حضرت امیر معاویہ اور شہادتِ حضرت عمار بن یاسر
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ رافضیوں اور نیم رافضی ٹولے کے پاس سب سے بڑی جو دلیل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہے وہ بخاری شریف کی مشہور حدیث پاک ہے کہ حضور علیہ السلا م جب ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر ے تو ان کے سر کا غبار جھاڑتے ہوئے فرمایا :”عمار رضی اللہ عنہ کی اس حالت پر افسوس ہے کہ ان کو باغیوں کا ایک گروہ قتل کرے گا۔ عمار تم انہیں جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تمھیں جہنم کی طرف بلاتے ہونگے۔“ وہی تو قا تل عمار ابن یاسر تھا میرے نبی کی نظر میں جو شخص باغی ہو بتاؤ کس طرح اللہ اس سے راضی ہو یہ فیصلہ ہوا اصحاب کے جو قاتل ہیں وہ ظالمین عذاب خدا کے قابل ہیں
(بخاری الصحیح، كتاب الجهاد والسير ١٠٣٥/٣، مسلم الصحیح، حدیث ١١٥ )
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گروہ میں سے تھے اور اس جنگ میں شہید ہوئے اس لیے یہ رافضی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گروہ کو باغی قراردینے کے ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔نیز ایک شیعہ نے پچھلے دنوں ایک نوحہ پڑھا جس کے اشعار یہ تھے:
آپ اس حوالے سے رہنمائی ارشاد فرمائیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
واقعی رافضی اور نیم رافضیوں کے پاس سب سے بڑی دلیل جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہے وہ یہی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق حضور علیہ السلام کا فرمان ہے اس کے علاوہ یہ رافضی تاریخی موضوع روایات لے کر تبرا کرتے ہیں۔
ان اشعار میں رافضی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باغی اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا قاتل کہا اور ساتھ آخری شعر میں کثیر صحابہ کرام کو معاذ اللہ ظالم اور عذاب کا مستحق کہا ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ جانتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا ہے یا کسی اور نے چنانچہ مجمع الزوائد کی روایت ہے:
” عن حنظلة بن خويلد العنبري قال : بينا أنا عند معاوية إذ جاءه رجلان يختصمان في رأس عمار يقول كل واحد منهما : أنا قتلته . فقال عبد الله بن عمرو : ليطب به أحدكما نفسا لصاحبه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تقتله الفئة الباغية ۔۔ رواه أحمد ورجاله ثقات “
ترجمہ:حنظلہ بن خُویلد العنبری فرماتے ہیں کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا جب دو شخص حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر لے کر آئے ، دو شخص آپس میں جھگڑنے لگے ، ایک کہتا: میں نے اسے قتل کیا ہے اور دوسرا کہتا : میں نے قتل کیا ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپس میں جھگڑا مت کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ’’حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باغی گروہ شہید کرے گا۔اسے امام احمد نے روایت کیا اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
(مجمع الزوائد،جلد7،صفحہ490،دار الفكر، بيروت)
اس حدیث سے واضح ہورہا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید نہیں کیا بلکہ کوئی اجنبی لوگ تھے جنہوں نے شہید کیا۔
حدیث میں جس باغی گروہ کی بات کی گئی ہے وہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لشکر میں موجود خارجی گروہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عمار بن یاسر (رضی اللہ تعالی عنہ) کو قتل کیا اس سے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) بالکل مراد نہیں اور نہ ان کا نام موجود ہے ۔خارجی عناصر حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں کے لشکر میں شامل تھے اور واقعہ تحکیم کے بعد دونوں جماعتوں کے خلاف ہوگئے تھے۔ انہی عناصر میں سے کسی نے حضرت عمار کا قتل کیا تھا۔
علامہ عبد المصطفی ٰ اعظمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
” پھر یہ بات بھی یہاں ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ مصری باغیوں کاگروہ جنہوں نے حضرت امیرالمؤمنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا محاصرہ کرکے ان کو شہید کر دیا تھا یہ لوگ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لشکر میں شامل ہو کر حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے لڑ رہے تھے تو ممکن ہے کہ گھمسان کی جنگ میں انہی باغیوں کے ہاتھ سے حضرت عمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شہید ہوگئے ہوں۔ اس صورت میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بالکل صحیح ہوگا کہ ”افسوس اے عمار! تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کریگا“اور اس قتل کی ذمہ داری سے حضرت معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دامن پاک رہے گا۔“
(سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،صفحہ764،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
حدیث عمار میں یہ الفاظ بھی وارد ہوے ہیں کہ باغی جماعت جہنم کی طرف بلانے والی ہوگی۔ یہی صفت خوارج کی بیان کی گئی ہے۔ بخاری کے الفاظ ہیں: ”دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها“ ترجمہ:جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے، جو شخص ان کی دعوت قبول کرے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے۔
(صحیح البخاری،جلد9،صفحہ51،دارطوق النجاۃ،مصر)
شرح مسلم میں قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ (544ھ)اس فرمان کی شرح میں لکھتے ہیں: ”من كان من الأمراء والسلاطين يدعو إلى بدعة أو ضلالة؛ كأصحاب المحنة والقرامطة والخوارج “ ترجمہ:جو حکمران و بادشاہ میں سے بدعت و گمراہ کی طرف بلاتا ہو جیسے اصحاب مُحنہ ،قرامطہ اور خوارج ۔
(اکمال المعلم بفوائد مسلم،جلد6،صفحہ257، دار الوفاء،مصر)
اگرباغی گروہ سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جماعت بھی لی جائے تو اس سے مراد وہ بغاوت نہیں جو گناہ و گمراہی ہے کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عما ر بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جماعت کو باغی نہیں بلکہ اپنے بھائی فرمایا ہے ۔
بہارشریعت میں ہے: ” عرفِ شرع میں بغاوت مطلقاً مقابلہ امامِ برحق کو کہتے ہیں، عناداً ہو، خواہ اجتہاداً ، ان حضرات پر بوجہ رجوع اس کا اطلاق نہیں ہو سکتا، گروہِ امیرِ معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر حسبِ اصطلاحِ شرع اِطلاق فئہ باغیہ آیا ہے ، مگر اب کہ باغی بمعنی مُفسِد ومُعانِد وسرکش ہو گیا اور دُشنام سمجھا جاتا ہے، اب کسی صحابی پر اس کا اِطلاق جائز نہیں۔ “ (بہارشریعت،حصہ1، صفحہ 260، مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
شیعوں کے معروف و معتبر عالم عبداللہ بن جعفر الحَمیری اپنی معتبر کتاب ”قُرب الاِسناد“ میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے: ”جعفر، عن أبيه: أن عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم، ولم نقاتلهم على التكفير لنا، ولكنا رأينا أنا على حق، ورأوا أنهم على حق “ ترجمہ : امام جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مدِمقابل (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کی لشکر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان سے لڑائی اس لئے نہیں کی کہ وہ ہمیں یا ہم ان کو کافر سمجھتے تھے لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے اپنے آپ کو اور ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا ۔
(قرب الاسناد ، الحميري القمي ،صفحہ 93 )
دوسری روایت میں ہے: ”جعفر، عن أبيه: أن عليا لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق، ولكنه كان يقول: هم إخواننا بغوا علينا “ ترجمہ : امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد امام باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مدمقابل (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ،ہمارے خلاف ہوگئے۔
(قرب الاسناد، الحميري القمي ،صفحہ94)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
”عن زياد بن الحارث، قال: كنت إلى جنب عمار بن ياسر بصفين وركبتي تمس ركبته فقال رجل: كفر أهل الشام فقال عمار: لا تقولوا ذلك نبينا ونبيهم واحد وقبلتنا وقبلتهم واحدة ; ولكنهم قوم مفتونون جاروا عن الحق فحق علينا أن نقاتلهم حتى يرجعوا إليه “
ترجمہ:زیاد بن حارث نے فرمایا کہ میں جنگ صفین کے موقع پر حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب تھا اور میں گھٹنہ ان کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ایک شخص نے کہا : اہل شام نے کفر کیا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ایسا نہ کہو ،ان کا اور ہمارا نبی ایک ہے، ان کا اور ہمارا قبلہ ایک ہے،لیکن وہ آزمائش میں مبتلا ہوئے اور حق سے جدا اور ہم پر ہے کہ ہم ان سے لڑیں جب تک وہ واپس نہیں آتے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ،جلد7،صفحہ،547،مکتبۃ الرشد،الریاض)
اس کے برعکس خارجیوں کے متعلق حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ کے کلمات بہت سخت تھے چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث پاک ہے:
’’عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ، مَوْلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْحَرُورِیَّۃَ لَمَّا خَرَجَتْ، وَہُوَ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالُوا:لَا حُکْمَ إِلَّا لِلَّہِ، قَالَ عَلِیٌّ:کَلِمَۃُ حَقٍّ أُرِیدَ بِہَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا، إِنِّی لَأَعْرِفُ صِفَتَہُمْ فِی ہَؤُلَاء ِ، یَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِہِمْ لَا یَجُوزُ ہَذَا، مِنْہُمْ، وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِہِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللہِ إِلَیْہِ ‘‘
ترجمہ: عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ خارجیوں کے خروج کے وقت وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، خوارج نے کہا اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کلمہ تو حق ہے لیکن اس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کا حال بیان کیا تھا میں ان میں ان لوگوں کی نشانیاں پہچان رہا ہوں یہ زبان سے تو حق کہتے ہیں مگر وہ اس سے تجاوز نہیں کرتا اور حلق کی طرف اشارہ فرمایا۔ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے ہاں یہی ہیں ۔
(صحیح مسلم،جلد2،صفحہ 749،حدیث1066،دار إحیاء التراث العربی،بیروت)
ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہ کی بغاوت خارجیوں کی طرح گمراہ کن نہ تھی ،لہذا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بخاری کی حدیث کو لے کر حضرت امیر معاویہ کو معاذ اللہ باغی و گمراہ ثابت کرنا ناجائز وحرام اور رافضیت ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقصد محض اپنی خلافت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے سے افضل اور خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے تاریخ الاسلام میں امام ذہبی (748ھ)لکھتے ہیں:
”قال أبو مسلم الخولاني وجماعة لمعاوية: أنت تنازع عليا هل أنت مثله فقال: لا والله إني لأعلم أن عليا أفضل مني وأحق بالأمر، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له: فليدفع إلي قتلة عثمان وأسلم له، فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه “
ترجمہ : حضرت ابومسلم خولانی اور ایک جماعت نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاکر پوچھا :آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے خلافت کے بارے میں تنازع کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جیسے ہیں؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :نہیں الله کی قسم میں جانتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو ظلماً قتل کردیا گیا؟ اور میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں ۔تم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ قاتلین عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو میرے حوالے کردیں اور میں یہاں کا نظام ان کے سپرد کر دوں گا ۔ ابو مسلم اور دیگر افراد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اوریہ بات کی ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاتلین کو ان کے سپرد نہ کیا۔
( تاريخ الإسلام ،جلد3،صفحہ540، دار الكتاب العربي،بيروت)
اس سے پتہ چلا کہ حضرت امیر معاویہ کا مطالبہ صرف قتل عثمان کا قصاص لینا تھا اور یہی بات مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مکتوب میں بھی موجود ہے : ” وكان بدء أمرنا أنا التقينا والقوم من أهل الشام. والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان “ ترجمہ : ہمارے معاملے کی ابتدا یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوے جب بظاہر دونوں کا خدا ایک تھا رسول ایک تھا پیغام ایک تھا نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلبگار تھے نہ وہ اپنے ایمان کو بڑھانا چاہتے تھے معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کے بارے میں تھا ۔
(نهج البلاغة، مکتوب 58،صفحہ448 )
دوسری بات یہ کہ فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ الفاظ کہ امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائیں گے ۔یہ ایسے الفاظ ہیں کہ جن سے امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ والے گروہ کی بھی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ والے گروہ کے ایمان اور مسلمان ہونے کی خود زبان نبوت نے تصدیق فرما دی اور صلح اور بیعت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کر کے امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہما نے اس کی تائید مزید فرما دی ۔ جبکہ خوارج باغیہ جماعت کے خلاف کثیر احادیث میں ان کی مذمت بیان ہوئی ہے بلکہ ان کو جہنم کے کتے بھی فرمایا ہے۔
دو مسلمانوں گروہ اور صلح کی حدیث شیعہ کتاب كشف الغمة میں بھی موجود ہے : ” روى عن أبي بكرة قال بينما رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يخطب إذ صعد إليه الحسن فضمه إليه وقال إن ابني هذا سيد وان الله عله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين عظمتين “ ترجمہ : ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ ارشاد فرمانے کے دوران یکا یک امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ منبر پر چڑھ گئے تو آپ نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور الله اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۔
(كشف الغمة ،جلد2،صفحہ320 )
اگر بالفرض حدیث عمار کے مطابق حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ باغی ٹھہرے تو پھر امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر کوئی بدباطن یہ اعتراض کرسکتا ہے امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خوارج کے ساتھ تو جہاد کیا اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کی بیعت نہ کی اور عظیم ہستیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا، لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نہ صرف بیعت کی بلکہ انہیں مسلمانوں کا امیر بھی بنا دیا کیا امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہ ایک باغی جہنمی کی بیعت کر سکتے ہیں اور انہیں سلطنت دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
باقی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہونا ایسا ہی ہے جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں دو صحابہ کرام حضرت زبیر اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما شہید ہوئے تھے۔
المستدرک میں ہے: ”عن زر بن حبيش، قال: كنت جالسا عند علي فأتي برأس الزبير ومعه قاتله، فقال علي: للآذن بشر قاتل ابن صفية بالنار، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لكل نبي حواري، وإن حواري الزبير“ ترجمہ: زر بن حبیش سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے پاس بیٹھا تھا، تو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر لایا گیا، اور ساتھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاتل تھا ، پس حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے دربان سے فرمایا: صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر سنا دو ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔
(المستدرك على الصحيحين، جلد نمبر3،صفحہ نمبر 414، مطبوعه: دار الكتب العلمية ، بيروت)
روافض کے ہاں معتبر ترین کتاب ” نهج البلاغة “کی شرح میں عبد الحمید بن ہبۃ الله المعروف ابن ابي الحديد (المتوفی:656ھ/1258ء) لکھتا ہے:
” قال له و أنت قتلته قال نعم قال و الله ما كان ابن صفية جبانا و لا لئيما و لكن الحين و مصارع السوء ثم قال ناولني سيفه فناوله فهزه و قال سيف طالما جلى به الكرب عن وجه رسول الله فقال ابن جرموز الجائزة يا أمير المؤمنين فقال أما إني سمعت رسول الله يقول بشر قاتل ابن صفية بالنار فخرج ابن جرموز خائبا“
ترجمہ: حضرت علی (کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) نے اس سے کہا: اور تم نے زبیر کو قتل کیا، اس نے کہا: ہاں، حضرت علی (کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) نے کہا: خدا کی قسم ابن صفیہ (حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نہ تو بزدل تھے اور نہ ہی گھٹیا (مطعون)، بلکہ مصیبت اور تکلیف کی سختیاں آن پڑیں۔ پھر آپ نے کہا: اس کی تلوار مجھے دو، اس نے تلوار آپ حوالے کر دی تو آپ نے اسے زور سے ہلایا، اور فرمایا: یہ وہ تلوار ہے جس کے ذریعے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے ہمیشہ غم کو دور کرتا تھا۔ جرموز نے کہا: “انعام، اے امیر المؤمنین!” آپ نے ارشاد فرمایا: “(انعام کیا مانگتا ہے) بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ابن صفیہ کے قاتل کو آگ کی خوش خبری دو۔” یہ سن کر ابن جرموز مایوس ناکام و نامراد ہو کر چلا گیا۔
(شرح نهج البلاغة، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 235-236، مطبوعه: مکتبة آیة الله العظمی المرعشي النجفي)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری
20رجب المرجب 1445ھ01فروری 2024ء
ماشاءاللہ بہت خوب جواب دیا ہے آپ نے مفی صاحب ماشاءاللہ جزاك اللهُ
ماشاءاللہ بہت خوب جواب دیا ہے آپ نے مفتی صاحب ماشاءاللہ جزاك اللهُ