جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر دینا
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر دینا کیسا ہے؟
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
صورت مستفسرہ کے مطابق جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر دینا سنت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے البتہ خطبہ اگر بلاعذر شرعی بیٹھ کر دیا تو بھی ج خطبہ ہو جائے گا لیکن سنت متوارثہ کی مخالفت کے سبب مکروہ ہے۔ البتہ خطیب اگر عمر رسیدہ یا معذور ہو تو وہ بیٹھ کر خطبہ دے سکتے ہیں مگر اس سے حاضرین کو مطلع کردیں تاکہ وہ خطیب کو متہم نہ کریں کہ وہ تارک سنت ہے اور بلاوجہ غلط فہمی کا شکار نہ ہو ۔
ہدایہ میں ہے
”ویخطب قائما علی الطھارۃ لان القیام فیھا متوارث ثم ھی شرط الصلوہ فیستحب فیھا الطھارۃ کالاذان ولو خطب قاعدا او علی غیر طھارہ جاز لحصول المقصود الا انہ یکرہ لمخالفہ التوارث وللفصل بینھا وبین الصلوۃ“
ترجمہ:اور خطبہ طہارت کے ساتھ اور کھڑے ہو کر پڑھے کیونکہ خطبہ میں کھڑا ہونا تو متوارث ہے پھر خطبہ نماز جمعہ کی شرط ہے تو خطبہ میں طہارت مستحب ہے جیسے اذان میں اور اگر بیٹھ کر یا بغیر طہارت کے دیا تو بھی جائز ہے کیونکہ مقصود حاصل ہوگیا مگر یہ مکروہ ہے توارث کی مخالفت کے سبب سے اور نماز اور خطبہ کے درمیان فاصلہ واقع ہونے کے سبب سے۔(ھدایہ ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ الجمعہ ، جلد 1 ، صفحہ 299، مطبوعہ کراچی)
البحر الرائق میں ہے
”وسن خطبتان بجلسہ بینھما وطہارہ قائما کما روی عن ابی حنیفہ “
ترجمہ:پاکی کی حالت میں اور کھڑے ہو کر خطبہ دینا سنت ہے اور دونوں کے درمیان بیٹھنا ہو جیسا کہ امام اعظم سے روایت ہے ۔(بحر الرائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ الجمعہ ، جلد 2 ،صفحہ 159 ، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
منحہ السلوک شرح تحفہ الملوک میں ہے
”ویخطب قائما طھارہ فلو خطب قاعدا او محدثا جاز وکرہ“
ترجمہ:خطیب کھڑے ہو کر پاکی کی حالت میں خطبہ دے اگر بیٹھ کر یا بے وضو خطبہ دیا تو خطبہ جائز ہو جائے گا مگر مکروہ ہے۔(منحہ السلوک شرح تحفہ الملوک، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ الجمعہ ، صفحہ 173 ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے
”ولو خطب خطبہ واحدہ او لم یجلس بینھما او بغیر طھارہ او غیر قائم جازت لحصول المقصود وھو الذکر الواعظ الا انہ یکرہ لمخالفہ التوارث “
ترجمہ:اور اگر ایک خطبہ دیا یا دونوں کے درمیان نہ بیٹھا یا بغیر طہارت کے یا بغیر کھڑے ہوئے خطبہ دیا تو اصل مقصود یعنی کہ ذکر ووعظ کے حصول کے سبب سے خطبہ ہو جائے گا لیکن سنت متوارثہ کی مخالفت کے سبب سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ الجمعہ، جلد 1، صفحہ 220 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے
”ان یخطب قائما فالقیام سنہ ولیس بشرط حتی لو یخطب قاعدا یجوز عندنا لظاھر النص وکذا روی عن عثمان انہ کان یخطب قاعدا حین کبرو او سن ولم ینکرو علیہ احدا من الصحابہ الا انہ مسنون فی حال الاختیار لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یخطب قائما فقال وروی عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخطب قائما او قاعدا فقال الست تقراء قولہ تعالیٰ وترکوک قائما ومنھا لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھکذا یخطب وکذا السنہ“
ترجمہ:کھڑے ہو کر خطبہ دینا اس طرح خطبے میں کھڑا ہونا سنت ہے حتی کہ اگر بیٹھ کر خطبہ پڑھ دے تو ہمارے نزدیک بظاہر نص کی بناء پر خطبہ جائز ہوگا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی مروی ہے کہ وہ بوڑھے اور عمر رسیدہ ہونے کے ہوجانے کے بعد بیٹھ کر خطبہ دیا کرتے تھے اور صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی اور یہ کہ حالت اختیار میں کھڑے ہونا مسنون ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے نیز مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے یا بیٹھ کر تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم قرآن مجید میں یہ نہیں پڑھتے وترکوک قائما اور انہوں نے آپ کو کھڑے ہوئے چھوڑ دیا پس خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طریقے پر خطبہ دیا کرتے تھے ۔(بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ الجمعہ ، جلد 1 ، صفحہ 258، دار الکتب العلمیہ بیروت)
فتویٰ شرعیہ میں ہے:
سوال ۔ہمارے یہاں مسجد میں ایک عالم صاحب جو عمر اور بیماری کی وجہ سے اس قدر ضعیف و کمزور ہیں کہ جمعہ کا خطبہ بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔
الجواب
صورت مسئولہ میں جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا مسنون ہے بغیر کسی خاص مجبوری و عذر معقول کے بیٹھ کر خطبہ پڑھنا گناہ ہے کہ اس سے سنت ترک ہوتی ہے سرور کائنات وصحابہ کرام وتابعین عظام نے ہمیشہ کھڑے ہو کر ہی خطبہ پڑھا ہے۔(فتاویٰ شرعیہ ، جلد 1 ،صفحہ 354، مطبوعہ ،شبیر برادرز)
فتاویٰ فیض الرسول میں ہے:
سوال
کیا خطیب کے لیے جائز ہے کہ وہ خطبہ منبر پر بیٹھ کر پڑھے اگر کھڑا ہونا دشوار ہو ؟
الجواب
حضرت صدر الشریعہ رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خطبہ جمعہ کے لیے خطیب کا کھڑا ہونا سنت ہے ۔
لہذا خطیب کے لیے اگر کھڑا ہونا دشوار ہو تو وہ بیٹھ کر خطبہ جمعہ پڑھ سکتا ہے لیکن حاضرین کو اس کی معذوری کا علم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ خطیب کو متہم نہ کریں کہ وہ بلاعذر شرعی ترک سنت کا عادی ہے لہذا ہر جمعہ کو خطبہ سے پہلے اعلان کردیا کریں کہ خطیب معذور ہیں اس لیے وہ بیٹھ کر خطبہ پڑھیں تاکہ نئے حاضرین غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔(فتاویٰ فیض الرسول ، جلد 1 ، صفحہ 391، شبیر برادرز)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
07رجب المرجب 1445ھ19جنوری 2024ء