ستونوں کے درمیان صف بنانا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کے پلر کے درمیان صف بنانے کا کیا حکم ہے ؟اگر یہ منع ہے تو جمعہ و عیدین میں جب رش زیادہ ہو تو کچھ رخصت نکلے گی؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بغیر ضرورت سُتونوں کے درمیان صف بنانا مکروہ و ناجائز ہے، کیونکہ اس سے قَطعِ صف لازم آتا ہے اور قطع صف بحکمِ حدیث ممنوع وناجائز ہے۔ ہاں اگر کوئی عُذر ہو یعنی مسجد کشادہ نہ ہو، نَمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ تنگ ہو جیساکہ جمعہ و عیدین میں یا باہَر بارش ہو اور صف ٹیڑھی ہونے کی صورت بھی نہ ہو تو سُتونوں کے درمیان بھی کھڑے ہو سکتے ہیں ۔
سنن ابنِ ماجہ میں ہے:
”عن معویۃ بن قرۃ عن ابیه رضي ﷲ تعالیٰ عنہ قال کنا ننھی ان نصف بین السواری علی عھد رسول ﷲ ونطرد عنھا طردا“ ترجمہ:قرہ بن ایاس مزنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ کے زمانہ میں ہمیں دو ستونوں کے بیچ صف باندھنے سے منع فرمایا جاتا اور وہاں سے دھکے دے کر ہٹائے جاتے تھے۔(سنن ابن ماجہ باب الصّلوٰۃ بین السواری فی الصف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی صفحہ71)
جامع ترمذی میں ہے:
”عن عبدالمجید بن محمود قال صلینا خلف امیر من الامراء فاضطرنا الناس صلینا بین الساریتین فلما صلینا قال انس بن مالک رضی ﷲ عنہ کنا نتقی ھذا علی عھد رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم“
ترجمہ:عبدالمجید بن محمود کہتے ہیں ہم نے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبورکیا، ( بعد فراغت) انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس سے بچتے تھے۔(جامع الترمذی باب ماجاء فی کراھیۃ الصف بین السواری مطبوعہ امین کمپنی دہلی ج1 ص31)
سنن ابو داؤد میں ہے رسول ﷲ صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من وصل صفا وصلہ ﷲ ومن قطعہ قطعہ ﷲ“
ترجمہ:جس نے صف کو ملایا ﷲ پاک اسے ملائے گا اور جس نے صف کو قطع کیا ﷲ پاک اسے قطع فرمائے گا۔(سنن ابوداؤد، باب تسویۃ الصفوف ج1،ص97،مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور حدیث نمبر673)
عمدۃ القاری شرحِ بخاری میں ہے حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:
”لاتصفوا بین الاساطین واتموا الصفوف“
ترجمہ: ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو۔(عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلوٰۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ج4،ص286،مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ بیروت)
عمدۃ القاری میں مزید ہے:
”قال مالک فی المدونۃ لاباس بالصلاۃ بینھما لضیق المسجد ثم ذکر قول ابن حبیب اقول ولا یخفی انہ مستقیم علی قواعد مذھبنا“ ترجمہ: امام مالک مدوّنہ میں فرماتے ہیں جب مسجد تنگ ہو تو دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے میں حرج نہیں۔ پھر اُنھوں نے ابن حبیب کا قول نقل کیا ہے کہ مخفی نہ رہے یہ ہمارے مذہب کے قواعد پر درست ہے۔(عمدۃ القاری شرح البخاری باب الصلاۃ بین السواری فی غیر جماعۃ ج4،ص286، ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”اور بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز ، ہاں اگر کثرت ِجماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لئے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یونہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے، والضرورات تبیح المحظورات۔“ (فتاوی رضویہ ج3 ص42 رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
وقار الفتاوی اورفتاوی امجدیہ میں ہے:
” بلا ضرورت مقتدیوں کا دروں میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کہ قطع صف ہے اور قطع صف ممنوع ہے حدیث میں ارشاد فرمایا جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا جس نے صف کو قطع کیا اللہ تعالیٰ اس اسے قطع کرے گا۔“ (فتاویٰ امجدیہ،جلدا،٫ص163،مکتبہ رضویہ کراچی)
مزید لکھتے ہیں :
”دروں میں کھڑے نہ ہوں کہ مکروہ ہے ہاں اگر مصلیوں کی کثرت ہے کہ مسجد بھر گئی اور آ دمی باقی ہیں تو دروں میں کھڑے ہوں کہ یہ کھڑا ہونا بضرورت ہے اور مواضع ضرورت مستثنی ہیں در،خارج مسجد نہیں ہے،اس میں کھڑا ہونا اس لئیے مکروہ و ممنوع ہے کہ صف قطع ہوتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔“ (فتاویٰ امجدیہ ،جلد1ص174,مکتبہ رضویہ،کراچی)
واللہ و رسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
بابر عطاری مدنی اسلام آباد
16جمادی الاخری1445ھ/ 29دسمبر2023ء