں ہے:
”ليلة نصف شعبان روي في فضلها من الأخبار والآثار ما يقتضي أنها مفضلة ومن السلف من خصها بالصلاة فيها وصوم“
ترجمہ: 15شعبان یعنی شب براءت کی فضیلت کے متعلق احادیث وغیرہ وارد ہوئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس رات کی بڑی فضیلت ہے اسی لیے اسلاف اس رات نوافل پڑھتے تھے روزہ رکھتے تھے ۔[فيض القدير ,2/316]
النهر الفائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
”وليلة النصف من شعبان، ولا خفاء أنه يكون في كل عبادة تستوعب الليل أو أكثره“
ترجمہ: نصف شعبان یعنی شب براءت کو شب بیداری کرنا جائزوثواب ہے یعنی ساری رات یا اکثر رات کا حصہ نیکیوں میں، عبادات میں گزارا جائے۔ (النهر الفائق شرح كنز الدقائق ,1/297)
الرائق شرح كنز الدقائق:
”وَمِنْ الْمَنْدُوبَاتِ إحْيَاءُ لَيَالِي الْعَشْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَلَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ وَلَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ كَمَا وَرَدَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ وَذَكَرَهَا فِي التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ مُفَصَّلَةً وَالْمُرَادُ بِإِحْيَاءِ اللَّيْلِ قِيَامُهُ“
ترجمہ: رمضان شریف کی آخری دس راتیں اور عیدین کی راتیں اور عشرہ ذوالحجہ کی راتیں اور پندرہ شعبان کی راتیں ، ان راتوں کو شب بیداری کرنا ثواب ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے اور الترغیب و الترہیب میں اس پر تفصیلی کلام کیا گیا ہے۔شب بیداری سے مراد یہ ہے کہ عبادات نیکیوں وغیرہ کے ساتھ رات گزاری جائے ۔(الرائق شرح كنز الدقائق ,2/56)
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے:
”النصف من شعبان لإحيائها وعظم شأنها“
ترجمہ: پندرہ شعبان کی رات یعنی شب براءت کو شب بیداری کرنا مستحب و ثواب ہے، کیونکہ اس رات کی بڑی شان ہے ۔(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص48)
فتاوی شامی میں ہے:
”وَإِحْيَاءُ لَيْلَةِ الْعِيدَيْنِ، وَالنِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَالْعَشْرِ الْأَخِيرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْأُوَلُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَكُونُ بِكُلِّ عِبَادَةٍ تَعُمُّ اللَّيْلَ أَوْ أَكْثَرَهُ“
یعنی عیدوں کی راتوں کو اور نصف شعبان کی رات (یعنی شب براءت) کو اور رمضان کے آخری عشرے اور ذوالحج کے پہلے عشرہ کو شب بیداری کرنا مستحب و ثواب ہے… شب داری سے مراد یہ ہے کہ پوری رات عبادت کی جائے یا اکثر رات عبادت کی جائے ۔(رد المختار فتاوی شامی ,2/25)
ان احادیث کے ساتھ فقہی جزئیات دیوبندیوں پر حجت ہیں کہ جو خود کو تو حنفی کہتے ہیں لیکن عقائد میں وہابیوں کی تقلید کرتے ہوئے اس رات عبادت اور صبح روزہ رکھنے کو بدعت کہتے ہیں۔ نیز وہابی غیر مقلدوں کے کئی مولوی بھی ان احادیث کی صحت کو مانتے ہیں جیسے البانی وغیرہ اوروہابیوں کا امام ابن تیمیہ نے اس رات میں عبادات وقیام کے متعلق سوال کے جواب میں لکھا:
”سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب : إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن“
ترجمہ: ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے ۔ (مجموع فتاوی ابن تيميه، 23: 131)
واللہ ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
14شعبان المعظم1445/ 25فروری2024ء