کیا مسبوق پر بھی تکبیر تشریق واجب ہے؟
سوال:مفتی صاحب ، جس شخص کی تکبیر اولی چھوٹ جائےیا رکعت رہ جائے،کیا وہ بھی تکبیرات تشریق پڑھے گا یا نہیں؟
(سائل :ممبر فقہی مسائل گروپ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
تکبیر اولی اور رکعت چھوٹ جانے والے دونوں قسم کے مقتدیوں پر بھی تکبیرتشریق پڑھنا واجب ہے، اور مسبوق جب اپنی بقیہ نماز کا سلام پھیرے گا اُس وقت تکبیر پڑھے گا۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے : (والمسبوق يكبر) وجوبا كاللاحق لكن (عقب القضاء) لما فاته. یعنی مسبوق بھی وجوبی طور پر تکبیر کہے گا لیکن فوت شدہ کی قضاء کے بعد۔
[الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الصلاة ،باب العيدين ، صفحة ١١٤]
امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : وكذا يجب على المسبوق؛ لأنه مقتد تحريمة لكن لا يكبر مع الإمام ويكبر بعد ما قضى ما فاته. [تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة ،باب صلاة العيدين ، ٢٢٧/١]
بہار شریعت میں ہے : مسبوق و لاحق پر تکبیر واجب ہے، مگر جب خود سلام پھیریں اس وقت کہیں۔
(بہار شریعت،عیدین کا بیان،جلد 1،حصہ 4،مکتبۃ المدینہ)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کـتبـــــــــــــــــــــــہ
ابوالحسن محمد حق نوازمدنی
08 ذوالحجۃ الحرام 1445ء 15 جون 2024ھ