بغیر قراءت کیے رکوع کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک دن میں نے شاید دوسری رکعت میں صرف سجدے کی تسبیح پڑھی اور رکوع میں چلا گیا۔ پھر رکوع کے بعد دماغ نے فیصلہ کیا واپس آؤں اور قراءت کروں پھر آخر میں سجدہ سہوہ کروں۔ کیا واپس آنا ہوتا ہے یا صرف سجدہ سہوہ کرنا ہوتا ہے؟رہنمائی فرما دیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب
پوچھی گئی صورت کے مطابق فرض کی دونوں رکعات میں اور وتر و نوافل کی ہر رکعت میں قراءت کرنا فرض ہے اور اگر رکوع میں یاد آئے کہ قراءت نہیں کی تو اب واپس لوٹ کر قراءت کرے اور دوبارہ رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اور اگر قراءت ہی نہیں کی یا قراءت کے بعد دوبارہ رکوع نہیں کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
فتویٰ عالمگیری میں ہے
”حتی او لم یقراء فی واحدہ منہ او قراء فی واحدہ فسدت صلاتہ“
ترجمہ:اگر ایک رکعت میں بھی قراءت نہ کی یا صرف ایک رکعت میں قراءت کی تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔(فتاویٰ ھندیہ ،کتاب الصلاۃ، باب صفہ الصلاۃ ،جلد 1 ،صفحہ 77 ،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے :
”مطلقاً ایک آیت پڑھنا فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر و نوافل کی ہر رکعت میں امام و منفردپر فرض ہے۔۔۔۔۔فرض کی کسی رکعت میں قراء ت نہ کی یا فقط ایک میں کی، نماز فاسد ہوگئی۔“(بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 3، صفحہ 516، مکتبہ المدینہ کراچی)
ردالمختار میں ہے
”والتحقیق ان تقدیم الرکوع علی القراءہ مطلقا موجب لسجود السھو لکن اذا رکع ثم قام فقراء فان اعاد الرکوع صحت صلاتہ والا فسدت اما اذا رکع قبل القراءہ اصلا فظاھر واما اذا قرا الفاتحہ مثلا ثم رکع فتذکر السورہ فعاد فقراھا ولم یعد الرکوع فلان ما قراہ ثانیا التحق بالقراءہ الاولی فصار الکل فرضا فارتفض الرکوع“
ترجمہ : تحقیق یہ ہے کہ رکوع کو مطلق قراءت پر مقدم کرنا یہ سجدہ سہو کو واجب کرتا ہے،لیکن اس نے رکوع کیا پھر کھڑا ہوا پھر قراءت کی اگر اس نے رکوع کا ادا کیا تو اس کی نماز صحیح ہو جائے گی ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی مگر جب اصلا قراءت سے پہلے رکوع کیا تو یہ امر ظاہر ہے ،اگر اس نے سورۃ فاتحہ کی قراءت کی پھر اس نے رکوع کیا تو اسے سورۃ یاد آگئی تو وہ لوٹا اور قرات کی اور رکوع دوبارہ نہ کیا تو اس نے جو دوبارہ پڑھا تھا وہ پہلی قراءت کے ساتھ لاحق ہو جائے گا بس سب فرض ہو جائے گااور رکوع ختم ہو جائے گا ۔(ردالمحتار ،جلد 2 ،صفحہ 80، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”جو فعل نماز میں مکرر ہیں ان میں ترتیب واجب ہے لہٰذا خلاف ترتیب فعل واقع ہو تو سجدۂ سہو کرے مثلاً قراء ت سے پہلے رکوع کر دیا اور رکوع کے بعد قراء ت نہ کی تو نماز فاسد ہوگئی کہ فرض ترک ہوگیا اور اگر رکوع کے بعد قراء ت تو کی مگر پھر رکوع نہ کیا تو فاسد ہوگئی کہ قراء ت کی وجہ سے رکوع جاتا رہا اور اگر بقدر فرض قراء ت کر کے رکوع کیا مگر واجب قراء ت ادا نہ ہوا مثلاً الحمد نہ پڑھی یا سورت نہ ملائی تو حکم یہی ہے کہ لوٹے اور الحمد و سورت پڑھ کر رکوع کرے اور سجدۂ سہو کرے اور اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز جاتی رہی کہ پہلا رکوع جاتا رہا تھا۔“(بہار شریعت، حصہ 4 ،صفحہ 711 ،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
بنت عثمان
12جمادی الآخر 1445ھ25دسمبر 2023ء