حضرت خضر علیہ السلام ولی ہیں یا صحابی یا نبی؟

حضرت خضر علیہ السلام ولی ہیں یا صحابی یا نبی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ حضرت خضر صحابی ہیں یا نبی ہیں؟ مدلل طور پر ارشاد فرمائیں۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حضرت خضر علیہ السلام کا ولی و صحابی ہونا تو ثابت ہے ،ان کے نبی ہونے میں اختلاف ہے۔ حق و معتمد اور صحیح و راجح قول یہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں۔

تفسیر جلالین میں ہے:

”اتیناہ رحمۃ من عندنا نبوۃ فی قول وولایۃ فی اخرو علیہ اکثر العلماء“

ترجمہ:ہم نے اسے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی ایک قول میں رحمت سے مراد نبوت ہے اور دوسرے قول میں ولایت مراد ہے اسی پر اکثر ہیں۔(تفسیر جلالین سورہ کہف آیت:65 مطبوعہ کراچی)

تفسیر صاوی میں ہے:

”(قولہ نبوۃ فی قول)ای وقد صححہ جماعۃ والجمہور علی انہ حی الی یوم القیمۃ لشربہ من من ماء الحیاۃ… وقد اجتمع برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم واخذ عنہ فھو صحابی“

ترجمہ :اور مصنف کا قول کہ ایک قول میں رحمت سے نبوت مراد ہے اور ایک جماعت نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ جمہور اس پر ہیں کہ آپ قیامت تک زندہ ہیں کیونکہ آپ نے آب حیات سے پیا ہے۔ اور تحقیق آپ نے حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی صحبت پائی، لہذا آپ صحابی ہیں۔(تفسیر صاوی سورہ کہف آیت:65 جلد2 صفحہ 1208 مطبوعہ لاہور)

تفسیر کبیر میں ہے:

”قال الاکثرون ان ذٰلک العبد کان نبیا“

ترجمہ: اکثر علمائ نے فرمایا کہ وہ نبی ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج 5 ص 514 سورہ کہف آیت:65)

تفسیر جمل میں ہے:

”اختلف فی الخضرا ھو نبی اورسول اوملک اوولی والصحیح انہ نبی“

ترجمہ:حضرت خضر کے بارے اختلاف ہے کہ وہ نبی ہیں یا رسول یا فرشتے یا ولی، صحیح یہ ہے کہ وہ نبی ہیں۔(حاشیہ جمل علی الجلالین سورہ کہف پارہ:15 آیت:65 بیروت)

امام ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی لکھتے ہیں:

”والجمهور على أن الخضر نبى “

ترجمہ:جمہور علما کا مؤقف یہ ہے کہ خضر علیہ السلام نبی ہیں۔( تفسیر البحر المحیط ج 6 ص 139 سورہ کہف آیت 65 )

عمدة القارى شرح صحیح البخاری میں ہے:

” الجمهور على انه نبى وهو الصحيح لان أشياء فى قصته تدل على نبوته و روى مجاهد عن ابن عباس انه كان نبيا وقيل كان وليا و عن على رضى الله تعالى عنه انه كان عبدا صالحا و قيل كان ملكا بفتح اللام و هذا غريب جدا “

ترجمہ:جمہور اس پر ہیں کہ خضر علیہ السلام نبی ہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ آپ کے قصہ کی خبریں آپ کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت کی کہ آپ نبی ہیں اور ایک قول یہ کہ ولی ہیں۔ اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی کہ صالح بندے ہیں اور ایک قول یہ کہ آپ فرشتے ہیں مگر یہ قول بعید ہے۔( عمدة القارى باب حدیث الخضر مع موسی ج 11 ص 132 بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”اور سیدنا خضرعلیہ السلام بھی جمہورکے نزدیک نبی ہیں اوران کوخاص طور سے علم غیب عطاہواہے،قال اللہ تعالیٰ’ وعلمناہ من لدنا علما(اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اورہم نے اسے اپنا علم لدنی عطافرمایا. کہف:65)“(فتاوی رضویہ جلد 26، مسئلہ212 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فتاوی فیض الرسول میں ہے:

”حضرت خضر علیہ السلام ولی تھے یا نبی؟ اس میں مفسرین کرام کا بڑا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ وہ اکثر کے نزدیک نبی نہیں تھے۔ مگر حضرت علامہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: وہ اکثر کے نزدیک نبی ہیں۔ اور علامہ سلیمان جمل لکھتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ وہ نبی ہیں۔“( فتاوی فیض الرسول ج 1 ص 39 مطبوعہ شبیر برادرز لاھور ملتقطاً)

فتاوی شارح بخاری میں ہے:

”ان کی نبوت پر دلیل یہ آیت کریمہ ہے کہ انھوں نے بچے کو قتل کیا تو اس کے بارے میں فرمایا ” وما فعلته عن امرى ” یہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان کو بذریعہ وحی اس بچے کے قتل کرنے کا حکم ہوا تھا اور وحی نبی ہی پر آتی ہے غیر نبی پر نہیں آتی ہے ۔“ ( فتاوی شارح بخاری ج 1 ص 557 )

حبیب الفتاوی میں ہے:

”حضرت خضر علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام… زندہ ہیں قرب قیامت میں ان کا وصال ہوگا۔ قولِ راجح پر وہ اللہ کے نبی ہیں۔ پہاڑوں، خشکیوں اور جنگلوں میں قیام فرماتے ہیں۔“(حبیب الفتاوی ،جلد 4، مسئلہ 64،شبیر برادرز)

فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:

”حق و صحیح اور محققین کے نزدیک معتمد و مرجح یہی ہے کہ سیّدنا خضر علیہ السلام نبی ہیں۔“(فتاوی تاج الشریعہ، جلد اول، مسئلہ81)

واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

6رجب المرجب 1445ھ

5 فروری 2024ء، پیر

اپنا تبصرہ بھیجیں