سلام پھیرتے وقت کون سے الفاظ ضروری ہیں؟
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ نماز میں سلام پھیرتے وقت کون سے الفاظ کہے جائیں اور ان کا حکم کیا ہے ؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق لفظ السلام کے ساتھ نماز سے خارج ہونا واجب ہے اور علیکم واجب نہیں ہے البتہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے دائیں جانب سلام پھرتے ہوئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے یہاں تک کہ دائیں رخسار نظر آجائے پھر بائیں جانب سلام پھیرے کہ بائیں رخسار نظر آجائے اور وبرکاتہ کا اضافہ نہ کرے اور نماز میں دونوں طرف السلام کہنا مواظبت کے سبب سے واجب ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
”ثم یسلم تسلیمیتین تسلیمہ عن یمینہ و تسلیمہ الاولی وجھہ عن یمینہ حتی یری بیاض خدہ الایمن و فی التسلیمہ الثانیہ عن یسارہ حتی یری بیاض خدہ الایسر وفی القنیہ ھو الاصح ھکذا فی شرح النقایہ للشیخ ابی المکارم ویقول السلام علیکم ورحمتہ اللہ کذا فی المحیط المختار ان یکون السلام بالالف والام وکذلک فی التشھد کذا فی الظھیریہ“
ترجمہ: پھر دو سلام پھیرے پہلا سلام دائیں جانب دوسرا بائیں جانب پہلے سلام میں داہنی طرف اس طریقے سے منہ پھیرے کہ اس کے داہنے گالوں کی سفیدی دکھنے لگے یونہی دوسری طرف کو بھی منہ پھیر دے کہ بائیں جانب گال دِکھ جائے اور یہ قنیہ میں موجود ہےاور یہی صحیح ہے ،ایسا ہی شیخ ابو المکارم کی شرحِ نقایہ میں ہے اور اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اللهِ کہے ایسا محیط میں ہے اور مختار یہ ہے کہ السلام الف لام کے ساتھ کہے اسی طرح تشہد میں الف لام کے ساتھ سلام کہے یہ ظہیریہ میں موجود ہے۔(فتویٰ ھندیہ، کتاب الصلوة ،جلد 1 ، صفحہ 85، دار الفکر بیروت)
ھدایہ میں ہے
”ثم یسلم عن یمینہ فیقول السلام علیکم ورحمتہ اللہ ومثل ذلک لما روی ابن مسعود ان النبی علیہ السلام کان یسلم عن یمینہ حتی یری بیاض خدہ الایمن وعن یسارہ حتی یری بیاض خدہ الایسر“
ترجمہ:پھر اپنی دائیں طرف سلام پھیرے پھر کہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ اور اپنی بائیں جانب اسی کے مثل کیونکہ ابن مسعود نے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے حتی کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی اور بائیں جانب یہاں تک کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔(ھدایہ ، کتاب الصلاۃ ،جلد 2 ، صفحہ 72 ، مطبوعہ کراچی)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے
”وأقل ما يجزئ في لفظ السلام مرتين عند الحنفية ” السلام ” دون قوله ” عليكم ". وأكمله وهو السنة أن يقول: ” السلام عليكم ورحمة الله ” مرتين“
ترجمہ:اور فقہ حنفی میں جو کم پر کفایت کرے گا وہ لفظ السلام ہے اور اس میں علیکم داخل نہیں اور اور اکمل سلام سنت کے مطابق یہ ہے وہ دو مرتبہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے۔(الموسوعة الفقهية الكويتية ، التسليم للخروج من الصلاة، ج: 11، ص: 316، مطبوعہ ،دارالسلاسل)
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے
”و” يجب "لفظ السلام” مرتين في اليمين واليسار للمواظبة ولم يكن فرضا لحديث ابن مسعود "دون عليكم” لحصول المقصود بلفظ السلام دون متعلقه ويتجه الوجوب بالمواظبة عليه أيضًا“
ترجمہ:اور لفظ سلام دو مرتبہ دائیں اور بائیں جانب مواظبت کے سبب سے واجب ہے فرض نہیں ہے حدیث ابن مسعود میں ہے کہ اس میں علیکم داخل نہیں اور حصول مقصود کے لیے لفظ السلام بغیر کسی اضافے کے مواظبت کے سبب سے واجب ہے۔(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ، كتاب الصلاة، فصل في واجب الصلاة، ص 95،المكتبةالعصرية)
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے
”و” يسن ” الالتفات يمينا ثم يسارا بالتسليمتين” لأنه صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه فيقول السلام عليكم ورحمة الله حتى يرى بياض خده الأيمن وعن يساره السلام عليكم حتى يرى بياض خده الأيسر. فإن نقص فقال: السلام عليكم أو سلام عليكم أساء بتركه السنة وصح فرضه ولا يزيد وبركاته لأنه بدعة وليس فيه شيء ثابت“
ترجمہ:اور سنت یہ ہے کہ دائیں جانب منہ کرے پھر بائیں جانب منہ کرکے دو سلاموں کے ساتھ سلام پھیرے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے دائیں جانب تو کہتے السلام علیکم ورحمتہ اللہ یہاں تک کہ آپکے دائیں رخسار کی سفیدی نظر آجاتی پھر بائیں جانب السلام علیکم کہتے یہاں تک کہ بائیں جانب کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی۔اگرکم الفاظ کہے جیسے السلام علیکم یا سلام علیکم ، تو اس نے برا کیا کہ یہ ترک سنت ہے اور فرض صحیح ہو جائے گے ۔اور وبرکاتہ کا اضافہ نہ کرے کہ یہ بدعت ہے اور یہ ثابت نہیں ہے۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح كتاب الصلوة، فصل في بيان سننها، ص274، دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے
”(ولفظ السلام) مرتين فالثاني واجب على الأصح برهان، دون عليكم.(قوله: دون عليكم) فليس بواجب عندنا“
ترجمہ:اور لفظ سلام دو مرتبہ کہے اور اصح قول کے مطابق دوسرا سلام بھی واجب ہے اور علیکم واجب نہیں ہے ۔(قوله: دون عليكم) اور علیکم ہمارے نزدیک واجب نہیں ہے۔(فتاویٰ شامی ،كتاب الصلاة، واجبات الصلاة، ج 1،ص 468، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
درمختار میں ہے
”قائلا السلام علیکم ورحمتہ اللہ ھو السنہ وصرح الحدادی بکراھہ علیکم السلام وانہ لا یقول ھنا وبرکاتہ وجعلہ النووی بدعہ وردہ الحلبی (ھو السنہ) قال فی البحر وھو علی وجہ الاکمل ان یقول السلام علیکم ورحمتہ اللہ مرتین فان قال السلام علیکم او السلام او سلام علیکم او علیکم السلام اجزاء کان تارکا للسنہ وصرح فی السراج بکراھہ الاخیر“
ترجمہ:اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے کہ یہ سنت ہے اور الحددی نے علیکم السلام کے کراہت کی تصریح فرمائی ہے اور یہاں وبرکاتہ نہ کہے اور امام نووی نے وبرکاتہ کو بدعت کہا ہے جبکہ الحلبی نے اس کا رد کیا ہے۔ اور بحر میں ہے کہ اکمل طریقہ یہ کہنا ہے کہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ دو مرتبہ اگر السلام علیکم یا السلام یا سلام علیکم یا علیکم السلام کہا تو جائز ہو جائے گا اور سنت کو ترک کرنے والا ہوگا السراج میں آخری کلمے کی کراہت کی تصریح فرمائی ہے۔(درمختار ، جلد 2، صفحہ 294، دار المعرفۃ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”اَ لسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ دو بار کہنا۔ پہلے داہنی طرف پھر بائیں طرف۔داہنی طرف سلام میں مونھ اتنا پھیرے کہ داہنا رخسار دکھائی دے اور بائیں میں بایاں۔عَلَیْکُمُ السَّلام کہنا مکروہ ہے۔ یوہیں آخر میں وَ بَرَکاتُہٗ ملانا بھی نہ چاہیے۔“ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 3 صفحہ 539 مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
25رجب المرجب 1445ھ06فروری 2024ء