تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں کو چھونا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ تکبیر تحریمہ کہتے وقت کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھانا چاہیئے یا کانوں کی لو کو ہاتھ لگانا چاہیے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے وقت دونوں ہاتھوں کو اس طور پر اٹھائے کہ دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کانوں کی لو یعنی نرم گوشت جو کان کا زیریں حصّہ ہے، اس کو چھو جائیں اور انگلیاں کانوں کے بقیہ حصے کے برابر ہو جائیں محاذاۃ کا یہی مطلب ہے کیونکہ ہاتھوں کے انگوٹھوں سے کانوں کی لو چھونے سے محاذاۃ یعنی ہاتھوں کی کانوں کے ساتھ برابری یقینی طور پر متحقق ہو جائے گی۔ اسی طرح فقہاء کرام نے مختلف روایات کے درمیان تطبیق دی ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح میں میں سنن ابوداؤد کے حوالے سے ہے:
”وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهٗ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وحَاذٰىْ بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلٰى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ“
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ ہاتھ تو کندھوں کے مقابل ہوگئے اور اپنے انگوٹھوں کو کانوں کے مقابل کردیا پھرتکبیر کہی۔ابوداؤد اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے انگوٹھے کانوں کی گدیوں تک اٹھاتے۔(مشکوٰۃ المصابیح،ج1، کتاب الصلاۃ، نماز پڑھنے کا طریقہ، مطبوعہ لاہور)
مرآۃ المناجیح میں ہے:
”الحمدللّٰہ! یہ وہی چیز ہے جو فقیر نے ابھی عرض کی تھی اور یہ حدیث ان تمام حدیثوں کی شرح ہےجن میں کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے اس حدیث نے ان دونوں کو جمع کردیا، حنفیوں کا اسی پرعمل ہے۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، نماز کا بیان، نماز پڑھنے کا طریقہ، جلد:2 ،حدیث نمبر:802، فیضان حدیث ایپ)
حدیث پاک میں ہے:
”عَنْ وَائِلِ بن حُجْرٍ، قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَا وَائِلَ بن حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا“
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا: حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔(المعجم الکبیر للطبرانی: ج9 ص144 رقم:17497، مجمع الزوائد: ج9 ص624 رقم الحدیث: 1605، البدر المنير لابن الملقن ج3 ص463)
الدر المختار میں ہے :
”(ورفع يديه) قبل التكبير، وقيل: معه (ماساً بإبهاميه شحمتي أذنيه) هو المراد بالمحاذاة؛ لأنها لاتتيقن إلا بذلك، ويستقبل بكفيه القبلة“
ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں کو تکبیر سے پہلے اٹھائے اور ایک قول یہ کہ تکبیر کے ساتھ اٹھائے۔ اپنے ہاتھ کے انگوٹھوں کے ساتھ اپنے دونوں کانوں کی لو کو چھوئے محاذاۃ یعنی کانوں کے برابر کرنے کی یہی مراد ہے۔ اس لئے کہ محاذاۃ کا یقین اسی کے ساتھ ہو گا اور ہاتھ کی ہتھیلیوں کو قبلہ رخ کرے۔(الدر المختار مع ردالمختار، صفۃ الصلٰوۃ، ج1،ص 482، دار الفکر بیروت)
ردالمختار میں ہے:
”(قوله: هو المراد بالمحاذاة) أي الواقعة في كتب ظاهر الرواية وبعض روايات الأحاديث كما بسطه في الحلية، ووفق بينها وبين روايات الرفع إلى المنكبين، بأن الثاني إذا كانت اليدان في الثياب للبرد كما قاله الطحاوي أخذاً من بعض الروايات، وتبعه صاحب الهداية وغيره، واعتمد ابن الهمام التوفيق بأنه عند محاذاة اليدين للمنكبين من الرسغ تحصل المحاذاة للأذنين بالإبهامين، وهو صريح رواية أبي داود قال في الحلية: وهو قول الشافعي، ومشى عليه النووي وقال في شرح مسلم: إنه المشهور من مذهب الجماهير“
ترجمہ:اور مصنف کا قول محاذاۃ، وہ جو واقع ہے ظاہر الروایہ کتب میں اور بعض احادیث میں، جیسا کہ اسے حلیہ میں تفصیل سے بیان کیا۔ اور ان روایات کے درمیان اور کندھوں تک ہاتھ اٹھانے کی روایات کے درمیان تطبیق یہ بیان کی ہے کہ دوسری صورت یعنی ہاتھ کندھوں تک اٹھانا اس وقت ہوگا جب ہاتھ سردی کی وجہ سے کپڑوں کے اندر ہوں جیسا کہ امام طحاوی نےبعض روایات سے اخذ کرتے ہوئے یہ قول اختیار کیا ہے۔ اور انہی کی پیروی کی صاحب ہدایہ وغیرہ نے اور ابن ہمام نے موافقت و تطبیق پر اعتماد کیا ہے کہ ہاتھوں کا کلائی سے کندھوں کے برابر ہونا یہ اس وقت حاصل ہو جائے گا جب انگوٹھے کانوں کے برابر ہوں۔ اور یہی امام ابو داؤد کی روایت میں صراحت ہے۔ حلیہ میں فرمایا یہ امام شافعی کا قول ہے اور اسی پر امام نووی چلے اور شرح مسلم میں فرمایا کہ جمہور کے مذہب میں یہی مشہور ہے۔(الدر المختار مع ردالمختار، صفۃ الصلوۃ، ج1،ص 482، دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو قبلہ رُو دونوں پاؤں کے پنجوں میں چار انگل کا فاصلہ کر کے کھڑا ہو اور دونوں ہاتھ کان تک لے جائے کہ انگوٹھے کان کی لَو سے چُھو جائیں اور انگلیاں نہ ملی ہوئی رکھے نہ خوب کھولے ہوئے بلکہ اپنی حالت پر ہوں اور ہتھیلیاں قبلہ کو ہوں ، نیت کر کے اﷲ اکبر کہتا ہوا ہاتھ نیچے لائے اور ناف کے نیچے باندھ لے۔“(بہار شریعت،ج1، حصہ3، نماز پڑھنے کا طریقہ، مکتبۃ المدینہ)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
21رجب المرجب1445ھ
2فروری2024ء،جمعہ