کیا مکۃ المکرمۃ حج یا عمرے کے علاوہ تجارت کے لیے جانا منع ہے؟
سوال:مفتی صاحب ، کیا کوئی ایسی روایت ہے کہ مکۃ المکرمۃ میں صرف حج و عمرہ کے لیے آؤ ، کام کاج کے سلسلے میں نہ آؤ ؟
(سائل :مبشر علی مدنی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
مکۃ المکرمہ میں تجارت، نوکری اور کام کاج کے لیے بھی جا سکتے ہیں، کسی بھی روایت میں بنیت تجارت وہاں جانے سے منع نہیں کیا گیا ، البتہ یہ بات لازمی یاد رہے کہ تجارت مقصود ہو یا کوئی بھی کام مکۃ المکرمۃ جانے والا شخص میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھے بغیر نہیں گزر سکتا،اور ظاہر سی بات ہے اب یہ شخص حج یا عمرہ ادا کیے بغیر حالت احرام کی پابندیوں سے باہر نہیں آ سکتا،لہذا اسے حج یا عمرہ کرنا لازم ہو جائے گا۔
فتاوی شامی میں ہے : يجب عليه قبل المجاوزة قال في الهداية ثم الآفاقي إذا انتهى إلى المواقيت على قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة عندنا أو لم يقصد لقوله صلى الله عليه وسلم ، لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما ولو لتجارة ، ولأن وجوب الإحرام لتعظيم هذه البقعة الشريفة، فيستوي فيه التاجر والمعتمر وغيرهما.
[ابن عابدين، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، كتاب الحج،٤٥٥/٢]
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
13 ذیقعدۃ الحرام 1445ء 23 مئی 2024ھ