امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد چندہ کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ دوسری اذان کے بعد خطبہ سے پہلے امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد چندہ جمع کرنا کیسا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
امام جب منبر پر بیٹھ جائے تو چندہ جمع کرنا درست نہیں بلکہ منع ہے۔ اس دوران تو کلام کے ساتھ نماز پڑھنا بھی منع ہے سوائے اس کے کہ صاحب ترتیب کی نماز فوت ہو تو وہ فوت شدہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
اس دوران چندہ کرنے میں یہ بھی خدشہ ہے کہ اس دورا ن خطبہ شروع ہوجائے اور خطبہ میں یہ سب جائز نہیں یونہی ہوسکتا ہے کہ چندہ جمع کرتے ہوئے کسی نمازی کے آگے سے گزر جائے جو کہ جائز نہیں۔ لہذا امام کے سلام پھیرنے کے بعد ہی چندہ جمعہ کیا جائے۔
تبیین الحقائق میں ہے:
’’اذا خرج الامام ای صعد علی المنبر فلا صلوۃ و لا کلام ‘‘
ترجمہ: امام جب منبر پر بیٹھ جائے ، تو اس وقت نہ نماز پڑھی جائے اور نہ ہی کلام کیا جائے۔ ( تبیین الحقائق، کتاب الصلوۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، جلد 1، صفحہ 223، مطبوعہ ملتان )
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:
”( إذا خرج الإمام)من الحجرة إن كان وإلا فقيامه للصعود شرح المجمع (فلا صلاة ولا كلام إلى تمامها…خلا قضاء فائتة لم يسقط الترتيب بينها وبين الوقتية) فإنها لا تكره سراج وغيره لضرورة صحة الجمعة وإلا لا“
ترجمہ:جب امام حجرہ سے نکلے اگر حجرہ ہو اور اگر اس کا حجرہ نہ ہو تو اس کا منبر پر چڑھنے کے لیے کھڑا ہونا، شرح الجمع میں ہے کہ اس وقت کوئی نماز اور کوئی کلام نہیں یہاں تک کہ خطبہ مکمل ہو جائے مگر ایسی فوت شدہ نماز کی قضاء کرنا، کہ اس کے درمیان اور وقتی نماز کے درمیان ترتیب ساقط نہ ہو تو وہ نماز مکروہ نہ ہوگی سراج وغیرہ میں ہے کیونکہ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے اس کی قضاء ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو مکروہ ہوگی۔(درمختار مع ردالمختار،کتاب الصلوہ، باب الجمعہ، جلد2، صفحہ 158، دار الفکر بیروت)
در مختار میں ہے:
’’کل ما حرم فی الصلوۃ حرم فیھا ای فی الخطبۃ فیحرم اکل و شرب وکلام ولو تسبیحاً او رد السلام او امر بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت بلا فرق بین قریب وبعید‘‘
ترجمہ:ہر وہ کام جو نماز میں حرام ہے، خطبے میں بھی حرام ہے، لہذا کھانا، پینا، کلام کرنا اگرچہ تسبیح ہو یا سلام کا جواب یا نیکی کا حکم ہو، دورانِ خطبہ حرام ہے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ (خطیب ) کا دور و نزدیک کا فرق کیے بغیر سنے اور خاموش رہے۔( در مختار، کتاب الصلوۃ، باب الجمعۃ، جلد 3، صفحہ 39، مطبوعہ پشاور )
فتاوی رضویہ میں ہے :
’’خطبہ کے وقت چندہ مانگنا خواہ کوئی بات کرنا حرام ہے ۔‘‘( فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 380، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہار شریعت میں ہے:
”جو چیزیں نماز میں حرام ہیں مثلاً کھانا پینا، سلام و جواب سلام وغیرہ یہ سب خطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ امر بالمعروف، ہاں خطیب امر بالمعروف کر سکتا ہے، جب خطبہ پڑھے تو تمام حاضرین پر سننا اور چپ رہنا فرض ہے، جو لوگ امام سے دور ہوں کہ خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچتی انھیں بھی چپ رہنا واجب ہے، اگر کسی کو بری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشارے سے منع کر سکتے ہیں زبان سے ناجائز ہے۔“(بہار شریعت،ج1، حصہ 4، جمعہ کا بیان، مسئلہ:60، مکتبۃ المدینہ)
فتاوی فیض الرسول میں ہے:
”عین خطبہ کے وقت اس طرح چندہ مانگنا جائز نہیں ہے کہ تمام حاضرین پر خطبہ سننا اور چپ رہنا فرض ہے بلکہ جو لوگ امام سے دور ہوں اور ان تک خطبہ کی آواز تک نہ پہنچے ان پر بھی چپ رہنا واجب ہے یہاں تک کہ جب امام خطبہ کے لیے نکلے اس وقت سے ہر قسم کی نماز اور اذکار ممنوع ہیں صرف صاحب ترتیب کو قضاء پڑھ لینے کا حکم ہے۔“(فتاویٰ فیض الرسول، جلد 1 ،صفحہ 391، مطبوعہ اکبر بک سیلرز)
نمازی کے آگے سے گزرنے کے متعلق بخاری شریف میں حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لو يعلم المار بين يدی المصلي ماذا عليه لكان ان يقف اربعين خيرا له من ان يمر بين يديه‘‘
ترجمہ: نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا وبال ہے، تو چالیس( سال )تک کھڑا رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔( صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب اثم المار بین یدی المصلی، جلد 1، صفحہ 73، مطبوعہ کراچی )
موطا امام مالک میں حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’لو یعلم المار بین یدی المصلی ماذا علیہ لکان ان یخسف بہ خیرا لہ من ان یمر بین یدیہ‘‘
ترجمہ : نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے، تو زمین میں دھنس جانے کو گزرنے سے بہتر جانتا۔( موطا امام مالک، کتاب قصر الصلوۃ فی السفر، باب التشدید فی ان یمر احد بین یدی المصلی، صفحہ 126، مطبوعہ لاھور )
واللہ اعلم تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
16جمادی الاولی1445ھ
1دسمبر2023ء